چار قوی عوامل جو میاں بیوی کے درمیان طلاق کا سبب بن سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

سال 1992 میں کلینکل سائیکولوجسٹ اور شادی کے امور کے مشیر جون گوٹمین نے شادیوں اور طلاقوں کے اعداد و شمار پر ایک مطالعاتی تحقیق کی۔ اس میں جون نے بعض شادیوں کے بارے میں پیش گوئی کی تھی کہ ان کا اختتام طلاق کی صورت میں ہو گا۔ حیرت انگیز طور پر یہ پیش گوئی 94% تک درست ثابت ہوئی۔ اس تحقیق میں جون کے ساتھ ان کی اہلیہ جولی گوٹمین بھی شامل تھیں۔

انگریزی ویب سائٹ Psychology Today کی رپورٹ کے مطابق جون اور جولی کے تحقیقی مطالعے میں ان مرکزی محرکات پر روشنی ڈالی گئی جو شادی کی کامیابی یا ناکامی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق چار اہم عوامل ایسے ہیں جن کی مستقل موجودگی طلاق کے خطرے کی گھنٹی بجاتی ہے۔ وہ چار عوامل یہ ہیں :

طلاق
طلاق

1. تنقید

جون گوٹمین کے مطابق ازدواجی تعلق کے اندرونی مسائل کو شریک حیات کی خامیوں کے براہ راست نتیجے کے طور پر پیش کرنے کو تنقید کہتے ہیں۔ سادہ سی شکایت یا کسی مخصوص غلطی کے بر عکس تنقید شریک حیات کی شخصیت پر براہ راست حملہ ہوتا ہے۔ یہ رویہ نقصان دہ ہو سکتا ہے کیوں کہ یہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹا کر شریک حیات کی خامیوں پر مرکوز کر دیتا ہے۔ مثلا ایک حقیقی یا قدرتی شکوہ یہ ہے کہ بیوی شوہر سے یہ کہے کہ "میں کل بہت پریشان ہو رہی تھی کیوں کہ آپ نے کال کر کے مجھے یہ نہیں بتایا کہ آپ دوستوں کے ساتھ ہیں اور واپسی میں تھوڑی دیر ہو جائے گی"۔ اس اسلوب میں بیوی نے شوہر کی ذات پر براہ راست حملہ نہیں کیا۔ اس کے برعکس بیوی کا تنقیدی اسلوب کچھ اس طرح ہو سکتا ہے کہ "آپ ہمیشہ مجھے اپنے حلقہ احباب اور دل چسپیوں سے دور رکھتے ہیں اور میرے احساسات کا کبھی خیال نہیں کرتے ، میں کبھی اس طرح کی خود غرضی کا مظاہرہ نہیں کر سکتی"۔ یہاں بیوی کے اسلوب نے توجہ برتاؤ سے ہٹا کر شوہر کی شخصیت کے منفی تجزیے کی جانب کر دی۔

طلاق
طلاق

2. دفاعی رویہ

دفاعی رویہ وہ کوشش ہے جو شریک حیات اپنی ذات کو بچانے یا محفوظ رکھنے کے لیے اپناتا ہے۔ بیشتر اوقات یہ کوشش سامنے سے کی جانے والی تنقید کے جواب میں ہوتی ہے۔ اس دفاعی رویے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں اور دونوں ہی ازدواجی تعلق کو برباد کرنے والی ہیں۔ پہلی صورت "مظلومیت کا موقف" ہے۔ اس میں شریک حیات اپنی غلطی کے عُذر تلاش کرتا ہے تا کہ ایسا لگے کہ وہ بے قصور خطا وار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ مثلا : اگر بیوی نے شوہر سے پوچھا کہ اس نے آگاہ نہیں کیا تھا کہ وہ رات دیر تک دوستوں کے ساتھ باہر رہے گا۔ تو جواب میں شوہر کہے گا "میں طویل عرصے سے اپنے دوستوں سے نہیں ملا تھا اور تم تو جانتی ہو کہ مجھے ان کو دیکھنے کی کتنی شدید خواہش تھی ... کیا میرا اتنا حق نہیں کہ میں ایک رات لطف اندوز ہو کر گزار لوں؟". یہاں ملامت شوہر کے عمل سے ہٹ کر شریک حیات کی جانب سے ظلم کے تصور کی جانب منتقل ہو جاتی ہے۔

دوسری صورت "سخت موقف کے ساتھ مزاحمت" ہے۔ اس میں شوہر اپنی بیوی کی جانب سے تنقید کا مقابلہ جوابی نکتہ چینی کی کوشش سے کرتا ہے۔ مثلا اگر بیوی سے شوہر سے کسی کام کا وعدہ کیا تھا اور وہ کرنا بھول گئی تو وہ اس طرح جواب دے گی "آج میرا دن مصروفیت سے بھرا ہوا تھا۔ جب آپ کو یہ بات معلوم تھی تو آپ نے خود یہ کام کیوں نہیں کر لیا؟". گویا اس نے اصل مسئلے کو مکمل طور پر نظر کر کے شوہر کی غفلت پر نکتہ چینی شروع کر دی۔ اس بات سے انکار نہیں کہ ہر کوئی دفاعی رویے پر اعتماد کر سکتا ہے تاہم اس کے مستقل استعمال کا نتیجہ صرف ازدواجی تعلقات کی اندرونی مشکلات کے حل میں تاخیر کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس لیے کہ یہ پوچھ گچھ سے بچنے کا شان دار ہتھیار ہے۔ البتہ درست تعلقات میں شرکائے حیات کو اپنی غلطی یا کوتاہی کی ذمے داری قبول کرنے میں کوئی خاص مشکل نہیں پیش آتی۔

طلاق
طلاق

3. حقارت

تیسرا اور یقینا سب سے شدید عامل حقارت ہے جس میں شریک حیات پر برتری کا خیال غضب ناک تبصرے اور بیان شامل کر دیتا ہے۔ جون گوٹمین کے مطابق یہ طلاق کے حوالے سے سب سے خطرناک اشاریہ ہے۔ حقارت عموما شدید ناراضی یا غصے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں مثلا تضحیک، توہین، گالم گلوچ اور نا مناسب جسمانی زبان وغیرہ۔ واضح رہے کہ حقارت ازدواجی تعلقات پر تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہے۔ حقارت کی موجودگی میں مسائل کا حل ممکن نہیں کیوں کہ اس کو نظر انداز کر دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔

4. دست برداری اور اجتناب

چوتھا اور آخری عامل راہ فرار یا اجتناب ہے۔ اس میں شریک حیات کے ساتھ بات چیت مکمل طور پر روک دینا شامل ہے۔ یہ مکمل اجتناب عموما دیگر عوامل کے جواب میں سامنے آتا ہے جن میں اکثر اوقات وجہ حقارت ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں انسان اپنی ذات کے اندر بند ہو جاتا ہے۔ وہ شدید غصے سے بھرا رہتا ہے یا مجروح ہوتا ہے یا پھر سوچ میں اس حد تک ڈوبا رہتا ہے کہ سامنے والے کو سننا بند کر دیتا ہے اور شریک حیات پر اس کا اظہار بھی کرتا ہے۔ مثلا : وہ اشاروں پر توجہ دینا چھوڑ دیتا ہے جیسے سر جھکانا، آنکھوں سے رابطہ یا چہرے کے تاثرات وغیرہ، وہ کسی بات چیت میں حصہ نہیں لیتا اور وہ شریک حیات کو نظر انداز کرتا ہے اور خود کو دوسری چیزوں میں مصروف ظاہر کرتا ہے ... تاہم نظر انداز کرنا اور اجتناب کرنا مسائل حل کرنے یا مصالحت میں مدد گار نہیں ہوتا ہے کیوں کہ شریک حیات یہ محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ پتھر کی دیوار سے گفتگو کر رہا ہے۔ اس کے پاس رابطے کا کوئی اور طریقہ نہیں ہوتا اور اس طرح اس کے پاس تعلق دوبارہ جوڑنے کے لیے پیش رفت کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا !

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں