العلا کی تاریخی مسجد ’’العظام‘‘جہاں قبلہ کی سمت ہڈیوں کی مدد سے متعین ہوئی!

مسجد العظام مذہبی، ثقافتی، تمدنی و اسلامی مقام و رتبے کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی کردار کی مالک بھی رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان منصوبے کے تحت العلا کی تاریخی مسجد العظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ شہزاد محمد بن سلمان مملکت بھر میں تاریخی مساجد کی اصلاح و مرمت، تعمیر، تزئین و آرائش کے ایک منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔

مملکت کے سرکاری خبر رساں ادارے ’’ایس پی اے‘‘ کے مطابق مسجد العظام کا تعلق سیرت طیبہ سے ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب 9ھ مطابق 630 عیسوی میں وادی القری آئے تھے تب انہوں نے یہاں قبلے کا رخ مقرر کیا تھا۔ اس وقت یہ علاقہ وادی القری کہلاتا تھا جو اب العلا کے نام سے مشہور ہے۔ قبلے کا رخ متعین کرنے کے لیے پتھر نہیں تھے تو ہڈیوں کے ذریعے قبلے کی سمت متعین کی گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا کی تھی۔ بعد میں وہاں مقامی لوگوں نے مسجد تعمیر کر کے اسے مسجد العظام کا نام دیا تھا یعنی وہ مسجد جہاں قبلے کی سمت ہڈیوں کے ذریعے متعین کی گئی تھی۔

حضرت محمد ﷺ نے مسجد العظام میں نماز ادا کی تھی: ایس پی اے
حضرت محمد ﷺ نے مسجد العظام میں نماز ادا کی تھی: ایس پی اے

مسجد العظام کی تعمیر میں پتھر استعمال کیے گئے تھے۔ اس کی داخلی دیواریں مٹی سے تیار کی گئی تھیں۔ یہ مسجد کئی بار تعمیر ہوئی۔ ان دنوں شہزادہ محمد بن سلمان منصوبے کے تحت اس کی تعمیر نو کا کام جاری ہے۔

مقررہ پروگرام کے مطابق مسجد العظام کو قدیم طرز تعمیر کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سابقہ تعمیر کی دقیق ترین تفصیلات ریکارڈ کر لی گئی تھیں ان کو پیش نظر رکھ کر کام کیا جا رہا ہے۔

مسجد العظام مذہبی، ثقافتی، تمدنی و اسلامی مقام و رتبے کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی کردار کی مالک بھی رہی ہے۔ یہاں قریے کے لوگ اپنے سماجی مسائل حل کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ یہ وادی القری قدیم قصبے کے سینٹر میں واقع ہے۔ دنیا کے مختلف علاقوں کے سیاح اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں