اسرائیل-حماس جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دوسرے روز بھی غزہ میں نئی جنگ بھڑک اٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے ساتھ ایک ہفتہ پرانی جنگ بندی میں توسیع کے لیے ہونے والی بات چیت کے خاتمے کے بعد ہفتے کے روز غزہ میں از سرِ نو لڑائی دوسرے دن تک جاری رہی اوراس ضمن میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری سے دشمنی کو دوبارہ روکنے کی کوششیں پیچیدہ ہو رہی ہیں۔

شہر میں رائٹرز کے صحافیوں نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں خان یونس کے مشرقی علاقے شدید بمباری کی زد میں آ گئے اور دھوئیں کے بادل آسمان پر اٹھ رہے تھے کیونکہ جنگ بندی کی ڈیڈ لائن جمعے کی صبح طلوع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ختم ہو گئی تھی۔

مغرب میں پناہ کی تلاش میں رہائشی گدھا گاڑیوں میں سامان کے گٹھڑیاں اٹھائے سڑکوں پر آ گئے۔

اسرائیل نے کہا کہ اس کی زمینی، فضائی اور بحری افواج نے غزہ میں 200 سے زیادہ "دہشت گردی کے اہداف" کو نشانہ بنایا۔ جمعہ کی شام تک ساحلی پٹی میں صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں 184 افراد ہلاک اور کم از کم 589 زخمی ہو گئے اور 20 سے زائد مکانات کو نشانہ بنایا گیا۔

متحارب فریقین نے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے بدلے مزاحمت کاروں کے ہاتھوں یرغمالیوں کی یومیہ رہائی میں توسیع کی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے جنگ بندی کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کو موردِ الزام قرار دیا۔

اقوامِ متحدہ نے کہا کہ لڑائی ایک انتہائی انسانی ہنگامی صورتِ حال کو مزید خراب کر دے گی۔ جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر کے ترجمان جینس لایرکے نے کہا، "زمین پر جہنم غزہ میں واپس آ گیا ہے"

اقوامِ متحدہ کے امدادی سربراہ مارٹن گریفتھس نے کہا، "آج چند گھنٹوں میں مبینہ طور پر متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ خاندانوں کو دوبارہ سے نقلِ مکانی کے لیے کہا گیا۔ امیدیں دم توڑ گئیں۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کے بچوں، خواتین اور مردوں کے پاس "جانے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں اور زندہ رہنے کے لیے بہت کم سامان ہے۔"

24 نومبر کو شروع ہونے والے وقفے کو دو بار بڑھایا گیا تھا اور اسرائیل نے کہا تھا یہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک کہ حماس روزانہ 10 یرغمالیوں کو رہا کرے۔ لیکن سات دنوں کے بعد جس کے دوران خواتین، بچوں اور غیر ملکی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا، ثالث مزید رہائی کے لیے کوئی فارمولہ تلاش کرنے میں ناکام رہے۔

اسرائیل نے حماس پر الزام عائد کیا کہ وہ تمام خواتین کو رہا کرنے سے انکاری ہے۔ ایک فلسطینی اہلکار نے بتایا کہ یہ خرابی خواتین اسرائیلی فوجیوں کی وجہ سے واقع ہوئی۔

اسرائیل نے سات اکتوبر کے حملے کے بعد حماس کو ختم کرنے کی قسم کھائی ہے جس کے بارے میں اس نے کہا ہے کہ مزاحمت کار گروپ نے 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا اور 240 کو یرغمال بنا لیا۔

اس کے بعد سے اسرائیلی حملوں نے غزہ کا زیادہ تر حصہ برباد کر دیا ہے جہاں 2007 سے حماس کی حکمرانی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی طرف سے قابلِ اعتماد سمجھے جانے والے فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ غزہ کے 15,000 سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں اور ہزاروں لاپتا ہیں۔

قطر نے کہا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں

مرکزی ثالثی کا کردار ادا کرنے والے قطر نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ جنگ بندی کی بحالی کے لیے بات چیت بدستور جاری تھی لیکن اسرائیل کی غزہ پر دوبارہ بمباری نے معاملات کو پیچیدہ بنا دیا۔

واشنگٹن میں ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ یرغمالیوں کو رہا کروانا ایک "انتہائی اعلیٰ ترجیح" تھی۔

اہلکار نے کہا، "اور اس کے لیے اسرائیل متفقہ شرائط کے تحت اضافی تؤقف دینے کے لیے تیار ہے۔ اور مزید کہا، "ہم بدستور لڑائی کے درمیان بھی بات چیت کر سکتے ہیں۔"

غزہ کے شمال میں جو پہلے اہم جنگی علاقہ تھا، کھنڈرات کے اوپر دھوئیں کے گہرے بادل اٹھ رہے تھے۔ کتوں کے بھونکنے کی آواز کے اوپر گولیوں اور دھماکوں کی آوازیں بلند ہوئیں۔

رہائشیوں اور حماس کے عہدیداروں نے بتایا کہ راکٹ سے چلنے والے دستی بموں سے لیس اس کے مزاحمت کاروں نے غزہ شہر کے شمال میں شیخ رضوان محلے میں اسرائیلی فوجیوں اور ٹینکوں سے جنگ کی۔

سائرن جنوبی اسرائیل کے طول و عرض میں بجنے لگے جب مزاحمت کاروں نے ساحلی علاقے سے قصبوں میں راکٹ داغے۔ حماس نے کہا کہ اس نے تل ابیب کو نشانہ بنایا تھا لیکن وہاں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

جنوبی لبنان میں ہلاکتوں کی اطلاع ملی جو اسرائیل کے لیے تنازع کا ایک اور اہم مقام ہے۔ ایک لبنانی اہلکار نے بتایا کہ جمعہ کو اسرائیلی گولہ باری میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ ایرانی حمایت یافتہ لبنانی گروپ حزب اللہ جو حماس کا اتحادی ہے، نے کہا ہے کہ اس نے سرحد پر اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر کئی حملے کیے تھے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کے توپ خانے نے لبنان سے فائرنگ کے ذرائع کو نشانہ بنایا اور فضائی دفاع نے دو حملوں کو روک دیا۔

رائٹرز میدان جنگ کی معلومات کی تصدیق نہیں کر سکا۔

امریکہ نے حماس پر دوبارہ لڑائی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ رہائی کے لیے یرغمالیوں کی نئی فہرست تیار کرنے میں ناکام رہی۔

امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ واشنگٹن جنگ بندی کی بحالی کے لیے سفارتی طور پر کام کر رہا تھا۔

انہوں نے کیلیفورنیا میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل، مصر اور قطر کے ساتھ مل کر اس وقفے کو دوبارہ نافذ کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے حماس پر یرغمالیوں کے حوالے سے شرائط پوری کرنے میں ناکامی اور یروشلم میں حملے کا الزام لگایا۔

ڈیموکریٹک امریکی سینیٹر مارک وارنر جو سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ ہیں، نے کہا واشنگٹن کو اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے اور رائٹرز کو بتایا:

"ہمیں اسرائیل کو یہ احساس دلانے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے کہ یہ نہ صرف ایک فوجی تنازعہ ہے بلکہ یہ دنیا کے لوگوں اور امریکہ کے لوگوں کے دلوں اور دماغوں کا تصادم ہے۔"

حماس نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کی "نسل کشی اور نسلی تطہیر کی جنگ" کے لیے ہری جھنڈی دکھا رہا ہے۔

حماس نے ایک بیان میں کہا، "آج یہ ڈھٹائی کے ساتھ صہیونی جھوٹ کو دہرا رہا ہے جو حماس کو جنگ دوبارہ شروع کرنے اور انسانی بنیادوں پر جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔"

فلسطینی ہلال احمرِ نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج نے مصر کے ساتھ رفح سرحدی گذرگاہ کے ذریعے غزہ میں امداد کی تمام ترسیل روک دی ہے۔

فلسطینیوں کے ساتھ شہری رابطہ کاری کے لیے اسرائیلی ایجنسی سی او جی اے ٹی نے کہا کہ جنگ بندی کے تحت دی جانے والی امداد روک دی گئی ہے لیکن واشنگٹن کی درخواست پر پانی، خوراک اور طبی سامان کے ساتھ "درجنوں" دوسرے ٹرک انکلیو تک پہنچ چکے ہیں۔

ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا، امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک منصوبے پر کام کر رہا ہے تاکہ جنوبی غزہ میں کسی بھی فوجی کارروائی میں شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔

ہلاکتوں کی تازہ ترین رپورٹوں کے باوجود واشنگٹن میں اسرائیلی اہلکار نے کہا اسرائیل امریکہ اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ "تضاد سے متعلق میکانزم" کا استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا، "ہم نے اپنے شمالی غزہ آپریشنز سے سبق سیکھا اور ہم ان پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔"

تاہم طبی ماہرین اور عینی شاہدین نے بتایا کہ جمعہ کو ہونے والی بمباری جنوب میں خان یونس اور رفح میں سب سے زیادہ شدید تھی۔ شمال میں لڑائی کی وجہ سے غزہ کے لاکھوں باشندے وہاں پناہ گزین ہیں۔

خان یونس کے مشرقی علاقوں پر گرائے گئے کتابچوں میں چار قصبوں کے مکینوں کو انخلاء کا حکم دیا گیا- ماضی کی طرح خان یونس کے دیگر علاقوں میں نہیں بلکہ رفح کے جنوب میں انخلاء کا کہا گیا ہے۔

عربی میں لکھے گئے کتابچوں میں کہا گیا ہے کہ ''آپ کو خبردار کیا گیا ہے۔"

اسرائیل نے ایک نقشے کا لنک جاری کیا جس میں غزہ کو سینکڑوں اضلاع میں منقسم دکھایا گیا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں یہ بات بتانے کے لیے استعمال کیا جائے گا کہ کون سے علاقے محفوظ ہیں۔

رفح میں رہائشی خون سے لتھڑے اور مٹی میں اٹے ہوئے کئی چھوٹے بچوں کو ایک گھر سے باہر لے گئے جس پر حملہ ہوا تھا۔ محمد ابو النین جن کے والد اس گھر کے مالک ہیں، نے کہا کہ یہ دوسری جگہوں سے بے گھر ہونے والے لوگوں کو پناہ دے رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں