’’معلوم تھا یوکرین پر حملہ ہونے والا‘‘: پوٹین سے گفتگو پر مبنی کلنٹن کے بیان پر بحث
کلنٹن کی روسی صدر کے ساتھ ایک مختصر گفتگو 2011 میں ہوئی تھی
فروری 2022 میں یوکرین میں روسی آپریشن کا آغاز ہوا اور اب یہ جنگ دوسرے سال میں چل رہی ہے۔ روس یوکرین جنگ پر مغربی ردعمل کے درست ہونے کے بارے میں سوالات اب بھی باقی ہیں۔
سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں 2011 میں احساس ہوا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان بڑے پیمانے پر تصادم ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ روسی صدر پوٹین کے ساتھ مختصر گفتگو کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ یوکرین پر روسی حملہ اب صرف چند دنوں کی بات ہے۔ ۔ 1993 سے 2001 تک امریکی صدر رہنے والے بل کلنٹن نے بتایا کہ یہ رابطہ 2011 میں ڈیووس میں اکنامک فورم میں ہوا تھا جب پوٹین روسی حکومت کے سربراہ تھے۔
سابق امریکی صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس وقت پوٹین نے یوکرین کی سرزمین پر موجود سوویت جوہری ہتھیاروں کی ماسکو منتقلی کے بدلے میں یوکرین کو سکیورٹی کی ضمانت فراہم کرنے کے حوالے سے 1994 میں دستخط کیے گئے بڈاپسٹ میمورنڈم سے بھی اختلاف کا اظہار کیا تھا۔
اس دستاویز پر بل کلنٹن، بورس یلسن، لیونیڈ کچما اور جان میجر نے دستخط کیے تھے جو اس وقت بالترتیب امریکہ، روس، یوکرین اور برطانیہ کے رہنما تھے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ 2011 میں روس کے کریمیا پر کنٹرول حاصل کرنے سے 3 سال قبل پوٹین نے کلنٹن کو بتایا کہ وہ بورس یلسن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں خود کو اس معاہدے کا پابند نہیں سمجھتا۔ بل کلنٹن نے کہا کہ میں اس روز جانتا تھا کہ یہ صرف وقت کے انتخاب کا معاملہ ہے اور کسی بھی وقت تصادم شروع ہوسکتا ہے۔
برطانوی اخبار ’’ دی گارڈین‘‘ کے مطابق سابق امریکی صدر کے اس اعلان سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کو 2014 کے حملے کے لیے مزید تیار رہنا چاہیے تھا جب روس نے کریمیا کا الحاق کیا اور ڈونباس پر حملہ کیا تھا۔
یورپی اور یوریشین امور کے سابق اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ڈینیئل فرائیڈ نے کہا کہ پوٹین کے ریمارکس اوباما انتظامیہ کے ارکان میں زیادہ مشہور نہیں تھے۔ لیکن فرائیڈ نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ سابق صدر نے اپنی اہلیہ ہیلری کو اس سے متعلق بتایا تھا۔
فرائیڈ جو اب بحر اوقیانوس کونسل کے فیلو ہیں نے مزید کہا ہے کہ پوٹین نے بل کلنٹن کے ساتھ ڈیووس ملاقات سے 3 سال قبل اپریل 2008 میں نیٹو- روس کونسل کے اجلاس میں یوکرین کی علاقائی سالمیت کو دھمکی دی تھی۔ بش انتظامیہ کے دوران پوٹین نے دعویٰ کیا تھا کہ جب کریمیا کو 1954 میں روسی فیڈریشن سوویت سوشلسٹ ریپبلک سے لیکر کریمیا کے حوالے کیا گیا تو اس وقت تمام قانونی ضابطوں کی پیروی نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں وہاں موجود تھا، پولش کے اس وقت کے قومی سلامتی کے مشیر ماریوس ہینڈزلک کے پاس بیٹھا تھا... ہم دونوں چوکس کھڑے ہوئے اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے کہ انہوں نے بش انتظامیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ اینڈ نیشنل سکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ کیا آپ نے صرف وہی سنا جو میں نے سنا ہے۔ فرائیڈ نے کہا اس لمحے سے میں نے سوچ لیا تھا کہ پوٹین یوکرین کے محاذ کو گرم کرنا چاہ رہے ہیں۔
فرائیڈ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ امریکی حکومت کریمیا کی کارروائی سے حیران تھی۔ لیکن اسے انتباہات کی روشنی میں حیران ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ واضح رہے روس نے 2014 میں کریمیا کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور اسے اپنی سرزمین سے ضم کر لیا تھا۔ اس اقدام کو عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا تھا۔
اگرچہ کیف نے بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ جزیرہ نما کریمیا کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم پینٹاگون کی حالیہ بریفنگ سمیت بہت سے مغربی اندازوں نے اس بات کو مسترد کر دیا ہے کہ یوکرینی افواج جلد ہی کسی بھی وقت کریمیا پر دوبارہ قبضہ کر سکیں گی۔ دوسری طرف روسی پوٹین سمجھتے ہیں کہ کریمیا کا معاملہ مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔