وسطی سعودی عرب میں شہاب ثاقب کے گرنے کا پُراسرار منظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوشل میڈیا پرگردش کرنے والی ایک ویڈیو میں سعودی عرب میں شہاب ثاقب کے گرنے کا منظر دکھایا گیا ہے۔ شہاب ثاقب گرنے کا واقعہ ریاض کے شمال مغرب میں دوادمی گورنری میں پیش آیا جہاں شہابیہ اچانک زمین پر گرتا ہوا نظر آیا اور اس کے حصے بکھر گئے۔

دوسری طرف ماہر موسمیات عبدالعزیز الحسین نے اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ "نجد کے علاقے میں ایک شہابیہ کوایک تیز روشنی دکھائی دی، ساتھ ہی انہوں نے ایک جھٹکا محسوس کیا اور اس کے گرنے کی زور دار آواز سنی۔

ٹویٹر صارفین کا کہنا ہے کہ شہابیہ روشنی کا ایک نظر آنے والا شہابیہ ہے جو اس وقت بنتا ہے جب ایک شہابیہ زمین کے مدار میں داخل ہوتا ہے اور ایک آگ کے گولے کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ دھماکہ خیز شہابیہ سے بڑا ہوتا ہے۔ جس کا مطلب پروجیکٹائل یا چمک ہوسکتا ہے۔ ہمیں اس کے اثرات کی صحیح نوعیت کا علم نہیں ہے۔

اسی سطح پر جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینیر ماجد الزاہرہ نے کہا کہ یہ روشن شہابیہ جسے ’آگ کا گولہ‘ بھی کہا جاتا ہے عام شہابیہ سے بڑا ہے۔

اس نے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ توجہ حاصل کی جہاں بہت سے لوگوں نے اسے انتہائی چمکدار نیلے رنگ میں دیکھنے کی تصدیق کی۔ اس نے زمین کی سطح کو روشن کیا اور اس کے ساتھ ایک تیز آواز بھی تھی جس کا مطلب ہے کہ یہ فضا میں بہت گہرائی سے اترا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ شہاب ثاقب کے اپنی تیز رفتاری کے باعث بکھرنے کے نتیجے میں ارتعاشی لہروں کا ایک سلسلہ پیدا ہو گا اور امکان ہے کہ اس کے چھوٹے حصے ہوا میں جل جانے کے بعد زمین کی سطح پر پہنچے ہوں گے۔ دنیا بھرمیں ایسا ہی ہوتا ہے۔

جہاں تک نیلے اور سفید رنگ کا تعلق ہے تو شہاب ثاقب کی غالب ساخت آگ کے گولے کے مشاہدہ شدہ رنگوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ کچھ عناصر بخارات بنتے وقت الگ رنگ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر سوڈیم ایک چمکدار پیلا رنگ پیدا کرتا ہے۔ نکل سبز دکھائی دیتی ہے اور میگنیشیم نیلے اور سفید دکھائی دیتا ہے لیکن یہ ماحولیاتی حالات یا یہاں تک کہ ایک کیمرے کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی ویڈیو بنانے والے شخص نے شہاب ثاقب کے تمام زاویوں کو شامل نہیں کیا، اس لیے اس کے تمام پہلوؤں کی وضاحت کا امکان کم ہے۔

ابو زاہرہ نے مزید کہا کہ شہاب ثاقب کی بارش عام طور پر ایک کنکر یا چاول کے دانے کے سائز کی ہوتی ہے جو زمین کی سطح تک پہنچنے سے بہت پہلے ماحول کے اوپری حصے میں جلتی ہے، لیکن وقتاً فوقتاً ایک بہت بڑا جسم جسے آگ کا گولہ کہا جاتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ شہابیے زمین کے بیرونی مدار میں داخل ہوتے ہیں اور 40,000 سے 257,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کرتے ہیں۔ تیزی سے سست ہوجاتے ہیں کیونکہ انہیں ہوا کے بادلوں سے رگڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ رگڑ بہت زیادہ گرمی پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے شہابیہ بخارات میں بدل جتا ہے، یا جل جاتا ہے اور چمک کر ختم ہوجاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size