مایوسی بعد از زچگی کے موضوع پر بنی فلم نے کانز میلہ لوٹ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

کانز میں ہونے والے فلمی میلے میں نمائش کے لئے پیش کی جانے والی فلم "ڈائی مائی لو" Die My Love پر داد وتحسین کے ڈونگرے برسانے کا سلسلہ جاری ہے۔ فلم کا مرکزی خیال آریانا ہارویٹس کے 2017 میں شائع ہونے والے ایک ناول سے ماخوذ ہے۔

فلم "ڈائی مائی لو" میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے فنکاروں رابرٹ پیٹنسن اور جینیفر لارنس نے بتایا کہ انہوں نے زچگی کے بعد پیش آنے والی مشکلات کو اس فلم میں اپنا کردار نبھاتے ہوئے ذہن میں رکھا، جس کے باعث فلم میں ان کی اداکاری کو انتہائی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

فرانسیسی ریویرا کے تفریحی مقام پر چیندہ صحافیوں، جس میں العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نامہ نگار بھی شامل تھے، سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے حال ہی میں اپنے دوسرے بچے کو جنم دینے والی فنکارہ لارنس نے بتایا "زچگی کے بعد کے وقت آپ کسی بھی شے سے موازنہ نہیں کر سکتے۔ یہ شدید اکلاپے کا دور ہوتا ہے۔

2013 میں آسکر ایوارڈ اپنے نام کرنے والی جینیفر لارنس نے فلم میں اپنے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا "کہ بطور ایک ماں میرے لیے زچگی کے بعد کا وقت واقعی بہت مشکل تھا۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر کہ میں کیا کر رہی ہوں اور مجھے کیا کرنا چاہیے۔"

فلم کی کہانی

فلم کی کہانی فرانس میں ایک بھولے بسرے دور دراز دیہی علاقے کے گرد گھومتی ہے۔ رابرٹ پیٹنسن اور جینیفر لارنس، جو فلم میں جیکسن اور گریس کا کردار ادا کر رہے ہیں، وہ ہنسی خوشی شادی شدہ زندگی گذار رہے ہوتے ہیں۔ مونٹانا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہائش پذیر اس جوڑے کے ہاں ایک بچے کی ولادت ہوتی ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد ان کے رشتے پر تنائو آنے لگتا ہے، خاص طور پر جب گریس ماں بننے کی نئی شناخت سے نبرد آزما ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ اب اسے ایک طرف اپنے بچے کی پرورش کرنا ہے اور دوسری طرف اپنی سابقہ زندگی کو سنبھالنا ہے۔ تاہم، گریس زچگی کے بعد کے ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتی ہے اور دماغی عارضہ "سائیکوسِس" (Psychosis) کے باعث اپنی ذہنی صحت برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرنے لگتی ہے۔ وہ اپنے اندر کے شیطانوں سے لڑتی ہے کیونکہ وہ آزادی کی شدید خواہش رکھتی ہے، لیکن بیک وقت خاندانی زندگی کی طلب بھی محسوس کرتی ہے۔ یہ اندرونی کشمکش اسے ایک ایسے مقام پر لے آتی ہے جہاں وہ بظاہر گھر کو تہس نہس کرنے خو میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ اس کے رویّے میں بڑھتی ہوئی بے قاعدگی کے باعث اس کا خاندان اسے کچھ آزادی دے دیتا ہے، مگر اس کے باوجود وہ شدید گھٹن اور دباؤ کا شکار رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک سابقہ آشنا کی طرف لوٹنے کا غلط قدم اٹھا لیتی ہے۔

اس کا شوہر اس کے ڈپریشن کو سمجھنے اور اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے، مگر بڑھتی ہوئی ڈرامائی صورتحال شوہر کے لیے یہ کام ناممکن بنا دیتی ہے۔ خاندان کی تنہائی، اور سنسان سڑکیں اس کے ڈپریشن میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔

رابرٹ پیٹنسن نے کہا کہ جب آپ کسی ایسی شریکِ حیات کے ساتھ ہوں، جو زچگی کے بعد کے مرحلے سے گزر رہی ہو، یا کسی ذہنی بیماری یا مشکل کا سامنا کر رہی ہو، تو اس کی تنہائی سے نمٹنا اور یہ طے کرنا کہ آپ کا کردار کیا ہے ، یہ سب بہت مشکل ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب آپ دونوں کے درمیان کوئی مشترکہ زبان یا احساسات نہ ہوں۔

"ڈائی مائی لو" جذباتی اور ڈرامائی فلموں کی سکاٹش ہدایت کارہ لِن ریمزی کی تازہ ترین تخلیق ہے۔ فلم کے پہلے شو میں شائقین نو منٹ کھڑے ہو کر مسلسل تالیاں پیٹتے رہے جبکہ کانز فیسٹیول میں ناقدین کی جانب سے بھی فلم کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی۔

پیٹنسن، جن کے ہاں گزشتہ سال ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی، اس نےکہا کہ اس تجربے نے ان میں نئی توانائی اور زندگی کی رمق پیدا کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر متوقع طور پر، بچے کی پیدائش آپ کو بے پناہ توانائی اور تخلیقی تحریک دیتی ہے۔

ہدایت کارہ لِن ریمزی

ہدایت کارہ لِن ریمزی کو ان کی پہلی فیچر فلم "ننھے متوفیاں" پر 1996 میں مختصر دورانیے کی فلموں کی کیٹیگری میں جیوری ایوارڈ مل چکا ہے۔ لِن ریمزی اس وقت سے کانز فلم فیسٹیول کے مستقل شرکاء میں شامل ہیں سے ہیں۔ اب وہ فلم "ڈائی مائی لائف" کے ساتھ ایک بار پھر کانز فلم فیسٹیول میں لوٹی ہیں۔

یہ سکاٹش ہدایتکارہ اس سے قبل بھی کانز میں کئی فلموں کے ذریعے اپنی دھاگ بیٹھا چکی ہیں، جن میں نمایاں فلم "کڑکی" 1999 شامل ہے۔

ریمزی نے اپنی فلموں میں گہرے اور تاریک عنوانات کو مسلسل موضوعِ بحث بنایا۔ ان کی 2002 میں بننے والی فلم "Morvern Color" انہوں نے سوگ سے انکار جیسے عنوان کو چنا۔ ان کی 2011 میں "ہمیں کیون سے متعلق بات کرنی چاہیے" نامی فلم خاندانی ناہمواری اور ٹوٹ پھوٹ سے متعلق شاہکار پیش کش تھی جبکہ "یو ور نیور ریئلی ہیئر" کے نام سے سن (2017) میں بننے والی فلم میں ریمزی نے جنگ کے بعد درپیش صدمات کو خوبصورت انداز میں پردہ سیمیں پر منتقل کیا جسے ناقدین نے خوب سراہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں