غیر متوقع تحفہ، امریکی نے ایرانی قیدی کا احسان واپس کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غیرمتوقع طریقے سے سابق امریکی قیدی مائیکل وائٹ نے ایرانی نوجوان مہدی فاتانخاہ کا احسان واپس کردیا۔ یہ احسان اس وقت کیا گیا تھا جب تقریباً 3 سال قبل وائٹ ایران کی ایک جیل میں سلاخوں کے پیچھے تھا۔

امریکی بحریہ کے ایک سابق اہلکار وائٹ جسے 2020 میں تبادلے کے معاہدے میں رہا کیا گیا تھا نے تصدیق کی ہے کہ 20 سالہ نوجوان فاتانخواہ جیل میں ڈالے جانے پر سب سے پہلے اس کے پاس آیا تھا۔ اس نے میری مدد کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی تھی۔

وائٹ کے ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو کے دوران فاتانخاہ ان کے قریب موجود تھا۔ وائٹ نے کہا

میں نے فاتانخاہ کو بتایا کہ میں اس کی حفاظت کے لیے اسے یہاں لانے کے لیے اپنی بساط کے مطابق ہر ممکن کوشش کروں گا۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ وہ یہاں کی کمیونٹی میں تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے تو میں نے اسے امریکہ لانے کی کوشش شروع کردی۔

دریں اثنا فاتانخاہ جسے ایران میں کئی مرتبہ گرفتار کر کے رہا کیا گیا تھا نے تصدیق کی کہ اس نے ہمیشہ امریکہ آنے کا خواب دیکھا تھا۔ اس نے کہا جب میں لاس اینجلس کے ہوائی اڈے پر اترے تو مجھے لگا کہ یہ میری زندگی کا بہترین لمحہ ہے۔ میری پوری زندگی بدل گئی ہے۔

نوجوان ایرانی اور سابق قیدی کو انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی وجہ سے وائٹ کی کوششوں کی بدولت اس سال امریکہ میں عارضی طور پر رہنے کی اجازت مل گئی ہے۔ وہ مشروط داخلے کے نام سے جانے والے ایک سرکاری پروگرام کے تحت امریکہ داخل ہوا ہے۔

50 سالہ وائٹ جنوبی کیلیفورنیا کا رہنے والا ہے۔ وائٹ نے بحریہ میں 13 سال گزارے ہیں۔ وائٹ کو 2018 میں ایران میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس نے آن لائن ملنے والی ایک خاتون سے رومانوی ملاقات کا خواب دیکھا تھا۔

تاہم وائٹ کو مختلف الزامات کے تحت قید کیا گیا تھا جن میں جاسوسی کے الزامات بھی شامل تھے۔ وائٹ نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا تھا۔ اس پر ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی توہین کا الزام بھی لگایا گیا۔

تاہم بعد میں وائٹ کو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت جون 2020 میں رہا کیا گیا۔ وائٹ کا تبادلہ امریکی پابندیوں کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر امریکہ میں قید ایک ایرانی نژاد امریکی ڈاکٹر سے کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں