اردن کے جنوبی علاقے کراک کی موتہ یونیورسٹی کے اندر ایک قتل کی خبر نے ہر طرف صدمے کی لہر دوڑا دی۔ واقعے کے مطابق یونیورسٹی کے پروفیسر کو وہاں پڑھنے والے ایک طالب علم نے جمعہ کے روز قتل کر دیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اردن کے سکیورٹی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ بیس سال کی عمر میں ایک لڑکےنے جو ’موتہ‘ یونیورسٹی کا طالب علم ہے نے جمعہ کو فجر کی نماز سے نکلنے کے فوراً بعد ایک فیکلٹی ممبر پر تیز دھار آلے سے وار کیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر کرک کے سرکاری ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
ذرائع نے بتایا کہ قاتل نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے آلہ قتل قبضے میں لے کر کیس کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
قاتل، مقتول کا شاگرد نہیں
ایک سکیورٹی ذریعے نے وضاحت کی کہ قاتل طالب علم انجینیرنگ کالج میں پڑھتا ہے اور قتل ہونے والے ڈاکٹر کا شاگرد نہیں ہے۔ وہ ایک فیکلٹی ممبر کا بیٹا ہے اور اپنے والد کے ساتھ یونیورسٹی کی رہائش گاہ میں رہتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ قتل کا تعلق طالب علم کے مقتول کے ساتھ علمی تعلق سے ہے۔
اردن کے سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ قاتل نفسیاتی امراض میں مبتلا ہے اور وہ اسے نفسیاتی علاج فراہم کیا جا رہا تھا۔
ذرائع نے وضاحت کی کہ نفسیاتی ماہرین سے متعدد نفسیاتی نسخے لائے گئے جنہیں قاتل دیکھ رہا تھا، تمام تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیس کو عدلیہ کے حوالے کیا جائے گا۔
پروفیسر کے قتل پر یونیورسٹی صدمے سے دوچار
موتہ یونیورسٹی کےاساتذہ اور طلبا سب اس اندھے قتل پرصدمئ سےدوچار ہیں۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سلامہ النعمت، تدریسی اور انتظامی عملے کے ارکان نے ڈاکٹر احمد الزوبی کےقتل پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔
ڈاکٹرکی موت کی خبر نے سوشل نیٹ سائیٹس پر اداسی اور غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔