نیند پر نظررکھنے والے آلات بے خوابی اور اضطراب میں اضافے کا باعث بنتے ہیں:تحقیق کا انکشاف
ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیند پر نظر رکھنے والے آلات دراصل سکون دینے کے بجائے بے خوابی اور اضطراب کو بڑھاتے ہیں۔ ماہرین نے اس رجحان کو "ارتھوسومنیا" کا نام دیا ہے، جس کا مطلب ہے نیند کے بارے میں غیر صحت مند حد تک فکرمند رہنا۔
یہ اصطلاح 2017ء میں اس وقت سامنے آئی جب ماہرین نے ایسے مریضوں کا مشاہدہ کیا جو ان آلات کے ذریعے اپنی نیند کی خرابی خود تشخیص کرتے تھے اور علاج کی کوشش کرتے تھے۔ امریکی جریدے "ٹائم" کے مطابق یہ طرزِ عمل زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔
"ارتھوسومنیا" کیا ہے؟
یونیورسٹی آف یوٹاہ کی ماہر نفسیات کیلی بارون جو اس تحقیق کی مرکزی محقق ہیں وضاحت کرتی ہیں کہ "ارتھو" کا مطلب ہے درست یا سیدھا، جبکہ "سومنیا" کا مطلب ہے نیند۔ اس اصطلاح کو "ارتھورکسیا" سے مماثلت رکھتے ہوئے وضع کیا گیا، جو صحت مند خوراک کے غیر صحت مند جنون کو ظاہر کرتی ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جیسے جیسے نیند پر نظر رکھنے والے آلات عام ہوئے ہیں، ان کے استعمال کرنے والوں میں بے خوابی کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین نے کئی کیسز کے جائزے کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ کچھ لوگ بلا وجہ نیند کی کیفیت پر ضرورت سے زیادہ فکرمند ہو جاتے ہیں اور "مکمل نیند" کی جستجو میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
آلات کی حدود
نیند کے ماہر مائیکل بریوس کے مطابق یہ بات اکثر نظر انداز کی جاتی ہے کہ یہ آلات طبی آلات نہیں ہیں اور ان کی درستگی پر ہمیشہ سوال اٹھتا ہے۔ اصل نیند کا اندازہ دماغی لہروں سے لگایا جاتا ہے، جس کے لیے الیکٹروڈ کا استعمال ضروری ہے۔ دوسری جانب یہ آلات عموماً دل کی دھڑکن، جسم کا درجہ حرارت اور حرکت کو بنیاد بنا کر نتائج فراہم کرتے ہیں۔
مسئلہ اور حل
تحقیق کے مطابق ان آلات پر غیر ضروری انحصار بے خوابی اور گھبراہٹ کو مزید بڑھا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں نیند مزید متاثر ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی تفصیلات پر جنون کی بجائے بہتر ہے کہ عملی اہداف طے کیے جائیں، مثلاً نیند کا دورانیہ بڑھانا یا صبح تازہ دم اٹھنا۔
کیلی بارون کے مطابق نیند بہتر بنانے کے لیے سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور اٹھنا معمول بنا لیا جائے۔ صبح کی کیفیت پر توجہ دی جائے، نہ کہ صرف اعداد و شمار پر۔ اگر ان تمام تدابیر کے باوجود بھی کوئی شخص نیند کے ڈیٹا سے خوفزدہ رہے تو بہتر ہے کہ وہ یہ آلات استعمال کرنا ہی چھوڑ دے۔