حزب اللہ کے قبضے میں پھٹنے والی ’پیجر‘ ڈیوائسز کس نے ایجاد کیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

منگل بدھ کے روز لبنان میں حزب اللہ کے زیراستعمال پیجرز ڈیوائسز کے دھماکوں سے لرز اٹھا تھا جس میں 12 افراد ہلاک اور 3000 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد پوری دنیا کی توجہ لبنان پر مرکوز ہے۔

پیجر کو ایک محفوظ مواصلاتی آلہ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ میں انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہے، جس سے اس کے ہیک ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اسے دسیوں کلومیٹر کے فاصلے پر ریڈیو پیغامات بھیجنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈیوائس کو پہلے بھی بہت سے شعبوں میں استعمال کیا جا چکا ہے، خاص طور پر ہسپتالوں میں یہ رابطے کا ایک بہترین ٹول رہا ہے۔

الفرڈ جے گروس کا وائرلیس کمیونیکیشن کا جنون

دوسری جنگ عظیم کے دوران فوجی مواصلاتی کارروائیوں نے دو اہم ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کی۔ ٹیلی کمیونیکیشن بنیادی طور پر ریڈیو ٹرانسمیشنز پر مبنی تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے ساتھ وائرلیس مواصلات کے شعبے میں قابل ذکر ترقی دیکھنے میں آئی۔ 1949ء میں وائرلیس کمیونیکیشن کے شعبے میں ماہر موجد الفریڈ جے گروس جسے ’ارونگ ال گروس‘ بھی کہا جاتا ہے ٹورنٹو، کینیڈا میں 22 فروری 1918ء کو پیدا ہوئے۔ انہیں پیجر کے پہلا ورژن کا موجد سمجھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ الفریڈ گروس نے ہجرت کی اور اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ منتقل ہوگئے۔ وہ اپنے بچپن سے ہی ریڈیو آلات کی تیاری کے زبردست شوقین تھے۔ انہوں نے بہت سے ریڈیو چینلز کی پیروی کی اور ایک موقع پر اپنے گھر کے تہہ خانے کو اس نے جمع کیے ہوئے اسکریپ کے ٹکڑوں کی بنیاد پر ریڈیو اسٹیشن میں تبدیل کیا۔ سولہ سال کی عمر میں الفریڈ گرس نے شوقیہ ریڈیو لائسنس حاصل کیا اور اپنے کال سائن کو اپنانے کا ارادہ کیا۔

سنہ 1936ء میں گروس نے کلیولینڈ میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلر آف سائنس کے لیے تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور 100 میگا ہرٹز سے اوپر کے فریکوئنسی والے علاقے میں کام کرنا شروع کیا۔ 1941 میں الفریڈ گروس ریڈیو کا اپنا ورژن بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران الفریڈ گروس نے Joan-Eleanor ٹرانسمیشن سسٹم کو تیار کرنے میں ایک محدود کردار ادا کیا، جس پر امریکی فوج، ٹرانسمیشن اور ریسپشن آپریشنز کے دوران اکثر خفیہ کاری کی ضرورت کے بغیر انحصار کرتی تھی۔ اس نظام کو اونچی پرواز کرنے والے بمبار طیاروں کے ساتھ مختصر مدت کے لیے بات چیت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

پیجر کی ایک تاثراتی تصویر
پیجر کی ایک تاثراتی تصویر

پیجر کا عروج و زوال

دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر الفریڈ گروس نے اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی، جسے Gross Electronics کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس کا مقصد ایک دو طرفہ مواصلاتی نظام قائم کرنا تھا۔ یہ یو ایس فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن کی طرف سے ذاتی ریڈیو سروسز کے لیے فریکوئنسی مختص کرنے کی منظوری کے دوران قائم کی گی۔

ایف سی سی کی منظوری کے ساتھ الفریڈ گروس نے 100,000 سے زیادہ واکی ٹاکیز تیار کیں جو بنیادی طور پر کسانوں اور امریکی کوسٹ گارڈ کو فروخت کی گئیں۔

سنہ 1949ء تک الفریڈ گروس نے وائرلیس کمیونیکیشن کے میدان میں بے مثال جدت حاصل کی تھی۔ اسی سال اس امریکی موجد نے دو طرفہ ریڈیو اور ٹرانسمیشن ڈیوائسز میں ترمیم کرنے میں کامیابی حاصل کی جس کا مقصد انہیں اس قابل بنانا تھا کہ وہ فاصلے پر ٹیلی فون اور وائرلیس سگنلز کے لیے ایک سمت اختیار کر سکیں۔ اس کی بدولت الفریڈ گروس نے پہلا ٹیلی فون پیجر سسٹم ایجاد کیا۔

نیویارک میں 1950ء میں پہلی پیجر سروسز کا آغاز کیا گیا جہاں بہت سے ڈاکٹروں نے اس سروس کے لیے 12 ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا، جس سے انہیں ضرورت پڑنے پر ہسپتالوں میں رابطے میں مدد ملی۔ اس عرصے کے دوران ان ڈاکٹروں کے پاس 200 گرام وزنی ڈیوائسز تھیں جن کی مدد سے وہ یونیفائیڈ ٹرانسمیشن ٹاور سے 40 کلومیٹر دور پیغامات وصول کر سکتے تھے۔

اگلی دہائیوں کے دوران پیجرز کا استعمال تیار ہوا کیونکہ انہیں کچھ کمپنیوں نے آٹوموبائل میں شامل کیا تھا۔ اس کا استعمال کئی دہائیوں تک جاری رہا۔ اس کے بعد یہ مواصلاتی آلہ پس منظرمیں چلا گیا مگرحزب اللہ کے ارکان کے قبضے میں پھٹنے کے بعد یہ ایک بارپھر منظر عام پر آگیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں