نیتن یاھو اور فوج میں اعتماد کی کمی زمینی حملے میں تاخیر کی وجہ بننے لگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی پر زمینی حملے کے بارے میں بات چیت کی رفتار میں کمی آرہی ہے۔ چیزیں زمینی حملے میں تاخیر کے ذمہ دار کی تلاش کی طرف مائل ہونے لگی ہیں۔ یہ باتیں بھی کی جانے لگی ہیں آیا زمینی حملے کے فیصلے پر عمل ہوگا بھی یا نہیں۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور عسکری رہنماؤں اور سیاسی حکام کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی روشنی میں ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کے سیاسی اور سکیورٹی حلقوں کے لیے زمینی حملے کے آغاز کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

نیتن یاہو فوج سے ناراض

اسرائیل میں فیصلہ ساز حلقوں کے عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کو غزہ کی پٹی سے نمٹنے سے متعلق اہم مسائل پر فیصلوں پر اتفاق کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

اسرائیلی اخبار ’’ یدیعوب احرونوت‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاسی تجزیہ کاروں ناحوم برنیع اور رونان بیرغمان کے مشترکہ تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ نیتن یاہو اعلیٰ فوجی حکام سے ناراض ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ فوجی حکام نے اعلان کیا کہ وہ حماس کے اس اچانک حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ اخبار کے مطابق اس تجزیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ نیتن یاہو اپنے وزیر دفاع گیلانٹ کے ساتھ بھی اختلاف میں داخل ہوگئے ہیں۔

زمینی حملے کا التوا

سی این این نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکی دباؤ تھا جس کی وجہ سے غزہ کی پٹی پر منصوبہ بند زمینی حملے کو یرغمالیوں کو رہا کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے موخر کیا گیا۔ تاہم اب ناحوم برنیع اور رونان بیرغمان نے کہا کہ اس التوا کا تعلق اسرائیلی منصوبوں کی عدم موجودگی سے ہے۔

دونوں تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو ابہام کا شکار ہیں۔ حکومت کے ارکان کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے روک رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت میں بینی گانٹز اور گاڈی انزاکوٹ کے پاس صرف ایک محدود فیصلوں کا اختیار ہے۔ حکومت میں داخل ہونے کے لیے انہوں نے نیتن یاہو کے ساتھ جس معاہدے پر دستخط کیے اس کے مطابق یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ وزیر اعظم کی منظوری کے علاوہ وزارتی بات چیت سے باہر حکام سے ملاقات کر سکیں۔

دونوں تجزیہ کاروں نے نیتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع گیلانٹ کے درمیان تنازع کی بات کی اور کہا کہ وزیر اعظم نے لبنانی حزب اللہ گروپ کے خلاف شمال میں پیشگی کارروائی کے فیصلے سے روک دیا۔ اسرائیلی فوج اور وزیر دفاع نے اس آپریشن کی سفارش کی تھی۔

دونوں تجزیہ کاروں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو اور وزیر دفاع کے درمیان تعلقات ان کے لیے مل کر کام کرنا اور زمینی جنگ کے حوالے سے فیصلہ کرنا بہت مشکل بنا رہے ہیں۔

تین وزرا کا مستعفی ہونے پر غور

حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کو کئے جانے والے حملے کو روکنے میں ناکامی پر نیتن یاہو کی جانب سے جرم قبول کرنے سے انکار کی وجہ سے کم از کم 3 وزرا حکومت سے استعفیٰ دینے پر غور کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت کے اندر ایک طوفان برپا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رائے عامہ کے تازہ ترین سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 75 فیصد اسرائیلی غزہ کے آس پاس کے قصبوں کی حفاظت میں ناکامی کا ذمہ دار نیتن یاہو کو ٹھہراتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں