سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAUST) نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایک نیا روبوٹک نظام تیار کرنے کے لیے جدید سائنسی تحقیق حاصل کی ہے۔
اس نئے روبوٹ کا مقصد کھجور کی کٹائی کے کاموں کو خودکار بنانا ہے۔ اس سے زرعی شعبے میں ایک معیاری تبدیلی آئے گی اور زرعی اختراع کے میدان میں سعودی عرب کی قیادت میں اضافہ ہوگا۔ یہ تحقیق کھجور کی کاشت کے بنیادی عمل کو خودکار بنانے پر مرکوز ہے۔
اس تحقیق کے رہنما اسسٹنٹ پروفیسر نے وضاحت کی کہ اس اختراع کا مقصد "کسان روبوٹ" کے نظام کو تیار کرنا ہے تاکہ یہ فصل کی بلند ترین شرح حاصل کرتے ہوئے مختلف سائز اور درجات کو سنبھال سکے۔ یہ روبوٹ ڈیٹا اکھٹا کریں اور تجزیہ کرکے پیداواری صلاحیت کو بہتر بنائیں گے۔ کھجور کی کاشت سے متعلق مختلف کاموں کو انجام دے کر اس کی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے گا۔
مصنوعی ذہانت کا استعمال
انہوں نے نشاندہی کی کہ "کسان روبوٹ" سسٹم کارکردگی کو بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے زراعت کی پائیداری کو یقینی بناتا ہے۔ سسٹم کے روبوٹک بازو انسانی کسان کی رفتار کے برابر رفتار سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ روبوٹ کو اعلیٰ درستگی والے آپٹیکل سینسر فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ روبوٹ کھجور، پھولوں اور درختوں کے ڈھانچے کو متعدد زرعی کاموں کو انجام دینے کے لیے پہچان سکتے ہیں۔ یہ بوائی ، چھڑکاؤ اور کٹائی کرکے درختوں کی صحت کو یقینی بنائیں گے۔ اس منصوبے کے لیے فیلڈ ٹرائلز 2025 کی کٹائی کے موسم کے دوران شروع ہونے والے ہیں۔
واضح رہے یہ منصوبے مملکت کو نہ صرف زرعی ٹیکنالوجی کے میدان میں بلکہ زرعی علم میں بھی مسابقتی فائدہ فراہم کریں گے کیونکہ یہ خطہ زرعی اور روبوٹکس کے رہنماؤں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ اس سے مقامی کارکنوں کو جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ سب سے پہلے بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے۔