سعودی عرب میں مالی فراڈ کے جرائم کے لیے خصوصی استغاثہ قائم

سعودی اٹارنی جنرل نے منظوری دیدی، روایتی اور الیکٹرانک جرائم کے ماہرین کی خدمات لی جائیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی اٹارنی جنرل اور پبلک پراسیکیوشن کونسل کے چیئرمین شیخ سعود المعجب نے ’’پراسیکیوشن فار فنانشل فراڈ کرائمز‘‘ کے نام سے خصوصی استغاثہ کے قیام کی منظوری دے دی۔

یہ استغاثہ مالی فراڈ کے جرائم کے خلاف کام کرے گا۔ مالی فراڈ کے ملزموں کے خلاف عدالتی طریقہ کار اپنایا جائے گا، ملزموں سے تفتیش کرکے ان کے خلاف مجاز عدالتوں میں فوجداری مقدمات درج کرائے گا۔

شیخ سعود المعجب کا فیصلہ مذکورہ بالا استغاثہ کے حوالے سے مخصوص عدالتی شرائط کی وضاحت کرنے کے لیے آیا ہے ۔

اس فیصلے میں مالی فراڈ کے رویے اور اس کے مجرمانہ اثرات پر مشتمل مجرمانہ طریقوں کی تحقیقات پر بات کی گئی ہے۔ اس میں متاثر ہونے والے مالی اور اقتصادی مفادات کا خیال رکھا گیا ہے۔

افراد، اداروں، تجارتی اور مالیاتی اداروں کے حقوق کے تحفظ کی بابت بات کی گئی ہے۔ فریقین کے کنٹرول، پبلک پراسیکیوشن اور ایک متحد خصوصی استغاثہ میں مجازعدالتوں کے درمیان مشترکہ تعزیری کارروائی کو جوڑا گیا ہے۔

روایتی اور الیکٹرانک مالیاتی فراڈ کے مقدمات میں قانونی طریقہ کار کی سرعت اور نظم و نسق میں تعاون کرنے کے لیے طریقہ کار پر بات کی گئی ہے۔

استغاثہ دفاتر کے قیام کے ذریعہ پبلک پراسیکیوشن مالی فراڈ کے جرائم کے ماہرین کے ساتھ ان کی مدد کرنے کا خواہاں ہے۔ ان ماہرین نے اس طرح کے مجرمانہ نمونوں میں تفتیش اور پبلک پراسیکیوشن کے شعبے میں خصوصی ترقیاتی پروگرام مکمل کر رکھے ہیں اور انہیں دھوکہ دہی کے ذریعہ کی گئی چوریوں کے مجرموں اور فنڈز کو ٹریک کرنے طریقوں سے آگاہی ہوگی۔

خیال ر ہے کہ یہ فیصلہ پبلک پراسیکیوشن کی مالی فراڈ کے جرائم سے متعلق پارلیمانی کام کو فروغ دینے اور مالیاتی پراسیکیوشن سے وابستہ تفتیشی یونٹوں سے ان نئے پراسیکیوشن دفاتر تک اپنے خصوصی کام کی کارکردگی کو بڑھانے میں دلچسپی کی توسیع کے طور پر آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں