فلسطینی ڈاکٹر جو ہسپتال میں اپنے خاندان کی لاشیں دیکھ کرکانپ کر رہ گیا

غزہ کے بہادر ڈاکٹر ایاد شقورہ جس نے ہسپتال میں اپنی ماں ،بہن، دو بھاییوں، دو بھانجوں اور اپنے دو بیٹوں کی لاشیں دیکھیں، ان کی تدفین کے بعد دل پر پتھر رکھ کر ہسپتال میں ڈیوٹی پر پہنچ گیا۔ شہید بیٹوں، ماں اور دیگر اقارب کی نعشیں دیکھ کر ڈاکٹرپر کیا گذری؟: واقعے کی ویڈیو وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی بربریت اور نہتے شہریوں کے قتل عام کے لرزہ خیز واقعات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ ہرلمحے غزہ کی پٹی میں خون کی ایک نئی داستان رقم ہو رہی ہے جس میں پورے پورے خاندان لقمہ اجل بن رہے ہیں۔

ایسا ہی لرزہ خیز واقعہ ایک نوجوان ڈاکٹر کا ہے جس کا پورا خاندان اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگیا۔

غزہ کے ایک ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں جنگ کے دوران کام کرنے والے ایک فارماسسٹ ڈاکٹر ایاد شقورہ زخمیوں اور مرنے والوں کے ایک سیلاب کو دیکھنے کے عادی ہوچکےہیں، لیکن وہ سوموارکی شام اس وقت ہوش و حواس کھو بیٹھے جب ان کے دو بچوں بچوں، ماں اور کئی دوسرے رشتہ داروں کی لاشیں ہسپتال پہنچیں۔

چوبیس سالہ ڈاکٹر شقورہ نےجب اپنے پیاروں ماں اور اپنے دو بچوں کی لاشیں دیکھیں تو انہیں ایک جھٹکا لگا۔ ان نہتے شہریوں کو اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں ان کے گھر پر بم گرا کر شہید کیا تھا۔

منگل کی صبح اشکبار آنکھوں کے ساتھ شقورہ نے اپنے پیاروں پرالوداع نظر ڈالی اور انہیں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں مردہ خانے کی میز پر سفید کفنوں میں لپٹا گیا تھا جہاں سے انہیں تدفین کے لیے لے جایا گیا۔

جب شہداء کی میتیں ہسپتال لائی گئیں تو ڈاکٹر شقورہ نے ان کے نام پڑھنا شروع کیے۔ ان میں اس کی والدہ زینب ابو دیہ دو بھائی بھائیوں محمود اور حسین شقورہ،ی بہن اسراء شقورہ ، اس کے دو بچے، حسین اور نبیل شقورہ، اس کے اپنے دو بچے سات سالہ عبدالرحمن اور پانچ سالہ عمر بھی شہداء میں شامل تھے۔

پہلےتو اپنے خاندان کے اتنے شہداء کو دیکھ کر ڈاکٹر سکتے میں آگیا۔ پھر اس نے اپنی ہمت مجتمع کی اور خون میں لت پت سات سالہ شہید بچے عبدالرحمان کی پیشانی چومتے ہوئے کہا کہ"میرے پانچ بچے ہیں، لیکن شہید ہونے والے بچے مجھے بہت پسند تھے"۔

عبدالرحمن اور اس کے بھائی کی لاشیں ایک ہی کفن میں رکھ دی گئیں تھیں۔

ڈاکٹر نے درد بھرے لہجے میں کہا کہ "انہوں نے ایسا کون سا گناہ کیا جس نے ان کے سروں پر ٹنوں وزنی بم اور ٹنوں بارود گرا دیا؟۔

غزہ کی وزارت کے صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے غزہ میں مرنے والوں کی تعداد 10,328 تک پہنچ گئی ہے جس میں 4,237 بچے بھی شامل ہیں۔

شقورہ کا تعلق فلسطینی پناہ گزینوں کے خاندان سے ہے جو 1948 میں ریاست اسرائیل کے قیام کے اعلان کے بعد نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ وہ آج بھی مہاجرین میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا: "اگر دشمن ہمیں ہماری سرزمین سے بے گھر کرنا چاہتا ہے تو ہم اسے کہتے ہیں کہ خدا نے ہم سے وعدہ کیا ہے۔ یا تو ہم فتح یاب ہوں گے اور اپنی سرزمین کو آزاد کرائیں گے، یا ہمیں فلسطین کی مٹی میں دفن کر دیا جائے گا"۔

ڈاکٹرنے اپنے شہید خاندان کی نماز جنازہ ہسپتال کے صحن میں ادا کی جب کہ ان کے پیچھے رشتہ داروں اور ساتھیوں کی بڑی تعداد کھڑی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں اب اپنے بچوں کی تدفین کروں گا اورپھر اپنے کام پر چلا جاؤں گا۔

لاشوں کو تدفین کے لیے ہسپتال کے قریب واقع "خان یونس شہداء قبرستان" میں منتقل کر دیا گیا۔ قبرستان جاتے ہوئے شقورہ اپنے شہید بچے عبدالرحمٰن کا جسد خود اٹھایا اور آخری بار اس کے سر پر بوسہ دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں