جب ترک پارلیمان نے سلطنت عثمانیہ کے سلطان کو بے دخل کیا

سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات خلیفہ عبد الحمید ثانی کے دور میں 1877 میں ہوئے۔ اسی سال کے دوران خلیفہ نے پارلیمان کو تحلیل کر کے آئین کو معطل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سلطان عبدالحمید ثانی کے دور میں سلطنت عثمانیہ کئی بحرانوں سے گزری۔ 1877 اور 1878 کے درمیان، عثمانیوں کو روسی-عثمانی جنگ میں روسیوں کے ہاتھوں سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ سے، عثمانیوں نے سان سٹیفانو اور برلن کے معاہدوں کی شرائط کو قبول کر لیا۔

انیسویں صدی کے آخر میں، سلطنت عثمانیہ نے ایک نسل کشی دیکھی جس میں 200,000 سے زیادہ آرمینیائی قتل ہوئے، جس کے نتیجے میں عبدالحمید ثانی کو سرخ سلطان کا لقب دیا گیا۔

اس کے علاوہ، عبدالحمید ثانی کے دور حکومت میں جو تقریباً 33 سال تک جاری رہا، سلطنت عثمانیہ سے کئی سابقہ نوآبادیات، جیسے تیونس اور مصر، چھین لی گئیں اور ان پر فرانسیسیوں اور انگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔

پہلے عثمانی عام انتخابات

سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات عبد الحمید ثانی کے دور میں 1877 میں ہوئے۔

اکتوبر 1876 کے مہینے کے دوران، پہلے انتخابی قوانین اور ضوابط جاری کیے گئے۔ ان قوانین کے مطابق طے پایا کہ علاقائی انتظامی کونسلوں کے منتخب اراکین کو پہلی عثمانی پارلیمنٹ کے ممبران منتخب کیا جانا چاہیے۔

اسی سال دسمبر تک، ایک عثمانی آئین جاری کیا گیا جس میں دو ایوانوں پر مشتمل ایک پارلیمان کو اپنا لیا گیا، پہلے ایوان کی نمائندگی سلطان کی طرف سے مقرر کردہ معززین کی کونسل کرتی تھی، جبکہ دوسرا ایوان منتخب نائبین پر مشتمل تھا۔

ترک سلطان عبدالحمید ثانی

قانون کے مطابق، تیس سال سے زیادہ عمر کے افراد کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی جو اپنے تمام شہری اور سیاسی حقوق حاصل کرسکتے تھے۔

دوسری طرف، عثمانی حکام نے متعدد امیدواروں کو خارج کرنے کے لیے، دوہری شہریت ، غیر ملکی حکومت کے لیے کام کرنا، اور مادی اور شہری حیثیت جیسے عوامل کا فائدہ اٹھایا۔

ایک معاہدے کے مطابق نئی پارلیمان نے صرف تین ماہ کی مدت کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔

عثمانی عوامی کونسل، یعنی عثمانی پارلیمان کا پہلی اجلاس 19 مارچ 1877 کو منعقد ہوا، اس کے بعد اسے سرکاری طور پر اسی سال کے جون کے آخر میں تحلیل کر دیا گیا۔

سلطان کی برطرفی

اگلے چند مہینوں میں، سلطنت عثمانیہ کے دوسرے عام انتخابات منعقد ہوئے، جس کے نتیجے میں ایک اور پارلیمان وجود میں آئی۔

یہ انتخابات اکتوبر 1876 کے جاری کردہ انتخابی ضابطوں اور قوانین کے مطابق ہوئے تھے۔

دوسری پارلیمان کا پہلا اجلاس 13 دسمبر 1877 کو ہوا۔

تاہم پچھلی پارلیمنٹ کی طرح یہ نئی پارلیمنٹ بھی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور 14 فروری 1878 کو سلطان عبدالحمید ثانی نے روس کے ساتھ حالت جنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے اور آئین کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔

1908 میں "نوجوانان ترک انقلاب" کی کامیابی اور فوج کے دباؤ کے تحت، عبدالحمید دوم کو 1876 کے آئین کو دوبارہ بحال کرنے پر مجبور کیا گیا۔

نومبر اور دسمبر 1908 کے درمیان سلطنت عثمانیہ کے اگلے عام انتخابات ہوئے۔

ان انتخابات کے نتیجے میں 1908 میں قائم ہونے والی نئی پارلیمان میں "جمعیت اتحاد اور ترقی " نے تقریباً 60 ارکان کی حمایت حاصل کر لی۔

اس دوران سلطان کو اپنے اختیارات میں کمی کا احساس ہونے لگا اور انہوں نے 31 مارچ 1909 کے واقعے کے ذریعے مکمل اقتدار بحال کرنے اور پارلیمنٹ کو ایک بار پھر تحلیل کرنے کی کوشش کی۔

اسلام پسندوں اور مطلق العنان حکمرانی کے حامیوں نے ان کی حمایت کی لیکن سلطان اور ان کے حامیوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ پارلیمان نے سلطان کے خلاف ووٹ دیا۔

سلطان عبد الحمید ثانی کو 27 اپریل 1909 کو معزول کر دیا گیا اور ان کے بھائی محمد خامس نے نئے سلطان کا عہدہ سنبھال لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں