سرینا ولیمز، ٹینس کی وہ مشہور کھلاڑی جو انعامات کے پیسے وصول کرنا بھول جاتی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اپنے ٹینس کیریئر کے ابتدائی دنوں میں سرینا ولیمز کو جیتنے کا اتنا خیال تھا کہ وہ بار بار اپنی ٹرافیاں اور انعامات اکٹھی کرنا بھول جاتی تھیں۔

ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن کے مطابق 42 سالہ ولیمز نے 2022 میں ریٹائر ہونے سے قبل بطور ٹینس کھلاڑی 94.8 ملین ڈالر کی انعامی رقم جیتی۔ اپنے کیریئر کے شروع میں ہی انہوں نے اپنے انعامات کا ایک حصہ چھوڑ دیا تھا۔ وہ اپنی پرفارمنس پر اتنی توجہ مرکوز کر رہی تھیں کہ وہ معاوضہ حاصل کئے بغیر ہی چلی جاتی تھیں۔ انہوں نے یہ سب ویب سائٹ "فرسٹ وی میٹ" کے یوٹیوب چینل پر ’’ہاٹ ونز‘‘ کے نام سے پروگرام میں بتایا۔

سرینا ولیمز نے اپنے 27 سالہ کیریئر کے دوران 23 گرینڈ سلیم ٹائٹلز اور 73 ٹائٹل جیتے ہیں۔ ٹینس سٹار نے بتایا کہ میں نے ایک ملین ڈالر کا چیک اے ٹی ایم کے ذریعے جمع کرانے کی کوشش کی تھی ۔ میرے پہلے سال کے گرینڈ سلیم ٹورز میں شرکت کے دوران انعامات بھی جمع نہیں ہو سکے تھے۔ میں کبھی پیسوں کے لیے نہیں کھیلی۔ میں اس لیے کھیلتی تھی کہ مجھے کھیل سے پیار تھا اور میں جیتنا چاہتی تھی۔

یاد رہے امریکی بینکوں میں آٹومیٹڈ ٹیلر مشین (اے ٹی ایم) سسٹم بغیر کسی حد کے چیک ڈپازٹس کو قبول کر سکتا ہے لیکن 10 ہزار ڈالر سے زیادہ کی قیمت والے چیک کے لیے پہلے انٹرنل ریونیو سروس سے منظوری لینا ہوتی ہے۔ سرینا ولیمز کا پروفیشنل ڈیبیو 1995 میں کینیڈا کے کیوبیک سٹی میں ہوا۔ انہوں نے بیلے چیلنج میں کوالیفائنگ میچ ہارا تھا۔ سرینا ولیمز نے بتایا کہ اس وقت مجھے 240 ڈالر کا چیک وصول ہوا اور ان کی عمر 14 سال تھی۔ مجھے یہ رقم خرچ کرنے کی کوئی جلدی نہیں تھی۔

ان کے مطابق جیسے ہی ایوارڈز میں اضافہ ہوا اور ولیمز کو ایک ملین ڈالر کا پہلا چیک ملا تو بھی رقم کا انہیں خیال ہی نہیں تھا۔ انہوں نے یاد کیا کہ میرے آس پاس کے لوگ ڈالر نمبر کے بارے میں پرجوش تھے لیکن وہ صرف اتنا کرنا چاہتی تھی کہ اسے جمع کر کے کام پر واپس آجاؤں۔ ولیمز نے کہا میں نے کبھی بھی زیادہ پیسہ خرچ نہیں کیا۔

ٹینس سٹار نے یاد کیا کہ جیسے جیسے ان کا کیریئر آگے بڑھا۔ "ٹیکس مین" کو مجھے یاد دلانا پڑتا تھا کہ میں اپنے دورے کے دوران خود کو ملنے والی رقم بھی وصول کرلوں۔

انہوں نے کہا میں ایسی ہی تھی مجھے زیورخ میں میری رقم نہیں ملی تھی۔ میں ماسکو میں بھی انعام کی رقم لینا بھول گئی تھی۔ میں جیتنے کے لیے کھیل رہی تھی۔ جب میں نہ بھی جیت سکی تو میں نے صرف اپنی غلطیوں کے بارے میں سوچا اور یہ سوچا کہ اگلی بار جیتنے کے لیے ان غلطیوں کو کیسے ٹھیک کیا جائے۔

سرینا نے مئی میں بلومبرگ چینل کے "دی ڈیل" پوڈ کاسٹ میں یہ بات بتائی تھی کہ ان کے ابتدائی کیریئر کے تجربات ان کی مالی خواندگی کی تعلیم کا حصہ تھے۔ جب انہوں نے نوعمری میں اپنا پیسہ کمانا شروع کیا تو ان کے والد رچرڈ نے انہیں سکھایا کہ وہ رقم کی خرچ کی بھی ذمہ دار ہوگی۔

ولیمز نے کہا کہ مجھے اس کا پتہ لگانا پڑا تھا اور اسے بہت چھوٹی عمر سے ہی اس کا انتظام کرنا سیکھنا پڑا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب پوما اور نائکی جیسی کمپنیوں کے ساتھ سپانسرشپ کے سودوں پر غور کرنے کا وقت آیا تو وہ ہمیشہ میز پر بیٹھتی تھی۔

انہوں نے کہا میں 16 سال کی تھی، میرے والد گفت و شنید کرتے تھے وہ وہ چاہتے ہیں کہ میں ہر وقت اس بات کو یقینی بناؤں کہ میں جانتی ہوں کہ مجھے مستقبل میں کیا کرنا ہے۔ میں نے ابتدا میں ہی سیکھ لیا کہ ٹینس کی تنخواہ آپ کی سب سے چھوٹی آمدن ہونی چاہیے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں اس آمدن کی رقم کے بارے میں بھول جاتی تھی۔

اس ضمن میں گزشتہ سال سی این بی سی کو سے بات کرتے ہوئے یو بی ایس ویلتھ مینجمنٹ میں فیملی ایڈوائزری کے سربراہ ایرک لینڈولٹ مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کو ذاتی مالیات کے اسباق سکھائے جائیں۔ اگر آپ 5 سے 8 سال کی عمر میں بچوں کو بنیادی مالیاتی اسباق پڑھانا شروع کر دیتے ہیں تو وہ 8 سے 12 سال کی عمر میں بچت، خرچ اور سرمایہ کاری جیسے تصورات کے بارے میں سیکھنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں