صرف سانولی خواتین کے لیے، سفید بالوں کو چھپانے کے چار قدرتی طریقے
جینیاتی عوامل سفید بالوں کے جلد نمودار ہونے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن یہ واحد عنصر نہیں ہیں
سفید بالوں کو چھپانے کے بہترین قدرتی حل کیا ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر اس شخص کے لبوں پر بار بار آتا ہے جو اس عام خوبصورتی کے مسئلے کے حل کے طور پر کیمیائی رنگوں کے استعمال سے ہچکچا رہے ہوتے ہیں۔ ذیل میں سانولی جلد والی خواتین کے لیے خاص طور پر سفید بالوں سے چھٹکارا پانے کے بہترین قدرتی طریقے بیان کیے جارہے ہیں۔
جینیاتی عوامل سفید بالوں کے جلد نمودار ہونے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن یہ اس میدان میں واحد مؤثر عنصر نہیں ہے۔ تمباکو نوشی بالوں کو رنگت دینے والے میلینین مادے کی کمی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ وٹامن بی 12 کی کمی بھی اس میدان میں اثر انداز ہوتی ہے۔ آلودہ ماحول اور ہارمونل عدم توازن سفید بالوں کے جلد نمودار ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ بعض غذاؤں کا استعمال میلاٹونین کی کمی کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں کیلے، بادام، سویابین، مشروم، مسور، پھلیاں، کھجور، انڈے اور مچھلی ہیں۔
جینیاتی سفید بال مردوں میں بیس کی دہائی کے وسط اور خواتین میں تیس کی دہائی کے اوائل میں ظاہر ہونا شروع ہو سکتے ہیں جبکہ انہیں قدرتی طریقوں سے چھپانا کوئی پیچیدہ کام نہیں ہے۔
کافی، دار چینی اور لونگ
کافی، دار چینی اور لونگ کا ماسک اپنے رنگین عناصر کی بدولت بالوں کو قدرتی رنگت فراہم کرتا ہے جو بالوں کو ان کی چمکدار بھوری رنگت واپس دلاتا ہے۔ اس ماسک کو تیار کرنے کے لیے صرف دو دار چینی کی چھڑیاں اور دو چھوٹے چمچ لونگ ایک کپ پانی میں شامل کریں اور مکسچر کو ابالنے کے لیے آگ پر رکھیں۔ پھر اسے چھاننے اور ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس میں ایک چھوٹا چمچ کافی پاؤڈر شامل کردیں۔ اس کے بعد اس میں ایک بڑا چمچ کارن سٹارچ شامل کریں اور گاڑھا پیسٹ بننے تک ہلائیں۔ دوبارہ ہلکی آنچ پر مسلسل ہلاتے ہوئے ایک منٹ تک گرم کریں اور پھر آگ سے ہٹا کر ٹھنڈا ہونے دیں۔ اس ماسک کو صاف اور خشک بالوں پر 30 منٹ تک لگائیں اور پھر صاف پانی سے دھو کر خشک کر لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ سفید بال غائب ہو گئے ہیں۔
یہ ماسک لونگ میں موجود آئرن، سیلینیم، زنک اور وٹامن اے اور سی کی بدولت بالوں کو مضبوط بناتا ہے اور انہیں زیادہ چمکدار بناتا ہے۔ دار چینی بالوں کو کیریمل رنگت دیتی ہے اور بالوں کی نشوونما کو تیز کرتی ہے کیونکہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے اور اس میں محرک خصوصیات ہیں۔ کافی میں موجود کیفین بالوں کو مضبوط بناتی ہے اور ان کا گرنا روکتی ہے۔ کافی کو اکیلے بھی بالوں پر ماسک کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بلیک ٹی
بالکل کافی کی طرح کالی چائے یا بلیک ٹی بھی اپنی ساخت میں موجود بھوری رنگت کی بدولت سفید بالوں کو رنگ دے سکتی ہے۔ بس دو کپ پانی کو اچھی طرح گرم کریں اور دو پیکٹ کالی چائے پانی میں شامل کریں، پھر اسے ٹھنڈا ہونے کے لیے ایک طرف رکھ دیں اور اس مکسچر کو شیمپو سے بال دھونے اور صابن ہٹانے کے بعد بالوں کو دھونے کے لیے استعمال کریں۔ یہ قدم بالوں کے بھورے رنگ کو بڑھائے گا اور سفید بالوں کی ظاہری شکل کو چھپائے گا۔
چقندر کا جوس
چقندر کا جوس پوٹاشیم، کیلشیم اور بی اور سی وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے۔ بالوں کو رنگنے والی اس کی خصوصیات سے فائدہ اٹھانے کے لیے بس 3 یا 4 چقندر کو چھیل کر ایک برتن میں پانی بھر کر ایک گھنٹے تک آگ پر پکائیں۔ اس کے بعد برتن کو آگ سے ہٹا کر ٹھنڈا ہونے دیں پھر اس کا پانی چھان لیں اور اس میں دو چمچ ناریل کا تیل شامل کر لیں۔ اس مکسچر کو بالوں کی جڑوں اور لمبائی پر لگائیں۔ پلاسٹک کی ٹوپی سے بالوں کو ڈھانپ کر 20 سے 60 منٹ تک لگا رہنے دیں پھر اسے پانی سے دھو لیں۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ بال گہری رنگت میں رنگ گئے ہیں۔ پیشانی کے قریب بالوں کے سرے اور کانوں کے پیچھے ویزلین لگانے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ جلد چقندر کے رنگ سے داغدار نہ ہو۔