گردے کا عطیہ اب ڈاکٹروں کے خیال سےکہیں زیادہ محفوظ ہے: نئی تحقیق
محققین نے بتایا ہے کہ جو لوگ رضاکارانہ طور پر گردے کا عطیہ دیتے ہیں انہیں اس طریقہ کار سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے جتنا کہ ڈاکٹروں نے طویل عرصے سے سوچا تھا۔
اس تحقیق میں زندہ لوگوں کے گردے کے عطیات کے 30 سال کا پتہ لگایا گیا اور پتہ چلا کہ 2022 تک، 10,000 عطیہ دہندگان میں سے 1 سے بھی کم سرجری کے تین ماہ کے اندرفوت ہوئے۔
ٹرانسپلانٹ مراکز پرانے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہیں۔ فی 10,000 زندہ عطیہ دہندگان میں 3 اموات کا حوالہ دیا گیا۔
صحت کے شعبے میں سرگرم ’این وائی یو‘ لینگون ہیلتھ کے ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر ڈوری سیگیو نے کہا کہ "گزشتہ دہائی زندہ عطیہ دہندگان کے لیے آپریٹنگ روم میں زیادہ محفوظ ہو گئی ہے"۔ ان کی یہ تحقیق JAMA جریدے میں شائع کی گی ہے۔
سیگیو نے مزید کہا کہ جدید ترین جراحی کی تکنیکیں بنیادی وجہ ہیں جن کی بدولت حفاظت میں بہتری آئی اور شاید زندہ عطیہ دہندگان کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہوا۔
SGBF اکثر اعضاء کی پیوند کاری کے وصول کنندگان کو عطیہ دہندگان کے لیے ممکنہ خطرات کے بارے میں خود ممکنہ عطیہ دہندگان کی نسبت زیادہ فکر مند پایا جاتا ہے۔
ڈاکٹرسیگیو نے کہا کہ "ان کے لیے اپنے دوستوں یا خاندان والوں کو ان کی طرف سے عطیہ دینے کی اجازت دینا زیادہ اطمینان بخش ہے"۔
ہر سال ہزاروں افراد اعضاء کی پیوند کاری کے انتظار میں مر جاتے ہیں۔ زندہ لوگ اپنا ایک گردہ یا اپنے جگر کا کچھ حصہ عطیہ کر سکتے ہیں جو واحد عضو ہے جو دوبارہ پیدا ہوتا ہے۔
امریکہ کی گردے کی پیوند کاری کی فہرست میں تقریباً 90,000 افراد کے ساتھ زندہ عطیہ دہندگان کی تلاش نہ صرف طویل انتظار کو کم کرتی ہے بلکہ یہ اعضاء بھی مردہ عطیہ دہندگان کے مقابلے میں زیادہ دیر تک قائم رہتے ہیں۔
تاہم پچھلے سال ملک کے 27,000 سے زیادہ گردے کی پیوند کاری میں سے صرف 6,290 زندہ عطیہ دہندگان کی طرف سے آئے، جو کہ وبائی مرض سے پہلے کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔