العربیہ خصوصی رپورٹ

ریاض: میٹرو سروس سے اڑتی ہوئی ٹیکسیوں تک جدت سہولت کے ساتھ سفر انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مواصلاتی ترقی اور سفری سہولتوں کے لیے میٹرو کا یکم دسمبر سے آغاز ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسے مصروف شہر میں جہاں سڑکوں پر گاڑیوں کی بھر مار ہو اور پانچ کلومیٹر کا سفر ایک گھنٹے کی مسافت میں بدل جاتا ہو ماہرین کے نزدیک ایک غیر معمولی پیش رفت اور زبردست سہولت ہے۔ یہ سہولت سفر آسان کرے گی اور وقت کو بچانے میں مدد کرے گی۔

اربوں ڈالر کی لاگت سے مکمل ہونے والا ریاض میٹرو کا منصوبہ ایک کلیدی نوعیت کی تبدیلی ہے جو شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سامنے ہے۔ خصوصاً جس شہر میں روایتی طور پر شہری اپنی نجی ٹرانسپورٹ کی سہولت کی روایت رکھتے ہوں۔

یکم دسمبر کو ریاض سعودی عرب میں میٹرو ٹرین کے افتتاح کے روز شاہ عبداللہ فنانشیل ڈسٹرکٹ میٹرو سٹیشن سے روانہ ہونے والی ٹرین کی بذریعہ ڈرون کیمرہ اتاری گئی تصویر [رائیٹرز]
یکم دسمبر کو ریاض سعودی عرب میں میٹرو ٹرین کے افتتاح کے روز شاہ عبداللہ فنانشیل ڈسٹرکٹ میٹرو سٹیشن سے روانہ ہونے والی ٹرین کی بذریعہ ڈرون کیمرہ اتاری گئی تصویر [رائیٹرز]

مرحلہ وار افتتاح

اس ریاض میٹرو کی کشادگی تین مختلف مراحل مشتمل ہے۔ اس میں پہلے مرحلے پر 38 کلو میٹر پر محیط بلیو لائن ہے۔ یہ پہلا مرحلہ تھا جو تیار ہونے پر جزوی طور پر کھول دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پرپل اور ییلو لائن ہے۔ یہ ریاض شہر کے اندورن سے شمال سے جنوب کی طرف جانے والی میٹرو کے ٹریک ہیں۔ جبکہ ریڈ اور گرین لائنز کا آغاز 15 دسمبر سے کیا گیا ہے۔ البتہ اورنج لائن کا افتتاح پانچ جنوری سے ہو گا۔

سعودی عرب کے خود مختار ادارے 'پی پی جی' کے سربراہ نذر موسیٰ نے 'العربیہ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا 'نجی کاروں سے ہٹ کر ٹرانسپورٹ کے دوسرے ذرائع ضروری ہیں۔ کیونکہ پبلک ٹرانسپورٹ کو ایک حل کے طور پر سامنے لانے سے ٹریفک کا بہاؤ بہتر اور آسان ہو جاتا ہے۔ اب ریاض میں سہولت پورے شہر میں میسر آ رہی ہے۔'

نذر موسیٰ کا کہنا تھا یہ منصوبہ مجموعی طور پر یہ منصوبہ مجموعی طور پر چھ مختلف رنگوں میں منقسم نظر آتا ہے۔ یہ رنگ برنگی لائنز مجموعی طور پر 176 کلومیٹر پر پھیلی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 85 سٹیشن ہیں جہاں اس میٹرو مسافروں کو سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے رکے گی۔

میٹرو کے ان ٹریکس کا 40 فیصد حصہ زیر زمین ہے۔ اس طرح کئی میٹرو سٹیشن بھی زیر زمین ہیں۔ یہ پوری مملکت میں سہل ترین سفر کی ایک مثال ہے۔ اس میٹرو کے تحت 183 ٹرینیں چلیں گی جو معروف کمپنی 'سیمینس' کی تیار کردہ ہیں۔ اسی طرح بومبرڈائر اور آلسٹوم بھی وہ کمپنیاں ہیں جنہوں نے دنیا بھر طویل ترین اور بغیر ڈرائیور کے میٹرو بنائی اور چلائی ہیں۔ ریاض میٹرو مکمل طور پر خود کار سسٹم سے لیس ہے۔ جو خطے میں بہترین ٹیکنالوجی کی بدولت سب سے آگے ہے۔

یہ سفری سہولت کا منفرد منصوبہ شہر کی مستبل کی آبادی اور اس کی جروریات کو بھی خیال میں رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ اس میں 2022 سے 2030 تک سات ملین کا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ 80 بس روٹس پر 842 بسیں رواں دواں ہوں گی اور 2860 سٹاپ ہوں گے۔

شہری ترقی کے ساتھ ساتھ

نذر موسیٰ کے مطابق کسی بھی شہرمیں درست ٹرانسپورٹ سسٹم کے بغیر شہری ٹریفک کے بغیر تعطل بہاؤ کے لیے آرزو مند تو رہ سکتے ہیں ممکن نہیں بنا سکتے۔ نذر موسیٰ کے مطابق بغیر درست بہاؤ کے ٹریفک کے کام کا حرج اور وقت کا نقصان ہی نہیں ہوتا بلکہ وسائل کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔ یوں معیشت پر برا اثر آتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ نجی ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں وسائل اور وقت کو بچاتی ہے۔

یکم دسمبر کو ریاض سعودی عرب میں میٹرو ٹرین کے افتتاح کے روز شاہ عبداللہ فنانشیل ڈسٹرکٹ میٹرو سٹیشن سے روانہ ہونے والی ٹرین کی بذریعہ ڈرون کیمرہ اتاری گئی تصویر [رائیٹرز]
یکم دسمبر کو ریاض سعودی عرب میں میٹرو ٹرین کے افتتاح کے روز شاہ عبداللہ فنانشیل ڈسٹرکٹ میٹرو سٹیشن سے روانہ ہونے والی ٹرین کی بذریعہ ڈرون کیمرہ اتاری گئی تصویر [رائیٹرز]

کیمپبیل گرے میڈل ایسٹ اینڈ افریقہ سے متعلق کمپنی کے سربراہ ہیں۔ ریاض میٹرو کے بارے میں ان کا کہنا ہے ' یہ منصوبہ شہری ٹرانسپورٹ کو جدید تر، مستعد اور مربوط شہری سفر کی شکل دے گا۔ اس سے ریاض شہر میں رہائش کی خواہش بڑھے گی، سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہو گا۔ کوالٹی لائف کے حوالے سے پیش رفت ہو گی اور محفوظ اور قابل رسائی ٹرانسپورٹ ممکن ہو جائے گی۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض کے بارے میں اپنے عزائم کا ذکر ایک بیان میں کر رکھا ہے۔ اسے دنیا کے دس سب سے بڑے معاشی مرکز کی طرح اوپر اٹھانا ہے۔اس کے لیے ولی عہد کا ویژن 2030 ایک گائیڈ بک اور نقشہ کار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ویژن 2030 کے تحت ریاض ایک بین الاقوامی معاشی مرکز بنے گا اور سیاحوں کے خوابوں کا مرکز بنے گا۔

واضح رہے میٹرو کے اس منصوے سے پہلے ریاض میں کوئی پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں تھا نہیں تھا۔ اس کی بدولت ریاض شہر نے کہا جا سکتا ہے ایک چوکڑی بھری ہے۔ ریاض میٹرو کے ذریعے ہر روز 12 لاکھ افراد سفر کر سکیں گے۔ یہ آہستہ آہستہ تعداد بڑھتی جائے گی اور ہر روز 36 لاکھ لوگوں کے سفر کا ذریعہ بنے گی۔

'دی کرافٹ گروپ' جو کہ ایک ملاقاتیوں اور سیاحوں کے لیے خصوصی مرکز بنانے کا پیچھے کار فرما ہے اس کا تصور میٹرو کو ایک کمیونٹی کے سفر کے ادارے میں ڈھالنے کا ہے۔ اس کے لیے اڑھائی لاکھ لوگوں کا خیر مقدم کیا گیا تاکہ لوگوں میں میٹرو کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔ یہ ایک ورچوئلی کوشش تھی، جس کے ذریعے 'سپیس' آگاہی اور سہولت کا اہم ذریعہ بنی۔ لوگوں کو اس کے بارے میں اب گھر بیٹھے سب کو آگہی ہو گئی۔

نذر موسیٰ نے کہا 'میٹرو کے روٹ بہت بڑی تعداد میں ادراس کو 'افورڈ ایبل' سفر فراہم کرے گا۔ ریاض میٹرو کاروباری میدان میں بھی نئے امکانات کی راہ کھولے گا۔ جبکہ ریاض کے شہریوں کے لیے ریاض میٹرو کے فوائد غیر معمولی ہوں گے۔

ریاض میٹرو پر سفر 20 ریال میں ممکن ہو جائے گا۔ جبکہ اسی سفر کے لیے 50 سے 60 ریال کے برابر ہو گا۔ اس ریاض میٹرو کی تعمیر کا سفر 2012 میں شروع ہوا تھا۔ جو اب ایک دہائی کے بعد اپنی مکمل سورت کے قریب پہنچ چکا ہے اور ریاض میٹرو سفری جدت و سہولت کی علامت کے طور پر سامنے ہے۔

2012 میں میٹرو کا جو ڈیزائم اور مادل پیش نظر تھا اس پر تفصیلی غور اور محنت ہوئی، بعد ازاں 2014 سے 2016 کے درمیان ریاض کے شہریوں کی دلچسپی کے لیے ان کے سامنے لایا گیا۔ اسی طرح بین الاقامی سطح سے اس کے لیے 'فیڈ بیک' لیا گیا۔ مانٹریال، سٹاک ہوم اور دبئی کے ساتھ ساتھ ریاض کی سمارت سٹی نمائش میں اس کے ماڈل کو پیش کیا گیا۔

ویژن 2030

ریاض میٹرو مملکت کے ویژن 2030 کاے ایک اہم ستون کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جو معیشت کو ہمہ جہتی دینے کے علاوہ شہریوں کی کوالٹی لائف کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ 2018 میں ریاض میٹرو نے ایک اور سنگ میل عبور کیا، سپانسر شپ کا بڑے سٹیشنوں کے لیے اہتمام ہو گیا۔ اسی سال اعزازی بس سروس 'ریاض بس نیٹ ورک' کا ریاض میں آغاز کر دیا گیا۔

یکم دسمبر 2024 کو سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں میٹرو ٹرین کی تین لائینز کے افتتاح کے روز مسافر شاہ عبداللہ فنایشنل ڈسٹرکٹ کے میٹرور سٹیشن سے ٹرین پر سوار ہونے آ رہے ہیں [رائیٹرز]
یکم دسمبر 2024 کو سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں میٹرو ٹرین کی تین لائینز کے افتتاح کے روز مسافر شاہ عبداللہ فنایشنل ڈسٹرکٹ کے میٹرور سٹیشن سے ٹرین پر سوار ہونے آ رہے ہیں [رائیٹرز]

مستقبل میں اڑتی ٹیکسیاں

ریاض میٹرو کے بعد اگلی منزل ریاض میں اڑتی ٹیکسیوں کا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ روایتی زمینی ٹرانسپورٹ سے بہت آگے کی چیز ہے۔ اس مقصد کے لیے مملکت مختلف مقاصد کے لیے ان اڑتی ٹیکسیوں کے امکانی منصوبے کو دیکھ رہی ہے۔ یہ سفر کے ساتھ ساتھ میڈیکل ایمر جنسی کے لیے بھی بروئے کا آ سکتی ہیں۔ شہروں کے اندر تیز نقل و حمل کے لیے بھی کار آمد ہو سکتی ہیں۔ ان سب پہلوؤں سے ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

نذر موسیٰ کے مطابق سعودی ایئر نے 50 اڑتی ٹیکسیوں کے لیے آرڈر دینے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ تاکہ 2026 تک 50 اڑنے والی الیکٹرک ٹیکسیاں اسے مل چکی ہوں۔ یہ اڑنے والی ٹیکسیاں مملکت کے شہری ماحول میں کام کرتے ہوئے سیاحت کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکیں گی۔

سمارٹ سٹی کا سعودی تصور

ان اڑتی ٹیکسیوں کے جدید ترین منصوبے کو سفر کی دنیا میں انقلابی مرحلہ ہی کہا جائے گا، جس کے لیے فضا میں کسی انفراسٹرکچر کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اس ناطے یہ تمام جگہوں کے لیے اڑنے کی سہولت رکھتی ہیں۔ یہ ساحلی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہروں کی فضاؤں میں ہر جگہ اڑ سکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں