کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے 25 برس، مشرق وسطیٰ کے لیے منصوبہ آگے بڑھ سکا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 16 منٹ

پچیس برس پہلے پرندوں کی چہچہاہٹ سے مزین کیمپ ڈیوڈ کے سرسبز جنگل کے درمیان ایک پر فضا ماحول میں فضاؤں اور ہواؤں کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش تھی۔ تاکہ اسرائیل اور فلسطین کے قائدین کے درمیان ایک معاہدہ ممکن ہو اور مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کے آگے بڑھنے کا امکان پیدا ہو سکے۔ اس میں امریکی، اسرائیلی اور فلسطینی قائدین کے مسرت انگیز قہقہے ایک نئے سمے کی تخلیق کی خبر دے رہے تھے۔

ان قہقہوں کے بیچوں بیچ یہ ضرور موقع ہے کہ دیکھا جائے کہ کیمپ ڈیوڈ کے ہنستے لمحوں نے مشرق وسطیٰ کے لیے منصوبے کو آگے بڑھایا یا قہقہے وہیں کیمپ ڈیوڈ کی فضاؤں میں تحلیل ہو گئے اور مشرق وسطیٰ آج بھی وہیں کشت و خون کی بھول بلیوں میں اٹکا ہوا ہے۔ کیونکہ جو منظر کیمپ ڈیوڈ میں اس روز تھا آج جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے وہ اس روز کے منظر پر چھایا ہوا لگ رہا ہے۔

اس وقت جب فلسطینی اور اسرائیلی لیڈر امریکی صدر بل کلنٹن کی میزبانی میں جمع ہوئے تھے۔ ہر ایک لیڈر کے ساتھ آنے والے وفد کو ایک ٹیلی فون لائن دی گئی تھی کہ ان کی بات چیت غیر متعلق جگہوں اور سطحوں پر لیک نہ ہو پائے اور مذاکراتی عمل رازداری کے ساتھ کامیابی کی طرف بڑھے۔

کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے مذاکرات کو ایک چوتھائی صدی گزر گئی ہے۔ مگر اس کے باوجود فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے۔ اگرچہ اس کے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی جا سکتی ہے۔

گویا یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایک بڑی مگر محتاط نوعیت کی امید کے ساتھ جو مذاکراتی عمل ایک امن معاہدے کے لیے شروع کیا گیا تھا وہ 25 جولائی 2000 کو عملاً ناکام ہو گیا۔

اس سے پہلے بل کلنٹن نے جو اس وقت سنجیدہ مگر بڑے افسوس کے ساتھ نتیجہ صادر کیا تھا اس سے ملتے جلتے نتائج کی خبر آج بھی امریکی عہدے داروں کی طرف سے تقریباً اسی افسوس کے انداز میں سنائی جاتی ہے۔ صدر کلنٹن نے کہا تھا کہ 14 دن کے اس مذاکراتی عمل سے گزرنے کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک اور فلسطینی قائد یاسر عرفات کسی معاہدے پر متفق ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

اس افسوناک اعلان میں امریکہ اور اسرائیل کا میڈیا اس افسانے کے گھڑنے میں کامیاب رہا کہ فلسطینی ریاست کے لیے اسرائیل کی فراخدلی کو یاسر عرفات نے قبول نہیں کیا ہے۔ مگر فلسطینیوں اور بعض سفارت کاروں نے اس افسانے کا پردہ چاک کر دیا کہ اسرائیل نے ایسی کوئی پیش کش سرے سے نہیں کی۔

ان مذاکرات کے مکمل ہونے سے پہلے ہی اس زمانے کے سموتریچ اور بین گویر کی شناخت کے حامل اسرائیلی رہنما ایرل شیرون نے مسجد اقصیٰ میں مقام حرم الشریف کے دورے کے نام پر دھاوا بولا تھا۔ اس کے رد عمل میں فلسطینیوں میں دوسرے انتفاضہ کا آغاز ہو گیا۔

پھر مزید چھ ماہ لگنے کے بعد یہ احساس ابھر آیا کہ فریقین حتمی معاہدے کی طرف پہنچ گئے ہیں۔ لیکن سال 2001 کے ساتھ ہی بل کلنٹن کی مدت صدارت ختم ہو گئی۔ جبکہ اسرائیل کے انتخابات قریب آگئے اور تشدد اسرائیل کی سیاسی ضرورت بن گیا۔ یوں امن کے لیے کھلنے والی کھڑکی بند ہو گئی۔

بہت سے لوگ حیران ہوئے کہ آخر کیمپ ڈیوڈ میں ایسی کیا غلطی کی گئی۔ جس کے سب امن معاہدے کی راہ کھوٹی ہوئی اور مشرق وسطیٰ کی تاریخ بدلنے کا منصوبہ درمیان میں ہی رہ گیا۔

شاید کئی عشروں سے جاری قبضے اور اس کی وجہ سے جاری خونریزی کو روکا جا سکتا ہو۔ اس پس منظر کو نظر انداز کرتے ہوئے کوئی ایسی صورت پیدا کی جاسکتی ہو اور ان دو ہفتوں کے دوران ہونے والے مذاکرات سے کچھ سیکھا جا سکے جن کے لیے دونوں طرف کے رہنماؤں کو ایک ساتھ بٹھا دیا گیا تھا۔

کیمپ ڈیوڈ کے مذاکرات آٹھ سال پہلے ہونے والے اوسلو معاہدے کے بعد ممکن ہوئے تھے۔ اوسلو معاہدے پر 1993 میں یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر اعظم اضحاک رابن نے وائٹ ہاؤس میں دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کو ایک عبوری بندوبست کے طور پر طے کیا گیا تھا۔ جبکہ حتمی معاہدے تک اگلے پانچ برسوں میں پہنچنا تھا۔

اس اوسلو معاہدے کے تحت ایک فلسطینی گروپ 'پی ایل او' کو فلسطینی نمائندے کی سند مل گئی اور اس کے بدلے میں اس گروپ یعنی 'پی ایل او' نے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کر کے اس کے جائز اور قانونی جواز کی سند جاری کر دی۔ یہ دونوں دستخط کرنے والوں کی کامیابی تھی۔

اب ایک طرف ایک اسرائیلی ریاست کو فلسطینی سند سے وجود کا قانونی جواز مل گیا تو دوسری طرف 'پی ایل او' کو فلسطینی اتھارٹی بنا کر دے دی گئی۔ اگرچہ اتھارٹی کی حیثیت جزوی اور محدود تر اختیارات کی ہے۔ مگر اس کے سربراہوں کو صدر کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک وزیر اعظم اور کئی وزراء بشمول وزیر داخلہ ہیں اس لیے ایک ریاست کا سا اس بارے شبہ ضرور ہونے لگا۔

اسے ایک علاقہ بھی دیا گیا جس میں مغربی کنارے کے علاوہ غزہ بھی شامل کیا گیا۔ اسرائیل نے 1967 میں مشرقی یروشلم سمیت ان علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ مرحلہ وار انداز میں اسرائیلی فوج کو ہٹائے جانے سے بھی کچھ حوصلہ سا مل گیا۔

سال 2000 تک پہنچتے پہنچتے یہ واضح ہو گیا تھا کہ امن عمل رک چکا ہے۔ اس پر فلسطینی سخت ناخوش تھے کہ طے شدہ امور میں پیش رفت نہیں ہو رہی۔ جبکہ اوسلو معاہدے کے بعد اسرائیلی قبضہ مزید پکا کیا جاتا رہا۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر میں بھی تیزی و وسعت آنے لگی۔ فلسطینیوں پر پابندیاں بڑھادی گئیں اور فلسطینیوں کے خلاف پر تشدد واقعات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

جب کلنٹن وائٹ ہاؤس میں اپنا آخری سال گزار رہے تھے تو وہ ایک دھماکہ خیز قسم کے معاہدے کی کوشش میں رہے جو ان کے بعد انہیں یاد گار بناتا رہے۔

دوسری جانب یاسرعرفات کے بارے میں بتایا جاتا رہا کہ وہ مذاکرات کے سخت خلاف ہیں۔ ان کے مطابق جو کچھ زمین پر چل رہا ہے اس کے ہوتے ہوئے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہو سکتے تھے۔ یہ بات روزنامہ الایام کے مدیر کی تحریر کردہ کتاب ' دی کیمپ ڈیوڈ پیپرز ' میں بھی رقم ہے۔ وہ یاسر عرفات کے مشیر بھی رہ چکے تھے۔

فلسطینی بار بار کہہ رہے تھے کہ مسئلہ فلسطین اتنا سیدھا سادہ نہیں ہے کہ اسے عجلت کے ساتھ بلائی گئی کسی کانفرنس میں طے کیا جائے۔

ایہود باراک ایک بڑی جیت کے لیے مذاکراتی میز پر آئے تھے۔ تاکہ ان کی مخلوط حکومت کو مضبوطی مل جائے۔ وہ ہر صورت کامیابی چاہتے تھے۔ اوسلو کی صورت چیزیں آگے بڑھیں یا کچھ بھی نہ ہو۔ وہ کامیاب لوٹنا چاہتے تھے۔ ان کی سیاست کی ضرورت یہی تھی۔

ان رہنماؤں کو گیارہ جولائی کو کیمپ ڈیوڈ پہنچنا تھا۔ کیمپ ڈیوڈ کیٹوںٹین کے پہاڑوں میں ایک سو پچیس ایکڑ زمین پر پھیلا ہوا کیمپ ڈیوڈ۔ ہرے بھرے جنگل کا حصہ اور امریکی صدر کا کیمپ آفس یہیں یا سیاحتی مرکز بھی اور دفتر بھی۔

ان مذاکرات کو محفوظ بنانے کے لیے موبائل فون بند کر دیے گئے اور ہر وفد کو صرف ایک فون لائن دی گئی ۔

اسی بارے میں کلنٹن نے کیمپ ڈیوڈ میں پریس کانفرنس کے شروع ہونے سے پہلے ہی صحافیوں سے ہنستے ہوئے کہہ دیا کہ صحافی مواصلاتی بلیک آوٹ پر کوئی سوال نہیں کریں گے۔

ادھر باراک اور عرفات نے ہلکے پھلکے ماحول کی ضرورت کے تحت ہال میں داخل ہونے کے لیے ایک دوسرے کے لیے پہلے آپ، پہلے آپ کا لکھنوی انداز اختیار کیا۔ یقینآ آج کی دنیا میں یہ سب ناقابل تصور ہے۔

ہاں یہ اپنی جگہ کہا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کی میز پر یہ لکھنوی انداز بالکل نہیں تھا۔ سب سے اہم ایشو جغرافیائی حدود کا تعین تھا۔ فلسطینی ریاست کی حدود کہاں تک ہوں گی۔ اسرائیل کی پوزیشن کہاں تک ہو گی۔ اسی طرح یہودی بستیوں کا مستقبل میں کیا مقام ہوگا۔ ان کے ساتھ کیسے ڈیل کیا جائے گا۔ جب 1948 میں یوم نکبہ ہوا تھا تو اس وقت بے گھر کر کے فلسطین بدر کیے گیے فلسطینیوں کی ان کے گھروں میں واپسی کیسے ممکن ہوگی۔

ایک اور سب سے کشیدہ معاملہ یروشلم اور اس کے مقدس مقامات سے متعلق درپیش تھا۔ فلسطینی مشرقی یروشلم چاہتے تھے۔ تاکہ یہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنے۔ اس میں مسجد اقصیٰ شامل ہو اور حرم شریف فلسطینی ریاست کے انتظام میں ہو۔ کیونکہ یہ مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔

اسرائیل ٹیمپل ماؤنٹ کو یہودی مقدس مقام کے طور پر لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی تحریری متن پیش نہ کیا گیا تھا البتہ مختلف اسرائیلی تجاویز ضرور پیش کی جارہی تھیں۔

اسرائیلی دعوی کرتے ہیں کہ ایہود باراک نے فلسطینیوں کو غزہ سے جڑے مغربی کنارے کا 90 فیصد حصہ دینے کی پیش کش کی تھی۔ لیکن اسرائیل مغربی کنارے پر اپنا فوجی کنٹرول جاری رکھنا چاہتا تھا۔

اسرائیل چاہتا تھا کہ مغربی کنارے کا 9 فیصد حصہ اسرائیل کے ساتھ منسلک رہے۔ جبکہ اسرائیل کا ایک فیصد حصہ یہودی بستیوں کے بدلے میں دیا جائے گا۔ البتہ اسرائیل مشرقی یروشلم کا زیادہ تر حصہ اپنے کنٹرول میں رکھے گا اور مسجد اقصیٰ کے حرم شریف کی نگرانی فلسطینیوں کو ملے گی۔ تاہم فلسطینی پناہ گزینیوں کی واپسی کا کوئی ذکر نہ کیا گیا۔

امریکی میڈیا جسے کیمپ ڈیوڈ میں ان مذاکرات کے دوران محدود رسائی دی گئی تھی، وہ دعوی کرتا ہے کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ جبکہ روزنامہ الایام کے مدیر جو یاسر عرفات کے مشیر تھے ان کا کہنا ہے کہ ابھی فریقین میں کافی فاصلہ تھا۔ کئی نکات پر تنازعہ جاری تھا۔ ان دنوں کے حالات بھی قریب قریب آج جیسے تھے۔ جب الایام کے مطابق امریکی حکام اسرائیلی مطالبات کو جلد قبول کرنے اور منوانے پر زور لگاتے۔

امریکی حکام نے مشرقی یروشلم اور مسجد اقصیٰ کے حوالے سے بھی اسرائیل کے زبانی پیش کیے گئے مطالبہ نما تجویز کو فوراً قبول کر لیا۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس پر مسلمانوں کا رد عمل کیا ہوگا اور یہ فیصلہ اسرائیل کے ہاتھوں آگ کا بنا کھلونا بن کر رہ جائے گا۔ جس سے آگ پھیل جائے گی۔

باراک کے نزدیک اسرائیل نے اس کی کبھی پیش کش کی نہیں تھی۔ تاہم امریکی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن رابرٹ میلے نے ان مذاکرات کے گزرنے کے بعد ایک مشترکہ لکھے گئے مضمون میں یاسر عرفات پر لگائے ان الزامات کے ازالے کی کوشش کی جو امریکہ اور اسرائیل اس سے پہلے مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے ان پر لگاتے رہے تھے۔

اسرائیلی رہنما کی سوچ اور طریقہ کار نے بعد ازاں یہ خوب باور کرا دیا کہ اسرائیل یاسر عرفات کو محض اپنے جال میں پھنسا کر مذاکرات کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے تاثر دیتا تھا کہ وہ فلسطینیوں کو بڑی رعائتیں دینے کو تیار ہے۔ اسی طرح امریکہ کے بطور ثالث کردار کو بھی اس کی اسرائیل کے لیے جانبداری نے کمزور اور خراب کیا کہ یہ ایک جانب کا دلال ہے، برابر کا نہیں۔ کیونکہ بطور دلال اس کی ایمانداری مشکوک ہوتی رہی۔

'فلسطین کرانیکل' جریدے کے فلسطینی نژاد امریکی مدیر رمزی بارود کے مطابق امریکی حمایت اسرائیل کے لیے اس قدر رہی ہے کہ وہ نیک نیت سے مذاکرات کرنے کے بجائے بری نیت سے مذاکرات کی میز پر آیا۔

نتیجتاً فلسطینیوں کے لیے ان مذاکرات کو ایک منصفانہ امن کی بنیاد سمجھنا ممکن نہ ہو سکا۔ کیونکہ مذاکرات کی تھیم ہی نتائج اسرائیل کے حق میں کرنے کے لیے تیار کی گئی تھی۔

ان مذاکرات کی ناکامی کی ایک وجہ یہ رہی کہ بغیر تیاری کے مذاکرات کیے جارہے تھے۔

'چتھم ہاؤس' کے ایک ایسوسی ایٹ فیلو یوسی میکل برگ اس بارے میں کہتے ہیں یہ اچھی طرح سے تیاری نہیں تھی۔ فریقین وہاں گئے جہاں پہلے سے کافی اتفاق رائے کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔ کم از کم ایک سربراہی اجلاس کی تیاری تو لازم ہوتی ہے کہ اس سے پہلے فریقین میں کافی چیزوں پر اتفاق ضروری تھا، جو مفقود رہا۔

امریکہ کی طرف سے ان مذاکرات کی میزبانی بھی کافی تنقید کا نشانہ بنی۔ حتیٰ کہ خود امریکی ٹیم کے ارکان نے بھی امریکہ کی اسلوب میزبانی پر تنقید کی کہ کیمپ ڈیوڈ سربراہ کانفرنس ایک کمزور سوچ اور کمزور مشاورت کی بنیاد پر بلائی گئی تھی اس لیے اس کی ساختیاتی کمزوری نے اس کے نتائج کو بھی متاثر کیا۔

اسی امریکی ٹیم کے ایک رکن ایرون ڈیوڈ ملر تھے۔ انہوں نے کیمپ ڈیوڈ کے کانفرنس کے بیس سال بعد اس بارے میں لکھا وہ مختلف غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہے مگر کوئی نوٹس نہ لیا گیا۔ یوں امریکی ٹیم کی کمزور کارکردگی کی وجہ سے کانفرنس نتائج نہ دے سکی۔

لیکن جب یاسر عرفات نے اسرائیلی دباؤ میں کوئی بات ماننے سے انکار کیا اور ثابت قدم ہو گئے تو کانفرنس اپنے انجام کی طرف بڑھ گئی۔

کانفرنس کی ناکامی پر اس کے بارے میں دلچسپ بات لکھی گئی۔ اگرچہ مذاکرات فریقین کے درمیان پل بننے اور ایک معاہدے تک پہنچننے میں کامیاب نہ رہے مگر یہ کانفرنس اپنے سکوپ اور تفصیلات کے اعتبار سے زبردست رہی۔

اس بارے میں مختلف خیالات پائے جاتے ہیں کہ کیا یہ مذاکرات شروع سے ہی ناکامی کی وجوہات لیے ہوئے تھے یا ناکام بنایا گیا۔ خطے میں امن نہ لا کر دہائیوں کے لیے خونریزی کو موقع دے دیا گیا۔ دوسرے نقطہ نظر کو سفارتی حوالے سے اہم سمجھا گیا جو کیمپ ڈیوڈ کے بعد مہینوں جاری رہیں۔

صدر کلنٹن کے آخری مہینوں میں فلسطین میں تشدد اور خونریزی پھر بڑھ گئی۔ جس کے بعد ایک مرتبہ پھر طے کیا گیا کہ مذاکرات شروع کرائے جائیں۔

ماہ دسمبر میں فریقین نے کچھ باتوں پر اتفاق کیا مگر تحفظات کے ساتھ۔ حتیٰ کہ مصر کی تابا کانفرنس کا موقع آگیا۔

تاہم اسرائیلی انتخابات کا مطلب تھا کہ اب وقت ختم ہوگیا ہے۔ بیان میں فریقین کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ کبھی بھی کسی معاہدے تک پہنچنے کے قریب نہیں تھے۔

امریکہ میں صدر جارج ڈیبلیو بش اور اسرائیل میں وزیراعظم شیرون کے آنے کے بعد معاہدے کی سیاسی حمایت ختم ہوگئی اور ردعمل میں انتفاضہ اگلے چار سال تک بھی جاری رہا۔

میکل برگ نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بارے میں لکھا 'یہ موقع ضائع کر دیا گیا، اس سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ اگر اس کا بہتر استعمال کیا جاتا تو وہ سب کچھ نہ دیکھنا پڑتا جو اس کے بعد ہم نے دیکھا ہے۔ یاسر عرفات کو ناکامی کا ذمہ دار قرار دے کر فلسطینیوں کی مشکلات مزید بڑھا دی گئیں۔

بارود نے کہا کہ اسرائیل و امریکہ کی مشترکہ کوشش یہ تھی کہ معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام اسرائیل پر نہیں بلکہ یاسر عرفات پر ڈالا جائے اور ان کی مبینہ ضد اور امن میں عدم دلچسپی معاہدے کے نہ ہونے کی وجہ بتائی جائے۔ حالانکہ اسرائیل کا مؤقف بین الاقوامی قانون کے خلاف تھا اس کے باوجود اسرائیل کو معصوم تعاون کرنے والا اور صلح جو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں