برطانیہ میں موٹاپے کی سرجری سے متعلق کانفرنس میں سعودی طالبہ کی پہلی پوزیشن
میری تحقیق "باریٹرک سرجری کے بعد ذائقہ کی حس کو تبدیل کرنے پر زنک کے اثرات" سے متعلق تھی: ڈاکٹر بشری مظفر
برطانیہ میں موٹاپے کی سرجری سے متعلق کانفرنس میں سعودی طالبہ نے دنیا میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔ برطانیہ کی ناٹنگھم یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کرنے والی سعودی سکالرشپ کی طالبہ بشریٰ مظفر کی پیش کردہ تحقیق نے برٹش سوسائٹی فار اوبیسٹی اینڈ میٹابولک سرجری کانفرنس میں دنیا بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ اس کانفرنس میں مختلف ملکوں سے سینکڑوں تحقیق کاروں نے شرکت کی تھی۔
ڈاکٹر بشری مظفر نے اس سلسلے میں بہت سی تحقیقیں کی ہیں جن میں ذائقہ کی حس کو بہتر بنانے میں زنک کی اضافی خوراک کی تاثیر پر تحقیق بھی شامل ہے۔ انہوں نے اپنی تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ ذائقہ کی خرابی کے وہ مریض جن میں زنک کی کمی بھی ہوتی ہے۔ ان کے لیے زنک ذائقہ کی خرابی کا موثر علاج ہے۔
ذائقہ کی خرابی جو دائمی گردوں کی ناکامی کی وجہ سے ہوتی ہے تو اس کے لیے مریض کو چھ ماہ تک 68 سے 86.7 ملی گرام روزانہ زنک کی خوراک دی جاتی ہے۔
ڈاکٹر بشریٰ مظفر نے وضاحت کی کہ اس تحقیق کا مقصد باریٹرک سرجریوں کے بعد ذائقہ کے احساس کو تبدیل کرنے پر زنک کے اثرات کا مطالعہ کرنا تھا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ برٹش سوسائٹی برطانیہ میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور موٹاپے کی سرجری کے محفوظ اور منصفانہ عمل کو فروغ دینے کے لیے مختلف اداروں کو ماہرانہ مشورے فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کانفرنس ہر سال منعقد کی جاتی ہے اور اس میں یورپ، برطانیہ، امریکہ اور ہندوستان سے متعدد مقررین شرکت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر بشریٰ مظفر یونیورسٹی آف ناٹنگھم کے کالج آف اپلائیڈ میڈیکل سائنسز شعبہ کلینیکل نیوٹریشن میں سکالر شپ کی طالبہ ہیں۔