خودکشی اور علیحدگی، بچوں کے لیے سمارٹ فونز کے خطرے سے متعلق انتباہ

خطرات میں خودکشی کے خیالات، جذبات کو صحیح سے نہ سنبھال پانا، خود اعتمادی میں کمی اور حقیقت سے دوری شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایک نئی تحقیق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ والدین کو اپنے نوعمر بچوں کو سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے استعمال سے روکنا چاہیے۔ سی این این نیوز ویب سائٹ کے مطابق حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 13 سال کی عمر سے پہلے سمارٹ فون کا استعمال بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انسانی ترقی اور صلاحیتوں کے جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ 13 سال سے کم عمر کے بچوں میں سمارٹ فون کا استعمال خودکشی کے خیالات، جذبات کو صحیح سے نہ سنبھال پانا، خود اعتمادی میں کمی اور حقیقت سے دوری سے منسلک ہے۔ یہ سب علامات خاص طور پر لڑکیوں میں زیادہ سامنے آسکتی ہیں۔

اس تحقیق میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ 13 سال کی عمر سے پہلے بچے جتنے سال سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں ان کی ذہنی صحت اور نفسیاتی فلاح و بہ بہبود اتنی ہی کم ہونے کا امکان ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جن بچوں نے 13 سال کی عمر سے پہلے سمارٹ فون استعمال کیے انہوں نے سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کیا اور نیند کی خرابی، سائبر بلینگ اور منفی خاندانی تعلقات کا سامنا کیا۔

اگرچہ یہ اعداد و شمار 163 ممالک میں تقریباً 20 لاکھ افراد پر مشتمل ایک سروے میں خود رپورٹ کردہ معلومات پر مبنی تھے لیکن نتائج اتنے واضح تھے کہ محققین نے 13 سال سے کم عمر بچوں کو سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے استعمال سے روکنے کے لیے عالمی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔

اس تحقیق کی مرکزی محققہ اور سابین لیبز کی سینئر سائنسدان تارا تھیاگراجن، جو ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے اور یہ سروے کرتی ہے، نے کہا کہ یہ مطالعہ 13 سال سے کم عمر بچوں کی اسمارٹ فونز تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کے سامنے آنے والے ڈیجیٹل ماحول کو مزید احتیاط سے منظم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پچھلی تحقیق اس بات پر مرکوز تھی کہ سمارٹ فون کا استعمال اضطراب اور ڈپریشن سے کیسے منسلک ہے۔ اس سروے نے ان علامات کی جانچ کی جن کا عام طور پر مطالعہ نہیں کیا گیا تھا جن میں جذباتی تنظیم اور خود اعتمادی شامل ہیں۔ اس مطالعے کے نتائع بہت اہم ثابت ہوئے۔

انہوں نے زور دیا کہ نتائج سے یہ واضح ہوا کہ 13 سال سے پہلے بچوں کو سمارٹ فون دینا ایک برا خیال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سکولوں میں والدین، والدین کے گروپوں اور دیگر کمیونٹی فورمز میں والدین کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ 16 سال کی عمر تک بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ برطانیہ کی قابل اعتماد تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بلوغت کے دوران سوشل میڈیا کا استعمال ایک سال بعد زندگی کے اطمینان کی کم سطح سے منسلک ہے۔

والدین کا نقطہ نظر

واضح رہے سماجی ماہر نفسیات جوناتھن ہائیڈٹ نے اپنی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب "The Anxious Generation: How the Great Rewiring of Childhood Is Causing an Epidemic of Mental Illness" میں 16 سال کی عمر تک بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت دینے کا انتظار کرنے کی وکالت کی تھی۔ جبکہ اس تمام عرصے کا انتظار کرنا تقریباً ناممکن معلوم ہوتا ہے کیونکہ والدین کو ڈر ہے کہ اگر ان کے بچے پلیٹ فارمز پر نہیں ہوں گے تو وہ سماجی مواقع سے محروم رہ جائیں گے۔ لہذا تمام انتباہات اور خطرات کے باوجود ان کے دوستوں کے والدین کو شامل کرنا بہت اہم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں