ورزش ٹوٹے ہوئے دلوں کا مرہم بھی ہے: نئی تحقیق
ریاض: العربیہ ڈاٹ نیٹ
مطالعات میں ایک صحت مند جسم کا اچھی صحت سے تعلق ہمیشہ سے جوڑا جاتا رہا ہے لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق نے دل شکستہ لوگوں کے لیے ایک خوشخبری سنائی ہے۔
دنیا کا پہلا کلینیکل ٹرائل
پہلے عالمی کلینیکل ٹرائل میں ڈاکٹروں نے دریافت کیا ہے کہ 12 ہفتوں کا علمی رویے کا علاج (cognitive behavioural therapy) یا قلبی بحالی کے لیے ورزش کے پروگرام، جس میں تیراکی، سائیکلنگ اور دیگر ورزشیں شامل ہیں، نے مریضوں کے دلوں کو صحت مند ہونے میں مدد دی ہے۔ اخبار ’’ گارڈین ‘‘ کے مطابق یہ اہم پیشرفت یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کے میڈرڈ میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں بتائی گئی ۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی قلبی امراض کی کانفرنس ہے۔
یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ ٹاکوٹسبو کارڈیومیوپیتھی کے نام سے ایک حالت کا شکار ہیں جسے "بروکین ہارٹ سنڈروم" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ حالت دل کے پٹھوں کی شکل میں تبدیلی اور اچانک کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ یہ بیماری عام طور پر شدید جذباتی یا جسمانی تناؤ جیسے کسی پیارے کے انتقال کی وجہ سے ہونے والے صدمے میں ہوتی ہے۔ اس کی علامات دل کے دورے جیسی ہوتی ہیں اور اس سے قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس حالت کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں تھا لیکن اس تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ورزش اس کا ایک حل ہو سکتی ہے۔
طویل مدتی فوائد
سکاٹ لینڈ کی ابرڈین یونیورسٹی میں کارڈیالوجی کے کلینیکل لیکچرر ڈاکٹر ڈیوڈ گیمبل نے کہا ہے کہ ڈیٹا سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ علمی رویے کا علاج یا ورزش مریضوں کو صحت یاب ہونے میں مدد دے سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق نتائج نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ علاج دل شکستہ افراد میں علامات اور موت کے خطرے کو کم کرنے جیسے طویل مدتی فوائد بھی پیدا کر سکتا ہے۔