طلاق کے بارے میں 5 خوفناک حقائق

سگریٹ نوشی ازدواجی زندگی کے لیے تباہ کن، طلاق کا امکان 50 فیصد بڑھ جاتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ایک امریکی ویب سائٹ نے طلاق کے بارے میں پانچ حیرت انگیز حقائق کا جائزہ لیا ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو مختلف مطالعات کے ذریعے اخذ کیے گئے ہیں تاہم زیادہ تر لوگ انہیں نہیں جانتے اور یہ بالکل توقع نہیں رکھتے کہ ان چیزوں اور ناکامیوں کی بلند شرح کے درمیان کوئی تعلق ہے اور ان چیزوں سے شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔

ویب سائٹ "بی سائیکالوجی ٹوڈے" جو ذاتی اور نفسیاتی مسائل میں مہارت رکھتی ہے، کی پیش کردہ رپورٹ کا جائزہ ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ نے لیا۔ رپورٹ کے مطابق طلاق کسی ایسے شخص کے کھو جانے کا غم ہے جس کے بارے میں آپ نے سوچا تھا کہ آپ ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گے اور آپ اس کے ساتھ بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

سگریٹ نوشی

جہاں تک طلاق سے متعلق پانچ خوفناک اور حیران کن حقائق کا تعلق ہے۔ ان میں سے پہلا یہ ہے کہ اگر شریکِ کار سگریٹ نوشی کرتا ہے تو طلاق کا امکان 50 فیصد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ سگریٹ نوشی ازدواجی زندگی کے لیے تباہ کن ہے اور یہ نہ صرف صحت کے لیے تباہ کن ہے بلکہ طلاق کا باعث بن جاتی ہے۔

ڈوہرٹی اینڈ ڈوہرٹی کے 1998 کے مطالعے سے پتا چلا ہے کہ سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے بالغ سگریٹ نوشی کرنے والوں میں طلاق کا امکان 53 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ 2009 میں میلبورن انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ نے کہا تھا کہ شادی شدہ ساتھیوں کے درمیان طلاق کا خطرہ اگر ان میں سے صرف ایک سگریٹ نوشی کرتا ہے تو دونوں کے سگریٹ نوشی کرنے کے مقابلے میں 75 سے 90 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

تمباکو نوشی اور طلاق کے درمیان تعلق کی وضاحت کے لیے بہت سے نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں یہ خیال بھی شامل ہے کہ تمباکو نوشی خود اس بارے میں اختلاف کا باعث بن سکتی ہے کہ آیا آپ کے ساتھی کو سگریٹ نوشی کرنی چاہیے یا نہیں۔ سگریٹ نوشی اور دوسرے ساتھی کی صحت کے خدشات ازدواجی زندگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ سگریٹ نوشی مجموعی طور پر جوڑے کے لیے اضافی مالی بوجھ بھی ڈالتی ہے۔

شادی کا رجحان

طلاق کے بارے میں دوسری حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں عام طور پر 50 فیصد شادیاں طلاق پر ختم ہوتی ہیں۔ گزشتہ 150 سالوں میں 1990 کی دہائی تک طلاق کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ اس وقت کے آس پاس 2000 سے 2010 تک طلاق کی شرح 38 فیصد سے کم اور 2011 سے 2021 تک 30 فیصد سے کم ہونے لگی۔ تاہم جس عرصے میں طلاق کی شرح میں کمی آئی اسی عرصہ میں شادی کی شرح میں بھی کمی آئی ہے۔

1995 میں، شادی کی شرح تقریباً 45 فی 1,000 خواتین تھی۔ لیکن 2020 تک - صرف 25 سال بعد - شادی کی شرح 31 فی 1,000 خواتین پر آ گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ طلاق کی شرح میں کمی اس لیے بھی آئی شادی شدہ لوگ بھی کم تھے۔

دوسری شادی

طلاق کے متعلق تیسری حقیقت یہ ہے کہ 60 فیصد دوسری شادیاں بھی طلاق پر ختم ہو جاتی ہیں۔ بہت سے لوگوں کے اس عام خیال کے برعکس کہ دوسری شادی زیادہ کامیاب اور خوشگوار ہو سکتی ہے۔

اگر آپ اپنی پچھلی شادی کے بوجھ سے بچنے کے لیے نئی شادی کرنا چاہتے ہیں تو شاید ایسا ہونے کا امکان نہیں ہے اور آپ کا بوجھ ختم نہیں ہوگا۔ بہت سارے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی دوسری شادی کا امکان بھی وہی تنازعات ہیں جو آپ کی پہلی شادی کے دوران پیدا ہوئے تھے۔ بہت سے لوگ پہلی شادی سے حل نہ ہونے والے مسائل کی اطلاع دیتے ہیں جو اکثر دوسری شادی میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔

20 سال سے کم عمر

طلاق کے بارے میں چوتھی حقیقت یہ ہے کہ 20 سال سے کم عمر کے جوڑوں میں طلاق کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کم عمری کی محبت سب سے مضبوط اور مستحکم محبت نہیں لگتی۔ 48 فیصد افراد جو 18 سال کی عمر سے پہلے شادی کرتے ہیں ان کی شادی کے 10 سال کے اندر علیحدگی کا امکان ہوتا ہے۔ اور 20 سے 25 سال کی عمر کے درمیان شادی کرنے والے 60 فیصد افراد میں طلاق ہوجاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر جوڑوں میں طویل مدتی شادی کو کامیاب بنانے کے لیے درکار سخت محنت کی کمی ہوتی ہے۔ ان میں پختگی اور زندگی کے تجربات کی بھی کمی ہوتی ہے۔

زیادہ عمر

پانچویں حقیقت جس کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے جوڑوں میں طلاق کی شرح 1990 کے بعد سے دگنی ہو گئی ہے۔ بڑی عمر کے لوگوں کے درمیان طلاق میں اس اضافے کو اکثر ’’گرے طلاق‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زیادہ تر متوقع عمر کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ناخوش شادی سے نمٹنے کا کوئی صحیح یا غلط طریقہ نہیں ہے۔ صرف آپ کے دل و دماغ کو سننے کا فیصلہ ہی اہم ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size