جرمن جوڑے کا بائیسکل پرسعودی عرب کاچکر، گذشتہ نوماہ میں کئی ملکوں کی سیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

جرمنی سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا اپنے آبائی وطن میں ’’سب کچھ چھوڑچھاڑ‘‘کربائیسکل پر دنیا کی سیرکونکلا ہے اور سائیکلنگ کی مہم کے نویں مہینے میں وہ اس وقت سعودی عرب کا چکرلگارہا ہے۔

ماحولیاتی ماہرین جولیا اور ٹلمین شولنہیمر نے دنیا میں کاربن کے اخراج کوکم کرنے کی کوشش میں کسی طیارے پرسفرکی قسم کھائی ہےاوروہ دنیا کو دیکھنے کے لیے بائیسکل دوڑا رہے ہیں۔

وہ ملکوں اور شہروں کے درمیان صرف سائیکل چلاتے ہیں اورکبھی کبھارکشتی کے ذریعےسفرکرتے ہیں۔یہ جوڑی جسم وروح کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے درکارہرچیزکوساتھ لے کرنکلتی ہے۔وہ بنیادی طورپرچاول ،سبزیوں اور کیلوریزکوبڑھانے کے لیےعجیب وغریب سافٹ ڈرنک استعمال کرتے ہیں۔ان کی زیادہ ترراتیں خیموں میں گذرتی ہیں۔

انھوں نے ریگستانوں کوعبورکیا ہے، بارش اور گرج چمک کا سامنا کیا ہے،وہ کبھی توگہرے کیچڑمیں پھنس گئے ہیں،اور یہاں تک کہ مہسا امینی کی موت پرایران میں ہونے والااحتجاج بھی دیکھا ہے۔پھر بھی اس جوڑے کو مستقبل قریب میں اس مہم جوئی کا کوئی اختتام نظرنہیں آتا ہے۔

ان کا سفراپریل میں جرمنی کے وسطی شہر ہیسن سے شروع ہوا تھا۔جب انھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ انھیں جرمنی کی تحفظِ ماحول اتھارٹی میں ملازمت کو کچھ وقت کے لیے ترک کرکے اپنی روزمرہ کی زندگی کے معمولات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

جولیا اور ٹلمین نے اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں اوراپنا سامان اسٹوریج یونٹ میں پیک کیا۔پیکنگ کے دوران میں ٹلمین کو ایک پینٹنگ ملی جو اس نے بچپن میں کی تھی۔اس میں اس نے خود بنائی ہوئی سیل بوٹ میں دنیا بھرمیں سفر کرنے کے اپنے خواب کی عکاسی کی تھی۔

شرمیلے پن اورہچکچاہٹ نے اسے ایک نوجوان بالغ کے طور پر بیرون ملک مہم جوئی کرنے سے روک دیا تھااور وہ اسکول اور یونیورسٹی میں سفر کرنے کے متعدد مواقع سے محروم ہوگیا تھا۔

انھوں نے آٹھ دن تک سعودی عرب کے ریگستان میں سائیکل چلائی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے الریاض کے ایک کیفے میں العربیہ انگریزی کو بتایا کہ "مجھے ہمیشہ کچھ نہ کچھ تلاش کرنے میں دلچسپی رہی ہے۔ "لیکن ایک بچے کے طور پر،ایک نوجوان کے طور پر اور ایک نوجوان بالغ کے طور پر، میں انتہائی شرمیلاتھا اور میں نے کبھی کچھ کرنے کی ہمت نہیں کی کیونکہ میں ایسا کرنے کے لیے کافی بہادر نہیں تھا‘‘۔

لیکن وہ خواب پر قائم رہا، اورآخر میں جولیا کو اس خیال کوعملی جامہ پہنانے کے لیے قائل کرنے میں کامیاب رہا۔وہ اس کے ساتھ شامل ہونے سے گریزاں تھی ، ہررات خیمے میں سونے کے خیال سے خوش نہیں تھی،لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ اس کے جوش و خروش سے متاثرہوگئی۔

وہ جرمنی سے آسٹریا، جمہوریہ سلوواکیہ ، ہنگری ، کروشیا ، بلقان ، یونان ، ترکی ، جارجیا ، آرمینیا اور ایران کے راستے متحدہ عرب امارات تک پہنچے ہیں۔

وہ اس سفر میں خاص طورپرعمان سے متاثر ہوئے ، جہاں انھوں نے متحدہ عرب امارات اورسرحد پار سعودی عرب تک سائیکل چلانے سے پہلے ایک مہینہ گزارہ تھا۔

'مثبت طور پر حیران'

اگرچہ ان کے ابتدائی منصوبہ میں انھیں ایران سے جنوب مشرقی ایشیا اور بالآخرچین کے راستے مشرق کی طرف سفرجاری رکھنا تھا ، لیکن میانمار میں خانہ جنگی اور چین کی کووڈ 19 کی پابندیوں کی وجہ سے سرحدوں کی بندش نے انھیں متبادل پرغورکرنے پر مجبور کردیا۔

اس کے علاوہ یوکرین کی جنگ نے روس کے راستے سفرکوناممکن بنادیا اورپھ سعودی عرب ان کے لیے ایک پُرکشش آپشن بن گیا۔ ملک نے صرف حالیہ برسوں میں سیاحوں کوویزا جاری کرنا شروع کیا ہے، اور آن لائن ای ویزا کے نظام کا مطلب یہ ہے کہ وہ گھنٹوں کے معاملے میں آن لائن ضروری کاغذی کارروائی حاصل کرنے کے قابل تھے۔

ایک ایسے ملک کے لیے جو اتنے عرصے سے سیاحوں کے لیے بند تھا۔جولیا نے وضاحت کی کہ انھیں یقین نہیں تھا کہ مقامی لوگ ان کا کیسا استقبال کریں گے۔

ٹلمین نے مزید کہا:’’میرے خیال میں سعودی عرب کی اب بھی جرمنی میں جو تصویر ہے،وہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں بہت سخت قوانین نافذ ہیں اور جہاں آپ کو آزادانہ طور پرنقل و حرکت کی اجازت نہیں ہے لیکن ہمارا مجموعی تاثر یہ ہے کہ ہم مثبت طور پر حیران ہیں‘‘۔

متجسس مقامی افراد ان کے ساتھ پیٹرول اسٹیشنوں اور رُکنے کی جگہوں پربات چیت کرتے ہیں۔انھوں نے جلد ہی محسوس کیا کہ پوری مملکت میں لوگ سوشل میڈیا کے لیے سائیکل سواروں کے ساتھ تصویر کھینچوانے کے خواہاں ہیں۔

پولیس کی ایک گشتی کاراس جوڑے کو لے کردیہی علاقوں سے گذری ہے اور اس نے وضاحت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ جولیا اور ٹلمین شاہراہوں پر محفوظ رہیں یکن مسافروں کو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ انھیں جرمنی میں واپس آنے والی پابندیوں کے بغیر ، جہاں چاہیں کیمپ لگانے کی اجازت ہے۔

ایک رات اس جوڑے نے الریاض کے باہر ایک ویران دفتر کی عمارت میں آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کامل پناہ گاہ ثابت ہوا کیونکہ بارش اورگرج چمک کی ایک نایاب رات نے دارالحکومت میں جل تھل ایک کردیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ مملکت میں اب تک کے سفر کا سب سے خطرناک حصہ دارالحکومت میں ہی داخل ہونا تھا۔بارش کی وجہ سے سڑکوں پر پانی بھر گیا تھا اور رش کے اوقات میں ٹریفک معمول سے بھی زیادہ تھالیکن آخر کار وہ مرکز میں پہنچ گئے اور ایک مقامی میزبان کے ساتھ رہے جس نے انھیں اپنے گھر میں مدعو کیا تھا۔

ان کے پورے سفر کے دوران میں سعودی شہریوں نے ان کی بھرپور مہمان نوازکی ہے ۔ وہ ان مسافروں کو اپنے ساتھ رہنے کی دعوت دیتے ہیں اور انھیں کھانا پکاکردیتے ہیں۔

ایک کشش جو جولیا اورٹلمین الریاض میں دیکھنا چاہتے ہیں وہ سینماگھرہیں۔یہ عوامی تفریح پردہائیوں سے عاید پابندی ختم ہونے کے بعد 2018 میں ہی کھولے گئے تھے۔

دارالحکومت کی سیرکے بعد ،سائیکل سواروں نے مغرب میں طائف جانے کا ارادہ کیا ہے ،جہاں انھیں امید ہے کہ وہ مشہور ببون سے ملاقات کرسکتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کتوں اور بلیوں کو پالتو جانوروں کے طور پر رکھتے ہیں۔

اس کے بعد وہ سائیکل چلا کر جدہ جائیں گے جہاں وہ سوڈان جانے والی ایک اور کشتی پکڑیں گے اور مصر سے ہوتے ہوئے سعودی عرب واپس آئیں گے تاکہ مملکت کے شمالی حصے کو دیکھ سکیں اور وہاں سے اردن جا سکیں۔

جولیا اور ٹلمین خاص طور پر منصوبہ بند میگا شہر نیوم میں دلچسپی رکھتے ہیں، جوقابل تجدید توانائی کی پیداوار اور استعمال کا ایک بڑا مرکز ہوگا۔ٹلمین اپنے اس سفر کو روکنا نہیں چاہتے ہیں اور وہ جرمنی لوٹنے کے بعد ایک اور سفر پر روانہ ہونا چاہتے ہیں لیکن اس مرتبہ ان کا رُخ افریقا کی جانب ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں