اس چھوٹے بچے کو اس وقت معلوم نہیں تھا کہ اس کا انجام شیر کا لقمہ بننا لکھا ہے جب وہ جنوبی غزہ کی پٹی میں واقع خان یونس کے ایک مقامی چڑیا گھر میں کھیل رہا تھا۔ سیکورٹی اور طبی ذرائع کے مطابق پیر کے روز 6 سالہ بچے کی موت شیر کے کاٹنے کے بعد ہوئی۔
پولیس کے ترجمان ایمن البطنیجی نے ایک بیان میں کہا کہ بچہ شیر کے پنجرے کے اردگرد حفاظتی حصار میں چڑھ گیا اور پنجرے کے کھلے ہوئے حصے کے قریب پہنچ گیا تو شیر نے اس پر حملہ کردیا۔ بچہ پہلے زخمی ہوا اور پھر فوت ہوگیا۔ پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہے۔
🚫 ضعيف القلب لا يشاهد🚫
— غـ𓂆ـزاوي (@ghzzawi1948) May 1, 2023
توفـ ـي طفل 6سنوات بعد ان عضـ ـه اسد داخل مدينة اصداء التي يتيع البزنس الخاص بها لحركةحما$ ..
انت كيف فاتحلي حديقة حيوان وما عندك ادنى نوع من الحماية وحتى ما في اشخاص تتابع اقفاص الحيوانات المفترسة !
وخاصة انت بتعرف الاطفال حركتهم كثيرة !
++ pic.twitter.com/CGvMVJpHbE
ایک طبی ذریعہ نے فرانس پریس کو بتایا کہ جاں بحق ہونے والا بچہ حمادہ نضال اقطیط تھا۔ اس کی عمر 6 سال تھی۔ اسے زخمی ہونے کے بعد خان یونس کے ناصر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ وہاں دم توڑ گیا۔ واقعہ تفریحی شہر "اصداء" میں پیش آیا جس میں ایک چھوٹا چڑیا گھر بھی شامل ہے اور بچے کی موت کے بعد چڑیا گھر کو بند کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پارک میں لوہے کے پنجرے کے اندر دو شیر اور متعدد جانور اور پرندے موجود ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر جانور گھریلو اور پالتو ہیں۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ بچہ خاردار تاروں سے لپٹی ہوئی لوہے کی باڑ کے ایک چھوٹے سے سوراخ سے اندر داخل ہوا پھر شیر کے پنجرے کے پاس پہنچا تھا۔