’’ وما بینھما ‘‘ کے عنوان سے جدہ میں آرٹس بینالے کا دوسرا ایڈیشن
25 جنوری سے 25 مئی 2025 تک کی نمائش میں اسلامی تاریخ کے 500 فن پارے ہوں گے
الدرعیہ بینالے فاؤنڈیشن 25 جنوری سے 25 مئی 2025 تک جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مغربی حجاج ہال میں اسلامی فنون کے دوسرے ایڈیشن کا انعقاد کر رہی ہے۔ اس بینانے کا عنوان ’’ وما بَینَھُما ‘‘رکھا گیا ہے اس نمائش میں اسلامی تاریخ کے 500 سے زائد فن پارے اور عصری آرٹ کے کام کو ایک چھتری تلے جمع کیا جارہا ہے۔ اسلامی ورثے اور تہذیب کی دولت اور اس کے تخلیقی اظہار کی مختلف شکلوں پر غور کرنے کی دعوت دی جائے گی۔
وزیر ثقافت اور الدرعیہ بینالے فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے فن کی صلاحیت پر زور دیا اور کہا کہ وہ بنیادی تبدیلیاں لا رہے ہیں جو ایک خوشحال اور متحرک معاشرے کی تعمیر میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ یہ نمائش مملکت کو بااختیار بنانے اور ثقافتی شعبوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ یہ الدرعیہ بینالے فاؤنڈیشن کو ثقافتی اظہار کی سرپرستی کرنے، ثقافت اور فنون کو فروغ دینے کی طرف لارہی اور فاؤنڈیشن کو عالمی فنکارانہ تحریک سے جوڑ رہی ہے۔
اس سال کے ایڈیشن میں شرکت کرنے والے اداروں میں بین الاقوامی نام جیسے لوور میوزیم (پیرس)، وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم (لندن)، احمد بابا انسٹی ٹیوٹ فار ہائر ایجوکیشن اینڈ اسلامک ریسرچ (ٹمبکٹو)، میوزیم آف اسلامک آرٹ (دوحہ) اور سلیمانیہ لائبریری (استنبول) شامل ہیں۔ مملکت کے علمبردار اداروں جیسے کنگ عبدالعزیز سنٹر فار ورلڈ کلچر "اثراء" (ظہران)، کنگ عبدالعزیز کمپلیکس فار اینڈومنٹ لائبریریز (مدینہ)، کنگ فہد نیشنل لائبریری (ریاض) بھی نمائش میں شامل ہیں۔ یہ ادارے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مجموعوں اور فن پاروں کا جائزہ لینے کا ایک نادر موقع فراہم کریں گے۔
بینالے کا یہ ایڈیشن بہت سے نئے فن پاروں کی نمائش پیش کرے گا۔ یہ فن پارے الدرعیہ بینالے فاؤنڈیشن کے ایک خصوصی کمیشن پر تیار کیے گئے تھے۔ یہ کام مملکت، عرب دنیا اور باقی دنیا کے 20 سے زیادہ فنکاروں نے تیار کیے تھے۔ حصہ لینے والے فنکاروں کی فہرست میں نور جودہ، شاروی تسای اور فاطمہ عبدالہادی جیسے بہت سے نام شامل ہیں ۔ یہ نمائش سعودی فنکاروں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور دنیا بھر کے فنکاروں کو راغب کرنے کی فاؤنڈیشن کی کوششوں کی عکاسی کر رہی ہے۔
2025 کا اسلامک آرٹس بینالے سات حصوں پر مشتمل ہے، یہ حصے البدایہ، المدار، المقتنی، المظلہ، المکرمہ، المنورہ اور المصلّی پر مشتمل ہیں۔ ایک لاکھ مربع میٹر کے رقبے پر محیط نمائش کو ایک سے زیادہ گیلریوں اور بیرونی مقامات پر تقسیم کیا جائے گا۔
وزیر ثقافت نے کہا کہ اسلامک آرٹس بینالے کے پہلے ایڈیشن میں حاصل کیے گئے اہم نمبروں کے بعد بینالے اب زیادہ بڑے عزائم کے ساتھ واپس آرہا ہے۔ ہم دوسرے ایڈیشن میں اپنی شراکت کو بڑھانے کے لیے کام کریں گے اور اس میں وسیع اقسام شامل ہوں گی۔ مملکت اور دنیا کے باقی ممالک کے فنکارانہ اور ثقافتی اداروں، کفیلوں اور فنکاروں کا فن ابھر کر سامنے آئے گا اور یہ متنوع اسلامی ثقافتیں پیش کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اسلامی آرٹس بینالے اسلام کے آغاز سے لے کر آج تک پوری دنیا پر اسلامی فنون کے اثرات کے بارے میں ہماری سمجھ کو گہرا کرے گا۔ الدرعیہ بینالے فاؤنڈیشن کی سی ای او آیۃ البکری نے کہا کہ صدیوں پہلے سے لے کر کر آج تک کے ثقافتی مکالمے کو تقویت بخشنے میں دنیا بھر میں ہمارے اسلامی معاشروں کے ذریعے تخلیق اسلامی فنون کا نمایاں کردار ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامک آرٹس بینالے کے دوسرے ایڈیشن کی توسیع کی نگرانی ایک فنکارانہ ٹیم کر رہی ہے۔ ٹیم کے پاس طویل بین الاقوامی تجربہ ہے ۔ بینالے میں دنیا بھر کے اداروں اور فنکاروں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت ہو رہی ہے۔