بھارت سرکار کے چار مختلف ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ہفتے کے روز طے پا جانے والی جنگ بندی ہونے کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھا جائے گا۔ چاروں ذرائع نے یہ بات بین الاقوامی خبر رساں ادارے' رائٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔
پاکستان کے ساتھ ورلڈ بنک کی مدد سے بھارت کا یہ معاہدہ 1960 مین اس وقت ہوا تھا جب بارہ سال پہلے 1948 میں بھارت نے پاکستان کا پانی بند کر کے ایک تنازعہ کھڑا کر دیا۔ مگر بھارت نے چند ہفتے قبل علانیہ اور یکطرفہ اس معاہدے کو معطل کرنے کا کہہ دیا تھا۔ پاکستان نے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی تجویز دی تھی۔
اس سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی وجہ 22 اپریل کو 26 سیاحوں کی متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں ہلاکت پررد عمل بتایا تھا۔ اس رد عمل کے لیے بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگی جارحیت شروع کر دی تھی۔ مگر امریکی صدر ٹرمپ کی مداخت قبول کرتے ہوئے بھارت نے یہ جنگ بند کر دی ہے۔
پاکستان کی پانی سے متعلق وزارت میں ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق بات چیت میں سندھ طاس معاہدے کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ بھارتی حکومت کے ذرائع کا بھی یہ کہنا ہے کہ سندھ طاس اور پاکستان کو پانی دینے سے متعلق موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ اس لیے سندھ طاس معاہدہ معطل رہے گا۔
البتہ بھارت کی وزارت خارجہ نے اس بارے میں ابھی کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ پاکستان کی وزیر اطلاعات اور وزارت پانی نے بھی باضابطہ طور پر ایسا کچھ نہیں کہا۔
بھارتی حکومت کے دو ذرائع کے مطابق بھارت نے پاکستان کے خلاف تمام ضروری اقدامات کر لیے ہیں۔ ان اقدامات میں تجارت کے ویزوں کے اجرا پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔ یہ سب اقدامات جنگ بندی کے باوجود اسی طرح جاری رہیں گے۔ یاد رہے جنگ بندی کا اعلان ہفتے کی شام کیا گیا ہے۔ جب جنگ بندی کی گئی تو پاک فضائیہ نے بھارت کے لیے ناقابل تصور اور ناقابل برداشت صورت حالات پیدا کر دی تھی۔