اسرائیل میں یاہوحکومت کی مجوزہ عدالتی اصلاحات کے خلاف مظاہروں کوکیوں ہوا مل رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

اسرائیل میں گذشتہ سات ماہ سے ہزاروں اسرائیلی سڑکوں پرہیں اور وہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ صہیونی ریاست میں یہ اب تک کے سب سے بڑے، مسلسل اور شدید مظاہرے ہیں۔

یہ مظاہرین نچلی سطح پر چلنے والی اس تحریک کا حصہ ہیں جو وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی سربراہی میں متنازع عدالتی اصلاحات کے خلاف اٹھی تھی۔

ان عدالتی اصلاحات میں عدلیہ کے اختیارات کو محدود کرنے، سپریم کورٹ کی پارلیمانی فیصلوں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت پرقدغن لگانے سے لے کر ججوں کے انتخاب کے طریق کار میں تبدیلی تک وسیع پیمانے پر ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ غیر منتخب ججوں کے اختیارات کو کم کرنے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے، لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اسرائیل کو آمریت کی طرف دھکیل دے گی اور یہ مظاہرین اسرائیلی معاشرے کے ایک وسیع طبقے پر مشتمل ہیں۔

اس تبدیلی کا ایک اہم حصہ اگلے ہفتے کے اوائل میں حتمی رائے شماری ہے۔مظاہرین مزید "کئی دنوں تک تعطل" کا عہد کر رہے ہیں اور ہڑتالوں اور عام بدامنی کی اپیلیں کر رہے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ وہ حکومت کی کوششوں کے مہینوں بعد بھی کیوں سراپااحتجاج بنے ہوئے ہیں اور ان کے تحفظات کیا ہیں؟ یہاں اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ :

ترامیم میں کیا ہے؟

نیتن یاہو کے انتہائی قوم پرست اور انتہائی قدامت پسند مذہبی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ اس پیکج کا مقصد منتخب عہدے داروں کا اقتدار بحال کرنا ہے۔

مگرناقدین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے شراکت داروں نے مختلف ذاتی اور سیاسی شکایات کی وجہ سے یہ عدالتی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ وہ مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کے کنٹرول کو مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں اور الٹرا آرتھوڈکس افراد کے لیے متنازع مسودے میں استثنا کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

ان تجاویز میں ایک بل بھی شامل ہے جو پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کو تبدیل کرنے کی اجازت دے گا۔ دوسرا ججوں کے انتخاب میں پارلیمنٹ کو حتمی فیصلے کا اختیار دے گا۔

توقع کی جا رہی ہے کہ پیر کے روز پارلیمنٹ میں ایک اہم بل پر ووٹنگ ہوگی قانون بننے کی صورت میں سپریم کورٹ کو حکومتی فیصلوں کو اس بنیاد پر کالعدم قرار دینے سے روکے گا کہ وہ 'غیر معقول' ہیں۔

اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ 'منطقی' معیار ججوں کو منتخب عہدے داروں کی جانب سے فیصلہ سازی پر حد سے زیادہ اختیارات دیتا ہے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس معیار کو ختم کرنے سے، جو صرف شاذ ہی معاملات میں استعمال کیا جاتا ہے، حکومت کو من مانے فیصلے کرنے، نامناسب تقرر یا برطرفیاں کرنے اور بدعنوانی کے دروازے کھولنے کا موقع ملے گا۔

مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے تھنک ٹینک اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے سینیرمحقق عامر فوکس کے مطابق مظاہرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اتحادی قانون میں تبدیلی چاہتے ہیں تاکہ وہ سرکاری عہدوں پر اپنے ساتھیوں کا تقرر کرسکیں اور بالخصوص وہ ملک کے آزاد اٹارنی جنرل کو برطرف کر سکیں۔ ان کے حامی اٹارنی جنرل گلی بہارو میارا کو اصلاحات کے خلاف ایک محافظ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کے صدر یوہانان پلسنر نے کہا کہ ان اقدامات سے منتخب عہدے داروں کے من مانے فیصلوں پر نگرانی کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ یہ چیک اینڈ بیلنس کو کمزور کرنے کے لیے حکومت کے وسیع تر منصوبے اور پروگرام کا ایک باب ہے۔

جمعرات کو ایک تقریر میں نیتن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ یہ منصوبہ اسرائیل کی جمہوری بنیادوں کو تباہ کر دے گا۔ انھوں نے کہا:’’یہ آپ کو کسی ایسی چیز پر گمراہ کرنے کی کوشش ہے جس کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں ہے‘‘۔

احتجاجی مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟

نیتن یاہو کی قیادت میں حکومت نے گذشتہ دسمبر میں اقتدار سنبھالا تھا اور فوری طور پر اسرائیل کی سپریم کورٹ کو کمزور کرنے کے اپنے منصوبوں کا انکشاف کیا تھا۔اس کے خلاف بڑے شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔کاروباری رہ نماؤں نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا تھا اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسرائیلی فضائیہ اور دیگر اہم یونٹوں میں فوجی ریزروسٹوں نے دھمکی دی کہ اگر یہ منظور ہو گیا تو وہ ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوں گے۔

مظاہروں کی وجہ سے نیتن یاہو نے مارچ میں عدالتی اصلاحات کا یہ بل روک دیا تھا اور حزب اختلاف کے قانون سازوں کے ساتھ بات چیت شروع کی تھی۔گذشتہ ماہ مذاکرات معطل ہونے کے بعد نیتن یاہو نے جون میں اعلان کیا تھا کہ اس تبدیلی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

مظاہرین نیتن یاہو پر الزام عاید کرتے ہیں کہ وہ احتجاجی تحریک کو دبانے اور ان کی مخالفت کو کم کرنے کے لیے سست روی سے آگے بڑھ کر حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں لیکن ان کے وسیع تر مقاصد نہیں۔

احتجاجی تحریک کے ترجمان جوش ڈرل کا کہنا ہے کہ ’’حکومت ہوشیارہو گئی ہے۔انھوں نے عدالتی اصلاحات کو روکنے کی کوشش کے نتائج دیکھے اور اصلاحات کے عمل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا‘‘۔جیسے ہی حکمراں اتحاد کی جانب سے اصلاحات کو قانون میں تبدیل کرنے کی کوششیں آگے بڑھ رہی ہیں تو احتجاج میں بھی شدت آتی جارہی ہے۔

مظاہرین نے گذشتہ منگل کے روز تل ابیب شہر کی مرکزی شاہراہ کو مفلوج کر دیا اور ٹرین اسٹیشنوں کو بند کر دیا۔ پیر کے روز ہونے والی ووٹنگ سے قبل ہزاروں افراد نے تل ابیب سے یروشلم تک قریبا 50 میل (80 کلومیٹر) مارچ کیا۔

مظاہرین عدلیہ کے تحفظ کے لیے اتنے پُرعزم کیوں؟

چیک اینڈ بیلنس کے نسبتاً کمزور نظام کے ساتھ، عدلیہ اسرائیل میں انتظامی اختیارات کو چیک کرنے میں ایک بڑا کردارادا کرتی ہے۔

مثال کے طور پر امریکا میں کانگریس کے دو ایوان ہیں جو صدر سے آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں اور ان کے اختیارات کو محدود کرسکتے ہیں۔ لیکن اسرائیل میں وزیراعظم اور پارلیمنٹ میں ان کا اکثریتی اتحاد مل کرکام کرتے ہیں۔

آئینی قانون کے پروفیسر ایمچائی کوہن کے مطابق اس سے عدلیہ کو "حکومتی اختیارات پر واحد چیک" کے طور پر چھوڑ دیا گیا ہے۔اسرائیل میں مقامی حکومت بھی نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کے پاس باضابطہ آئین کا فقدان ہے۔ پروفیسر کوہن کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ تر طاقت پارلیمان میں مرکوز ہے۔ اور’’بنیادی قوانین‘‘، جنھیں ماہرین ایک قسم کا غیر رسمی آئین قرار دیتے ہیں،کسی بھی وقت بھاری اکثریت سے تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کے بعد اسرائیلی پارلیمان اب عدلیہ کو کمزور کرکے اپنی طاقت کو مزید مستحکم کرسکتی ہے۔ یوں حکومت جو چاہے کر سکتی ہے کیونکہ وہ بنیادی قوانین کو بھی تبدیل کرنے کی صلاحیت کو کنٹرول کرتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ تاریخی طور پر اسرائیلی عدلیہ نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں کردار ادا کیا ہے جن میں اسرائیل کے فلسطینی شہریوں سے لے کر غیر شہریوں اور افریقی پناہ گزینوں تک شامل ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ عدلیہ کو کمزور کرکے اسرائیل کی حکومت کو نظم ونسق کے نظام پر قریباً مکمل کنٹرول حاصل ہوجائے گا۔اس حکمران اتحاد کے ارکان نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مکمل الحاق، ایل جی بی ٹی کیو لوگوں اور اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور خواتین کے حقوق کو محدود کرنے کی وکالت کی ہے۔

عامرفوکس کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایک کھوکھلی جمہوریت ہوگی‘‘۔

اس کے بعد کیا ہوگا؟

ہفتے کے آخر میں اسرائیلی میڈیا نے خبر دی تھی کہ ملک کے وزیر دفاع یوآف گیلنٹ فوج میں خدمات انجام دینے سے انکار سے پریشان ہیں اور پیر کے روز بل پر پارلیمان میں ہونے والی رائے شماری میں تاخیر پر زور دے رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں تھا کہ آیا دوسرے لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہوں گے یا نہیں۔

اگر’’منطقی بل‘‘ منظور ہو جاتا ہے، تو یہ قانون سازی کا پہلا بڑا حصہ ہوگا جو قانون بن جائے گا۔

عامر فوکس نے پیشین گوئی کی کہ اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔ اگر عدالت اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتی ہے تو نیتن یاہو کے اتحاد کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ اس حکم کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ اس سے ’’آئینی بحران‘‘ کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

دریں اثناء، سات ماہ سے ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے مظاہروں کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں