گردوں کو نقصان پہنچانے والی سات عام عادات، تمباکو نوشی اور نیند کی کمی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

گردہ انسانی جم کے اہم ترین اعضاء میں سے ایک ہے اور بہت سے لوگوں کی روزمرہ کی بری عادات گردوں کے افعال میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گردے کے افعال میں خون کو صاف کرنا اور فضلہ کو خارج کرنا شامل ہے۔ گردوں کو تباہ کرنے والی 6 عام عادات یہ ہیں:

نمک کا زیادہ استعمال

نمک ضروری ہے لیکن اس کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر بڑھا سکتا ہے جس سے گردوں پر دباؤ پڑتا ہے اور ان کے اندر موجود باریک خون کی نالیاں خراب ہو جاتی ہیں۔ بلڈ پریشر میں اضافے سے ہونے والا نقصان گردوں کو خون کو صحیح طریقے سے صاف کرنے سے بھی روکتا ہے۔ نمک کا استعمال کم کرنا چاہیے اور کھانے کو ایک خاص ذائقہ دینے کے لیے نمک کی جگہ دیگر مصالحے استعمال کر لینے چاہیں۔

پانی کی کمی

پانی گردوں کو جسم سے زہریلے مواد اور فضلہ کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص کافی مقدار میں پانی نہیں پیتا تو یہ فضلہ جمع ہو جاتا ہے اور گردے کی پتھری یا انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔ گردوں کی صحت اور ان کی ہر وقت مؤثر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے روزانہ کم از کم 8 سے 12 گلاس پانی پینا چاہیے۔

درد کش ادویات کا استعمال

بہت سے لوگ سر درد یا جسم میں درد کے علاج کے لیے درد کش ادویات جیسے آئیبوپروفین یا پیرسیٹامول استعمال کرتے ہیں لیکن ان ادویات کا زیادہ استعمال یا بڑی مقدار میں استعمال گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ درد کش ادویات گردوں میں خون کے بہاؤ کو بھی کم کرتی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ نقصان کا سبب بنتی ہیں۔ درد کی صورت میں ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنا چاہیے اور باقاعدگی سے از خود علاج کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

پروٹین کا زیادہ استعمال

پروٹین جسم کے لیے اہم ہے لیکن اس کا زیادہ استعمال خاص طور پر گوشت کے ذریعے اس کا زیادہ استعمال گردوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ جب جسم پروٹین کو توڑتا ہے تو یہ فضلہ پیدا کرتا ہے جسے گردوں کو فلٹر کرنا ہوتا ہے۔ پروٹین کا زیادہ استعمال گردوں پر بوجھ ڈالتا ہے جس سے وقت کے ساتھ ساتھ گردوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے پھلوں اور سبزیوں کے درمیان اپنے کھانوں میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

پراسیسڈ فوڈ

فاسٹ فوڈ پراسیسڈ فوڈ جیسے آلو کے چپس، ڈبہ بند نمکین اور تیار کھانوں میں میں نمک، چینی اور غیر صحت بخش چکنائی کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ یہ اجزاء ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے اور ذیابیطس کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ یہ سب عوارض گردوں کو نقصان پہنچانے والے عوامل ہیں۔ تازہ پھل، سبزیاں اور گھر کا بنا ہوا کھانا گردوں کی صحت کے لیے بہت بہتر ہیں۔

تمباکو نوشی

تمباکو نوشی گردوں میں خون کے بہاؤ کو کم کرتی ہے اور ان کے بافتوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور ان پر دباؤ ڈالتی ہے۔ تمباکو نوشی گردوں کے نقصان کو تیز کر سکتی ہے اور گردوں کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔

نیند کی کمی اور تناؤ

گردوں کو خود کو ٹھیک کرنے اور صحیح طریقے سے کام کرنے کے لیے اچھی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیند کی کمی یا ناقص معیار والی نیند گردوں میں مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی طرح تناؤ بلڈ پریشر اور مجموعی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ تناؤ بالواسطہ طور پر گردوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں