زبان پھر پھسل گئی، بائیڈن نے اپنی نائب کو ’’ صدر کمالا ہیرس‘‘ کہ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن کی زبان کی پھسلن ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اپنے صدر بننے سے لے کر اب تک ان کی زبان کئی مرتبہ پھسل چکی ہے۔ اب نئے واقعہ میں کینیا کے اپنے ہم منصب ولیم روٹو کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران بائیڈن کی زبان کی نئی لغزش نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کردیا۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے اپنی نائب صدر کو "صدر کملا ہیرس" کے طور پر بیان کردیا۔ یہ صرف ایک بار نہیں ہوا بلکہ بائیڈن نے کم از کم آٹھویں بار کملا ہیرس کو ’’ صدر‘‘ کے طور پر بیان کر چکے ہیں۔ اپنے ابتدائی کلمات میں بائیڈن نے ہمارے ملک کی پہلی سیاہ فام نائب صدر’’ صدر کملا ہیرس‘‘ کا حوالہ دیا۔ 32 منٹ تک جاری رہنے والی کانفرنس کے دوران امریکی صدر بار بار الجھتے نظر آئے۔

ہیٹی میں فوجیں نہ بھیجنے کے امریکی فیصلے کے بارے میں ایک رپورٹر کے سوال کے جواب میں بائیڈن یہ دعویٰ کرتے نظر آئے کہ امریکی فوجی وسطی افریقہ میں جمہوریہ کانگو میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا "ہم دنیا میں پوری طرح سے مصروف ہیں لیکن ہم پڑوسی خطے میں کانگو میں بھی مصروف ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہم وہاں انسانی تکالیف کو کم کرنے میں مدد کرتے رہیں گے‘‘ ۔ یاد رہے امریکہ کی جانب سے اس طرح کی تعیناتی کا کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

دریں اثنا بائیڈن نے وائٹ ہاؤس کے پریس عملے پر تنقید کرتے ہوئے شکایت کی کہ نامہ نگار کبھی بھی معاہدے کی پاسداری نہیں کرتے۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کی جب ایک صحافی نے ان سے ہیٹی میں امریکہ کے تعاون سے امن قائم کرنے کی کوششوں کے بارے میں پوچھا۔

پھر صحافی نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان کی طرف سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو اور وزیر دفاع گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست کے متعلق دوسرا سوال کیا۔ بائیڈن نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے سوال کا جواب پھر دوں گا۔

تاہم صحافی نے سکون سے بات جاری رکھی اور اپنا سوال دوبارہ پوچھا تو بائیڈن نے اسے جواب دیا کہ دیکھیں ہم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سامنے اپنے موقف کا اعلان کیا ہے۔ آپ لوگ کبھی بھی معاہدے کو برقرار نہیں رکھتے لیکن یہ ٹھیک ہے۔

بائیڈن نے مزید کہا ہم بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دائرہ اختیار کو اس طریقے سے تسلیم نہیں کرتے جس طرح سے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان مساوات قائم کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں