ذیابیطس کے مریضوں کے لیے آٹھ بہترین پھل کون سے ہیں؟

ماہرین غذائیت پھلوں کے رس یا ڈبہ بند اقسام کے بجائے تازہ پھل کا انتخاب کرنے کا مشورہ دیتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے پھلوں کا دانشمندی سے استعمال ضروری ہے۔ اس مرض میں پھلوں سے پرہیز کرنا ضروری نہیں ہے۔ بہت سے پھل جیسے جامن، امرود، سیب اور بیریز میں گلیسیمک انڈیکس کم سے لے کر درمیانہ تک کا ہوتا ہے اور یہ فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں۔

ان پھلوں کو اعتدال میں، پروٹین یا صحت مند چربی کے ساتھ، کھانے سے دن بھر خون میں شکر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اخبار ’’ ٹائمز آف انڈیا ‘‘ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق درج ذیل آٹھ پھلوں کو غذائی نظام میں شامل کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مزیدار ہیں اور انسولین کو منظم کرنے اور خون میں شکر کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔

1۔ جامن

جامن خون میں شکر کو کنٹرول کرنے کے لیے بہترین ہیں۔ اس میں جمبولین جیسے مرکبات ہوتے ہیں جو گلوکوز کے اخراج کو سست کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس کا گلیسیمک انڈیکس تقریباً 25 فیصد کم ہوتا ہے اور اس میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مثالی بناتی ہے۔ صبح کے وسط میں ایک مٹھی بھر تازہ جامن کو ہلکے ناشتے کے طور پر کھائیں یا اسے سموتھیز میں شامل کریں۔

2۔ امرود

امرود وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔ امرود کا گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے۔ اس کا گلیسیمک انڈیکس 12 سے لے کر 24 فیصد کے درمیان ہوتا ہے جو انسولین میں اضافہ نہ ہونے کو یقینی بناتا ہے۔ امرود کو کچا یا کاٹ کر سلاد میں ایک ذائقہ دار اضافہ کے طور پر کھایا جا سکتا ہے۔

3۔ سیب

سیب کا گلیسیمک انڈیکس 36 سے لے کر 40 فیصد کے درمیان ہوتا ہے اور یہ پیکٹن اور پولیفینولز سے بھرپور ہوتا ہے جو خون میں شکر کو منظم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ سیب لے جانے اور چلتے پھرتے کھانے میں آسان ہوتے ہیں۔ شام کو یا مونگ پھلی کے مکھن کے ایک چمچ کے ساتھ ایک چھوٹا سیب چھلکے سمیت کھانے سے ایک تسلی بخش ناشتہ ملتا ہے۔

4 ۔ ناشپاتی

ناشپاتی حل پذیر فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اس کا گلیسیمک انڈیکس 33 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا جو گلوکوز کے آہستہ اخراج کو یقینی بناتا ہے۔ ناشپاتی کو ناشتے میں ٹھنڈا کر کے کھایا جا سکتا ہے یا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک گرم میٹھی چیز کے طور پر اسے دار چینی کے ساتھ بیک کیا جا سکتا ہے۔

5۔ انار

انار کا گلیسیمک انڈیکس 35 فیصد ہوتا ہے اور یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔ انار جیسے پھل پونیکالیجن اور اینتھوسیانین سے بھرپور ہوتے ہیں جو آکسیڈیٹیو تناؤ کو کم کرنے اور خون میں شکر کے بہتر انتظام کو یقینی بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ ایک چھوٹا گلاس تازہ انار کا رس پئیں یا اس کے بیج دہی کے پیالے میں ڈال کر کھائیں۔

6 ۔ سٹرابیری اور بیریز

سٹرابیری اور نیلی، کالی اور دیگر رنگوں کی بیریز کا گلیسیمک انڈیکس 25 سے لے کر 40 فیصد کے درمیان کم ہوتا ہے لیکن ان کا اعلیٰ فائبر اور اینتھوسیانین سے بھرپور اینٹی آکسیڈنٹس انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ انہیں اوٹ میل یا سموتھیز میں شامل کیا جا سکتا ہے یا صحت مند ناشتے کے لیے یونانی دہی کے ساتھ کھایا جا سکتا ہے۔

7 ۔ پپیتا

پپیتا کا گلیسیمک انڈیکس 60 ہے اور یہ فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتا ہے۔ صبح ایک چھوٹا پیالہ پپیتا شامل کیا جا سکتا ہے یا اسے دہی کے ساتھ ملا کر ایک تازگی بخش مشروب تیار کیا جا سکتا ہے۔

8 ۔ مالٹا

مالٹے کا گلیسیمک انڈیکس 40 سے 45 فیصد کے درمیان ہوتا ہے۔ مالٹے کو مکمل طور پر کھانا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے کیونکہ اس میں وٹامن سی اور فائبر ہوتا ہے۔ ایک مالٹا شام کو ہلکے ناشتے کے طور پر کھایا جا سکتا ہے یا اس کے ٹکڑوں کو سلاد میں تازگی بخش ذائقہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اہم نکات

ماہرین غذائیت پھلوں کے رس یا ڈبہ بند اقسام کے بجائے تازہ پھل کا انتخاب کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان پھلوں کے چھوٹے حصوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ ایک درمیانے سائز کا پھل یا آدھا کپ بیریز اور انہیں پروٹین یا صحت مند چربی جیسے دہی، گری دار میوے یا بیجوں کے ساتھ کھانا چاہیے تاکہ خون میں شکر کے اضافے کو کم کیا جا سکے۔

یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ دن بھر پھلوں کی مقدار کو تقسیم کیا جائے اور خالی پیٹ نہ کھایا جائے تاکہ خون میں شکر کی سطح کو مستحکم رکھا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size