سعودی وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت (ایم ای ڈبلیو اے) نے نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈویلپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن کے ہمراہ جمعرات کو ریاض میں اس سال کے لیے شجرکاری کے قومی سیزن کا آغاز کیا جس کا عنوان ہے: "ہم اپنے مستقبل کے لیے پودے لگاتے ہیں۔"
این سی وی سی کے سی ای او خالد عبدالقادر نے جنگلات کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے سبزے کا رقبہ بڑھانے اور زمینی تباہی اور انحطاط کو کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس سیزن کے ذریعے سی ای او کا مقصد ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینا اور مملکت میں حیاتیاتی تنوع اور پائیدار ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے مقامی پودوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
سعودی گرین انیشیٹو (ایس جی آئی) کا حتمی مقصد 10 ارب درخت لگانا اور 40 ملین ہیکٹر رقبے کی بحالی ہے جسے حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب مزید اقدامات کر رہا ہے۔
تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ عوامی اور نجی شعبوں سمیت متعدد شعبوں کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط بنایا جائے اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے معاشرے میں رضاکارانہ خدمات کو فروغ دیا جائے۔
شجر کاری سیزن کا مقصد سعودی عرب میں "درخت لگانے" کی ثقافت کے فروغ، سبزے کا رقبہ بہتر بنانے اور زیادہ مقامی پودے اگا کر زمینی انحطاط کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
سابقہ شراکت داریوں نے کامیابی سے 118,000 ہیکٹر اراضی کی بحالی اور 4.3 ملین ہیکٹر سے زیادہ کا تحفظ کیا ہے جبکہ اس سال 10 بلین درخت لگانے کے ایس جی آئی کے ہدف میں کردار ادا کرنا ہے۔
سعودی مملکت حال ہی میں جنگلات لگانے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ خطے کے درجۂ حرارت میں کمی کرکے اور خشک سالی کی شدت پر قابو پا کر کئی ماحولیاتی مسائل مثلاً تیزی سے بدلتی ہوئی آب و ہوا سے نمٹا جا سکے۔
سعودی عرب نے گذشتہ ماہ دنیا کے پالیسی سازوں سے فوری طور پر زمینی تباہی اور خشک سالی سے نمٹنے کا مطالبہ کیا تھا بالخصوص چونکہ ملک دسمبر میں ریاض میں صحرا زدگی سے نمٹنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے 16ویں کنونشن سی او پی 16 کی میزبانی کرنے والا ہے۔