اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئی غزہ جنگ بندی پر ووٹنگ پیر تک ملتوی: سفارت کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سفارتی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیل-حماس جنگ میں "فوری" جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے ایک نئے متن پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ووٹنگ پیر تک ملتوی کر دی گئی۔ قبل ازیں امریکہ کے زیرِ قیادت ایک علیحدہ مسودہ قرارداد ویٹو ہو گئی تھی۔

اسرائیل کے اہم اتحادی اور فوجی حمایتی امریکہ نے ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں "فوری اور پائیدار جنگ بندی کی ضرورت" کا ذکر تھا اور حماس کے سات اکتوبر کے حملے کی مذمت کی گئی تھی۔

روس اور چین نے جمعے کے روز اس قرارداد کو ویٹو کر دیا جو اسرائیل سے غزہ میں اپنی مہم فوری طور پر ختم کرنے کا واضح مطالبہ کرنے سے رہ گئی۔

سفارتی ذرائع نے بتایا کہ جنگ بندی کے نئے متن کا مقصد ہفتے کے روز ووٹنگ کے لیے جانا تھا لیکن مسودے پر مزید بات چیت کی اجازت دینے کے لیے اسے روک دیا گیا۔

اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1,160 سے زائد افراد جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، سات اکتوبر کو اس وقت ہلاک ہو گئے جب مزاحمت کاروں نے ملک کے مہلک ترین حملے میں اسرائیل میں دراندازی کی۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر کنٹرول کرنے والی حماس کو ختم کرنے کا عزم کیا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی انتقامی مہم میں 32,000 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں اور اقوامِ متحدہ نے علاقے میں قحط کے قریبی خطرے سے خبردار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں