متحدہ عرب امارات:وزن میں کمی کے لیے ذیابیطس کے انجکشن کی مانگ میں زبردست اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متحدہ عرب امارات میں مکینوں کی ایک بڑی تعداد ملک بھر میں ہیلتھ کلینکس، دواخانوں اور اسپتالوں کا رُخ کررہی ہے لیکن کس لیے؟کیا وہاں کوئی وہاں کوئی نئی وبا پھوٹ پڑی ہے؟نہیں،بلکہ یہ سب لوگ وزن میں کمی کے لیے ذیابیطس کے مرض کے علاج کے لیے مخصوص سیکسینڈا اور اوزمپک کے ٹیکے لگوانا چاہتے ہیں اور وہی خرید کرنے کے لیے دواخانوں کا رُخ کررہے ہیں۔

دبئی میں ڈاکٹروں نے العربیہ کوبتایا کہ ٹک ٹاک پر ویڈیوزاورانسٹاگرام پراشتہارات میں اس دوا کو ضدی چربی کے معجزاتی علاج کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جس کے بعداس میں لوگوں کی دلچسپی عروج پر پہنچ گئی ہے جبکہ رہائشیوں کوخبردارکیا گیا ہے کہ وہ صرف اس دوا کولینے کے لیے فارمیسی میں نہیں جا سکتے ہیں۔

العربیہ نے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ کس طرح ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر وزن کم کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی دوائیں – عام طور پر ذیابیطس کا علاج کرنے والے انجکشن – لوگوں کے خیال سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ رجحان نے ایسی ادویہ کی عالمی قلّت کو مزید ابترکردیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں این ایم سی رائل ہاسپٹل، ڈی آئی پی، دبئی کے ماہر اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر اشون پنکج کشن نے بتایاکہ اس دوا کے لیے "دلچسپی میں کافی اضافہ" ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’حال ہی میں، یواے ای سمیت دنیا بھر میں سیماگلوٹائڈ (اوزمپک) کے استعمال میں کافی اضافہ ہوا ہے، کیونکہ ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پراثرورسوخ رکھنے والے اوزمپک کی وزن کم کرنے کی دوا کے طور پرتشہیرکررہے ہیں اوراس کو مقبول بنا رہے ہیں‘‘۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’’ہم ہفتے میں کم ازکم چار ایسے مریضوں کو دیکھتے ہیں جو وزن کم کرنے کی دوا کے طور پراستعمال کرنے کے لیے اوزمپک کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتے ہیں۔اس کی وجہ سے دنیا بھر میں اس دوا کی قلت پیدا ہو گئی ہے اورذیابیطس کے مریضوں کے لیے ان ادویہ کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے‘‘۔

ڈاکٹر پنکج کشن نے کہا کہ سیماگلوٹائڈ (اوزیمک) اور لیراگلوٹائڈ (سیکسنڈا) نئی دوائیں ہیں جو ذیابیطس کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں۔امریکا کی وفاقی ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے) نے موٹاپے کے انتظام کے لیے بھی ان کی منظوری دی ہے۔

سیماگلوٹائڈ ہفتے میں ایک بار انجکشن لگانے والی دوا ہے لیکن متحدہ عرب امارات کے صحت حکام کی طرف سے غیر ذیابیطس کے افراد میں وزن میں کمی کے لیے ابھی تک منظوری نہیں دی گئی ہے۔لیراگلوٹائڈ وزن میں کمی کے لیے روزانہ ایک بار منظورشدہ انجکشن ہے اور گذشتہ کئی سال سے دستیاب ہے۔

انھوں نے مزیدکہا:’’لیکن ہفتہ وار ایک بار کام کرنے کے انتظام نے سیماگلوٹائڈ کو یومیہ لیے جانے والے سیکسنڈا کے مقابلے میں بہت مقبول بنادیا ہے۔ "سیماگلوٹائڈ متعدد طریقوں سے کام کرتا ہے۔یہ دماغ میں بھوک کے مراکز پر کام کرکے جلد ہی راحت و تسکین کا احساس پیدا کرتا ہے۔ یہ پیٹ خالی کرنے کو بھی سست کرتا ہے اور عام طور پر، کیلوری کی مقدار کو کم کرتا ہے۔

ضمنی اثرات

تاہم، ڈاکٹر نے ان دواؤں کے ضمنی اثرات کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔’’سیماگلوٹائڈ متلی، قے، اسہال، قبض اور دیگر معدے کی علامات کا سبب بن سکتا ہے۔اگرچہ یہ دوائیں موٹاپے کے انتظام میں اچھی طرح سے مؤثرہیں ، لیکن یہ صرف موٹاپے کے معالج یا اینڈوکرائنولوجسٹ کے ساتھ ان ادویہ کو لینے کے فوائد اور نقصانات پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد لی جانا چاہیے‘‘۔

انھوں نے مشورہ دیا کہ جب تک اس دوا کی دستیابی میں رکاوٹیں برقرار رہتی ہیں، لوگوں کو صرف وزن میں کمی کے لیے اس دوا کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ذیابیطس کے مریضوں کوان کے نسخے کی ادویہ میں کمی کا سامنا نہ ہو۔

ادویہ کی قلّت

ابوظبی کے الریم جزیرے کے برجیل ڈے سرجری سینٹر میں میڈیکل ڈائریکٹر اور انٹرنل میڈیسن کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر فادی بالادی نے بتایا کہ طلب کی وجہ سے پہلے ہی اوزمک کی قلّت پیدا ہوچکی ہے۔

لوگوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے وزن کم کرنے کے حل کے طور پر ذیابیطس کے انجکشن لگوانے کا رجحان ہے۔ یہ تجویز کردہ دوائیں ہیں جو صرف فارمیسی میں آنے والے کسی بھی شخص کو نہیں دی جاسکتی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا:’’اس وقت ہمارے پاس جو کمی ہے وہ اوزیمک جیسی ادویہ کی ضرورت سے زیادہ مانگ کی وجہ سے ہے۔ یہ دوا موٹاپے کے لیے ایف ڈی اے سے منظورشدہ ہے،اس میں توکوئی اختلاف نہیں مگردیکھنا یہ ہے کہ یہ انجیکشن لگوانے والا مریض معیار پر پورا اترتا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا، 'ضرورت سے زیادہ مانگ اور نقل و حمل کے مسائل کی وجہ سے ان انجیکشنوں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ایسے کیسوں میں، ہم مریضوں کو اسی طرح کے اجزاء کے ساتھ تیار کردہ ادویہ کا انتخاب کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ہم مریضوں کو ان متبادلات کے بارے میں سمجھاتے ہیں جن کے پاس ایف ڈی اے کی منظوری نہیں اورانھیں خطرات سے آگاہ کرتے ہیں۔ یہ دوائیں دوبارہ صرف اسی صورت میں فراہم کی جاتی ہیں جب وہ اہلیت کے معیارپرپورا اترتے ہیں۔

ڈاکٹر بالادی کے مطابق موٹاپا ایک دائمی کیفیت ہے جسے دو سے تین ماہ تک دوائیاں لینے سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ مریض کو موٹاپا کم کرنے کے لیے زندگی بھر کا عزم کرنے کی ضرورت ہے اور طرزِزندگی میں تبدیلی پر غور کیا جانا چاہیے۔

معالجین اس طرح کی ادویہ تجویز کرنے سے پہلے بی ایم آئی اور دیگرعوامل سمیت معیار کا احتیاط سے جائزہ لیتے ہیں۔مذکورہ انجیکشن کے امیدوار کا انتخاب ایک ایسے معالج کے ذریعہ کیا جانا چاہیے جواہل ہو۔ بے قابو ذیابیطس اور وزن کے مسائل والے افراد ان ادویہ کے ترجیحی امیدوار ہیں،الّا یہ کہ ان میں ان کے کوئی دوسرے ضمنی اثرات ظاہر نہیں ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر بالادی کے مطابق اس دوا کے کچھ دیگر ضمنی اثرات میں جگر، گردے، لبلبہ اور تھائی رائیڈ کے مسائل شامل ہیں لیکن اس طرح کے ضمنی اثرات کی نگرانی اور کنٹرول معالج کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، یہ دوائیں کسی ایسے شخص کے لیے نہیں جو کچھ اضافی کلوگرام کے ساتھ گھوم رہا ہے مگرجم نہیں جانا چاہتا ہے۔یہ دوائیں طرزِزندگی میں تبدیلی کا متبادل نہیں ہیں کیونکہ انھیں روکنے کے فوراً بعد وزن بڑھنے کا امکان ہے۔

رواں ہفتے کے اوائل میں دبئی کے میڈی کلینک پارک ویو ہسپتال میں کلینیکل ڈائٹیشن اوروزن کم کرنے ی ماہر ڈاکٹر مونا جمعہ نے بھی نشان دہی کی تھی کہ ان ادویہ کا مطالعہ یا دیگر مریضوں پر تجربہ نہیں کیا گیا ہے۔اگرآپ اس معیارپرپورا نہیں اترتے ہیں جس کے لیے ان دواؤں کومنظور کیا گیا ہے تو انھیںمحفوظ نہیں ہے۔ ان کا مطالعہ نہیں کیا گیا ہے یا دیگرمریضوں میں استعمال کے لیے منظور نہیں کیا گیا ہےاور ان میں اس کے اثرات معلوم نہیں ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ جن لوگوں نے ان میں سے کچھ ادویہ کا استعمال بند کر دیا ہے ، چاہے وہ انھیں تجویز کی گئی ہوں ،ان کے بلڈ پریشر میں اضافہ دیکھا گیا ہے اوران کے کولیسٹرول اور بلڈ گلوکوز کی سطح میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں