اسرائیل کا جنوبی لبنان میں کارروائیاں کم کرنے کا منصوبہ، نیتن یاہو اور وینس کے درمیان تناؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل کے چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان کے ییلو لائن علاقے میں اپنی افواج کی سرگرمیاں کم کر دے گی اور یہ فیصلہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد کیا گیا ہے۔ فریقین نے اس مفاہمت کے لبنان پر لاگو ہونے کی تصدیق کی ہے۔ زرد خطہ مشرق سے مغرب تک اسرائیل اور لبنان کی سرحد سے چند کلومیٹر شمال میں پھیلا ہوا ہے اور ایک مقام پر دریائے لیطانی کو عبور کرتا ہے۔ اس لائن کے جنوب میں واقع تقریباً 55 لبنانی قصبے اور دیہات اسرائیلی کنٹرول میں ہیں۔

کشیدہ فون کال کی تفصیلات

اسی تناظر میں اسرائیل کے چینل 13 نے وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان لبنان کے معاملے پر 48 گھنٹے پہلے ہونے والی ایک کشیدہ ٹیلی فونک گفتگو کا انکشاف کیا ہے۔ اس گفتگو کے دوران نیتن یاہو نے جے ڈی وینس سے اس معاہدے کی تفصیلات پر بریفنگ لی جو طے پا رہا تھا۔ چینل نے ذکر کیا کہ وینس نے نیتن یاہو سے لبنان سے مرحلہ وار انخلا کا مطالبہ کیا۔ اسرائیل نے لبنانی اراضی کے اندر رہنے اور مکمل انخلا نہ کرنے کی ضرورت پر اصرار کیا۔ چینل نے یہ بھی بتایا کہ اس نکتے پر دونوں کے درمیان ایک مفاہمت طے پا گئی ہے۔ اسرائیلی ٹی وی چینل نے گفتگو سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ یہ درست ہے کہ اسرائیلی فوج کا انخلا نہیں ہوگا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اب سے ہر فوجی آپریشن کی بہت زیادہ سخت جانچ پڑتال کی جائے گی۔

قدرے خاموشی

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پیر کو جنوبی لبنان میں لڑائی کی شدت میں کمی آئی ہے تاہم مقامی حکام نے بے گھر ہونے والے افراد کو اپنے گھروں کو جلدی واپس لوٹنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ اسرائیل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کے جنوب سے اپنی افواج کو پیچھے نہیں ہٹائے گا۔ لبنانی اور غیر ملکی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اس اعلان نے جنوبی لبنان میں قدرے خاموشی قائم کرنے میں مدد کی ہے تاہم ’’ العربیہ ‘‘ کی نامہ نگار نے رپورٹ کیا تھا کہ ایک اسرائیلی ڈرون حملے نے جنوبی قصبے کفر تبنیت کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور جاں بحق ہوگیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اگرچہ اسرائیلی حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن رپورٹس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ کچھ لبنانی قصبوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔ بیروت اور اس کے جنوبی مضافات (الضاحیہ) کے اوپر ایک ڈرون کو پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

اسرائیلی افواج کو نقل و حرکت کی آزادی نہیں ملے گی

دوسری طرف حزب اللہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ امریکی- ایرانی معاہدے کے اعلان کے بعد سے جماعت نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ عہدیدار نے زور دیا کہ جنگ بندی پر ان کا موقف اسرائیل کی جانب سے اس کی پاسداری کی حد سے جڑا ہوا ہے۔ عہدیدار ، جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے مزید کہا کہ حزب اللہ لبنانی سرزمین کے اندر اسرائیلی افواج کو نقل و حرکت کی آزادی دینے سے انکار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ معاہدے پر حتمی دستخط کو مؤخر کر دیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اسرائیل لبنان میں جنگ بندی کی پاسداری کرے گا۔

تاہم بعد میں حزب اللہ نے اعلان کیا کہ انہوں نے جنوبی لبنان میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنے والی اسرائیلی افواج پر راکٹ اور ڈرون فائر کیے ہیں۔ واضح رہے لبنان امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے اثرات سے بری طرح متاثر ہوا ہے کیونکہ جنوب، بقاع اور بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تقریباً 3800 افراد جاں بحق اور تقریباً 12 لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی افواج نے جنوب کے درجنوں قصبوں اور دیہاتوں میں پیش قدمی کی ہے اور 50 سے زیادہ علاقوں کو تباہ کر کے گھروں کو ملبے اور ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں