سعودی ٹینس فیڈریشن کی صدر اریج مطبقانی کی کھیل کے لیے آئندہ اہم سال کے بارے میں گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

2024 کے پہلے گرینڈ سلام میں ٹینس کی مشعل رسمی طور پر ایک سے دوسرے ہاتھ منتقل ہوئی جبکہ مردانہ مقابلوں کے ریکارڈ توڑ چیمپیئن نوواک جوکووچ کو آسٹریلین اوپن کے سیمی فائنل میں 22 سالہ نوآموز جینک سنر کے ہاتھوں شکست ہوئی جنہوں نے اپنی پہلی بڑی کامیابی کا دعوی کیا۔

راجر فیڈرر اور سرینا ولیمز ریٹائر ہو چکے ہیں اور رافیل نڈال اور اینڈی مرے بھی شاید اس سیزن میں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ریٹائرمنٹ کا راستہ لیں تو اس وقت ٹینس کا کھیل تبدیلی کی حالت میں ہے۔

مستقبل کے بارے میں یقیناً کچھ گھبراہٹ ہے لیکن کھیل کی ممکنہ سمت پر جوش و خروش کا احساس بھی ہے۔ مؤخر الذکر جذبہ سعودی عرب میں سب میں مشترکہ ہے جہاں ٹینس گذشتہ دو سالوں میں ایک جنون انگیز رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

مملکت میں کھیل کے تیز رفتار ارتقاء کی نگرانی سعودی ٹینس فیڈریشن کی صدر اریج مطبقانی کر رہی ہیں جنہوں نے 2021 میں یہ کردار سنبھالا۔ وہ گذشتہ چند مہینوں سے خاص طور پر مصروف ہیں۔

اکتوبر میں سعودی عرب نے اپنی خواتین کی پہلی ٹیم بلی جین کنگ کپ میں بھیجی اور عراق کے خلاف تاریخی فتح کا دعویٰ کیا۔ سعودی ٹیم بحرین میں منعقدہ گروپ تین کے ایشیا اور اوشیانا سیکشن میں 14 شریک ممالک میں چھٹے نمبر پر رہی۔

سعودی عرب کی پہلی بلی جین کنگ کپ ٹیم
سعودی عرب کی پہلی بلی جین کنگ کپ ٹیم

سعودی ٹینس کے وفد نے ایشین گیمز میں بھی حصہ لیا جبکہ آئی ٹی ایف ورلڈ ٹینس جونیئر ٹور کے دو مکس ایونٹس لگاتار دوسرے سال مملکت میں ہوئے۔

ان سب میں اعلیٰ ترین ایونٹ جدہ میں نیکسٹ جنریشن اے ٹی پی فائنلز کی میزبانی تھی جہاں گذشتہ موسمِ گرما میں ایک معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد 2027 تک دنیا کے بہترین انڈر 20 کھلاڑی سالانہ جمع ہوں گے۔

مطبقانی نے العربیہ کو بتایا، "نیکسٹ جنریشن اے ٹی پی فائنلز کو پانچ سال تک محفوظ بنانا ایک اہم کارنامہ تھا کیونکہ شرکاء اعلیٰ درجے کے کھلاڑی بھی ہیں اور خاصے نوجوان بھی جو سعودی عرب میں ٹینس کے کھلاڑیوں کی نئی نسل کی نظروں میں اپنائیت محسوس کریں گے۔"

"ان باصلاحیت رول ماڈلز کو قریب سے دیکھنا متأثر کن ہے اور ان سعودیوں کے لیے ٹینس کا ایک زبردست تعارف ہے جنہوں نے ابھی کھیل میں دلچسپی لینا شروع کی ہے۔ یہ دیکھنا حیرت انگیز تھا کہ تماشائی ان میں کتنے کھوئے ہوئے تھے۔

ریاض میں نوواک جوکووچ۔ (فراہم کردہ)
ریاض میں نوواک جوکووچ۔ (فراہم کردہ)

یہ اسی طرح کی کہانی تھی جب موجودہ عالمی نمبر 1 اور نمبر 2 نوواک جوکووچ اور کارلوس الکاراز دسمبر میں ریاض میں ایک نمائشی میچ میں مقابل آئے۔ اس طرح کی تقریبات کی میزبانی کا مقصد کھیل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور اس کے نتیجے میں شرکت میں اضافہ کرنا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نچلی سطح پر ٹینس اس وقت اوپر کی جانب گامزن ہے۔

اريج مطبقانی کہتی ہیں، "مزید اکیڈمیاں کھل رہی ہیں اور پائپ لائن میں کئی منصوبے ہیں جن میں ٹینس کورٹ کی تعمیر بھی شامل ہے۔ میرے خیال میں یہاں ہونے والے ایونٹس نے ٹینس کے لیے اس جذبے کو جلا بخشی ہے اور ٹینس کی سہولیات اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے مزید سرمایہ کاری آرہی ہے۔"

وہ امید کرتی ہیں کہ یہ ٹینس کو مزید لوگوں کے لیے قابلِ رسائی بنانے کے لیے ایک مثبت قدم ہوگا۔

مطبقانی نے کہا، "مثلاً ہم یونیورسٹیوں میں مزید کورٹس بنتے دیکھ رہے ہیں اور ہم کھیل کی وزارت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ انہیں نہ صرف طلباء اور فیکلٹی بلکہ عام لوگوں کے لیے کھولا جا سکے۔"

پیشہ ورانہ سطح پر سعودی عرب کو حالیہ مہینوں میں خواتین کے دو اعلیٰ سطحی پروفیشنل ٹورنامنٹس کی ممکنہ میزبانی سے منسلک کیا گیا ہے: بلی جین کنگ کپ جسے عموماً 'ورلڈ کپ آف ٹینس' کہا جاتا ہے اور سیزن کے اختتام پر خواتین ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) کے فائنلز۔

مؤخر الذکر واقعہ حال ہی میں بہت زیادہ بحث کا باعث رہا ہے جس میں لیجنڈری سابق کھلاڑی مارٹینا ناوراتیلووا اور کرس ایورٹ نے مملکت میں ایونٹ کے ممکنہ انعقاد کے خلاف مشترکہ عوامی بیان جاری کیا۔

اس مؤقف کو بعد میں ریاست ہائے متحدہ میں موجودہ سعودی سفیر عزت مآب شہزادی ریما بنت بندر آل سعود نے تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے اپنا موجودہ سفارتی کردار اپنانے سے پہلے مملکت میں کھیلوں میں شرکت کو مزید قابلِ رسائی اور جامع بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

شہزادی ریما نے کہا، دونوں سابق کھلاڑیوں نے "انہی خواتین سے منہ موڑ لیا جن کو اُنہوں نے متأثر کیا ہے اور یہ انتہائی مایوس کن ہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "سعودی عرب میں خواتین کی شاندار ترقی کو تسلیم کرنے میں ناکامی ہمارے شاندار سفر کی توہین ہے۔ اس سے نہ صرف کھیلوں میں خواتین کی ترقی کو بلکہ افسوس ناک طور پر خواتین کی مجموعی ترقی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔"

"کھیلوں کو ذاتی تعصب یا ایجنڈوں کو آگے بڑھانے یا کسی ایسے معاشرے کو سزا دینے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جو ٹینس کو اپنانے اور اس کی خوشی منانے اور آگے بڑھانے میں مدد کرنے کے لیے بے چین ہو۔"

مارٹینا ناوراتیلووا اور کرس ایورٹ کے برعکس موجودہ عالمی نمبر 6 اور تین بار کی گرینڈ سلیم رنر اپ اونس جابیور نے اس امید کا اظہار کیا کہ سعودی عرب میں خواتین کے ایک بڑے ٹورنامنٹ کی میزبانی ہو سکتی ہے۔ مطبقانی مستقبل میں تیونسی اسٹار کے اثر و رسوخ سے مزید فائدہ اٹھانے کے لیے پر امید ہیں۔

 اونس جابیور ریاض سیزن۔ (فراہم کردہ)
اونس جابیور ریاض سیزن۔ (فراہم کردہ)

مطبقان نے کہا، "میرے خیال میں اونس ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور وہ ہمیشہ سے ڈبلیو ٹی اے کے سعودی عرب آنے کے امکان کے بارے میں بہت مثبت سوچ کی حامل رہی ہیں۔ ہم ابھی تک اس بات کی کھوج کر رہے ہیں کہ ٹینس کو فروغ دینے کے لیے اونس کے ساتھ ممکنہ طور پر ہم کیسے تعاون کر سکتے ہیں کیونکہ وہ یہاں اور پورے شرقِ اوسط کی تمام لڑکیوں کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔"

"ہم اب بھی بہت پر امید ہیں کہ سعودی عرب میں خواتین کا ایک بڑا ایونٹ ہوگا لیکن ابھی تک کچھ بھی طے نہیں ہوا ہے۔ ڈبلیو ٹی اے کے ساتھ بات چیت اب بھی جاری ہے لیکن میں پر امید ہوں کہ کچھ ہونے والا ہے۔ خواتین کی شرکت ہمارے لیے ناقابلِ یقین حد تک اہم ہے۔"

جنوری میں ایک اور بڑا فروغ اس وقت آیا جب 22 مرتبہ کے گرینڈ سلیم چیمپئن رافیل نڈال کا سعودی ٹینس سفیر کے طور پر اعلان کیا گیا جس کا مقصد "کھیل کی ترقی کو فروغ دینا" ہے۔ اس شراکت داری میں مملکت میں رافیل نڈال اکیڈمی کی عمارت شامل ہوگی۔

مطبقانی کہتی ہیں، "یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ انہوں نے ہماری مدد کی اور ان تمام عظیم اقدار کی نمائندگی کی جن کے لیے وہ کھڑے ہیں۔ وزارتِ کھیل کا تعاون بہت اہم رہا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ سہولیات کی تخلیق اور تربیت کے طریقہ کار کو استعمال کرنا ہمارے لیے مددگار ثابت ہو گا جس نے رافیل کو کامیاب بنایا ہے۔"

"ماناکور (اسپین) میں رافیل نڈال اکیڈمی کے ساتھ بھی تعاون کیا جائے گا۔ ہم علم و ہنر کا اشتراک کریں گے۔ یہ ایک اور قدم آگے ہے۔"

نچلی سطح پر کھیل کو فروغ دینے کی اہمیت کے باوجود یہ بات ناگزیر ہے کہ سعودی عرب کو اس حوالے سے بھی دیکھا جائے گا کہ آیا وہ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں سے مقابلہ کرنے کے قابل پیشہ ور کھلاڑی پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن یہ ہونا بھی کتنا دور ہے؟

مطبقانی نے کہا، "اس کا جواب دینا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ ایک طویل المدتی منصوبہ ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگلے 10 سالوں میں امید ہے ہم کچھ اعلیٰ سعودی ٹیلنٹ دیکھ سکیں گے۔ میں گرینڈ سلیم کے مقابلے کے بارے میں بات نہیں کر رہی حالانکہ یقیناً یہی حتمی مقصد ہوگا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں