اسرائیلی وزیر اعظم کی سامنے آنے والی ویڈیو جس میں وہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم نہ کرنے پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اب وائٹ ہاؤس کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں نیتن یاہو کی آئندہ تقریر کے حوالے سے تشویش لاحق ہوگئی ہے۔ ویب سائٹ ’’پولیٹیکو‘‘ کی طرف سے شائع رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کا خیال ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم غزہ میں حماس کے خلاف جنگ کی خاطر خواہ حمایت نہ کرنے کے بہانے صدر جو بائیڈن پر تنقید کرنے کے لیے سیشن کا استعمال کر سکتے ہیں۔
دریں اثنا نیتن یاہو تقریر اگلے مہینے کریں گے اور اس میں وہ دوبارہ انتخاب لڑنے والے صدر کے لیے سفارتی طور پر پیچیدہ اور سیاسی طور پر خطرناک منظر پیدا کر سکتے ہیں۔ ایک سینئر اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کو اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس ہفتے نیتن یاہو کی ویڈیو بالکل بھی مددگار نہیں تھی۔ اس ویڈیو سے کانگریس کے سامنے معاملہ مزید خراب ہو سکتا ہے۔ ایک اور سینئر اہلکار نے زیادہ واضح طور پر کہا کہ کوئی نہیں جانتا کہ نیتن یاھو کیا کہیں گے۔
حکام کے مطابق نیتن یاہو کی جانب سے گزشتہ چند دنوں میں لگائے جانے والے الزامات نے ان کی حکومت اور بائیڈن انتظامیہ کے درمیان تعلقات کو اندھیرے میں ڈال دیا ہے۔ یاھو کے اس ویڈیو بیان سے بائیڈن کے معاونین کو بہت مایوسی ہوئی ہے۔
دریں اثنا بائیڈن انتظامیہ نے نیتن یاہو کی ویڈیو کی اشاعت کے بعد ایران سے متعلق اعلیٰ سطح کی امریکی اسرائیل اجلاس ملتوی کر دیا۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق اس ہفتے تک وائٹ ہاؤس نے ابھی تک نیتن یاہو کو بائیڈن سے ملاقات کا دعوت نامہ نہیں بھیجا تھا۔ وہ 24 جولائی کو اپنی طے شدہ تقریر کے لیے واشنگٹن آئیں گے۔
ان عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی دعوت دیے جانے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر اگر بائیڈن اور نیتن یاھو کی ملاقات نہیں ہوتی تو یہ نیتن یاھو کے منہ پر ایک بڑا طمانچہ ہوگا تاہم بائیڈن اپنے اسرائیلی ہم منصب کے لیے اس طرح کی عوامی سرزنش کرنے پر مائل نہیں ہیں۔
خیال رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ بائیڈن کے معاونین کا خیال ہے کہ اسرائیلی رہنما اقتدار میں رہنے کے لیے تنازع کو طول دینے کے لیے کام کر رہے ہیں اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کو ترجیح دیتے ہیں۔
جنگ نے بائیڈن کے لیے ایک گہرا سیاسی مخمصہ پیدا کردیا ہے۔ ایک طرف ریپبلکنز نے انہیں اسرائیل کی مناسب حمایت نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تو ساتھ ہی ان کی پارٹی کے کچھ ارکان نے فلسطینی شہریوں کو تحفظ نہ دینے پر ان پر تنقید کے تیر برسائے ہیں۔