دل کی صحت منہ سے شروع ہوتی ہے" ایک سرجن نے سنہری اصول بتا دیا
دل وہ عضو ہے جو پیدائش سے لے کر زندگی کے آخری لمحے تک ایک لمحہ بھی کام کرنا نہیں چھوڑتا۔ اس کے باوجود دل کی بیماریاں امریکہ اور دنیا بھر میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ دل کی یہ بیماریاں ہر پانچ میں سے ایک شخص کی موت کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض شماریات نہیں بلکہ ایک انتباہی گھنٹی ہیں جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری روزمرہ کی عادات اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم کیا کھاتے، پیتے اور کرتے ہیں، ہی اس اہم انجن کی صحت کا تعین کرتی ہیں۔
دوا سے پہلے غذا
امریکی "فوکس نیوز" کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں جارجیا سے تعلق رکھنے والے دل اور سینے کے سرجن ڈاکٹر جیریمی لندن نے اس بات پر زور دیا کہ دل کی صحت کے لیے غذا سب سے پہلی کلید ہے۔ دوا اور سرجری بعض اوقات ضروری ہوتی ہیں لیکن وہ اس بنیاد کی جگہ نہیں لے سکتیں جو ہم روزانہ اپنی پلیٹوں میں ڈالتے ہیں۔ جیریمی لندن نے مزید کہا کہ غذا ایک حساس موضوع ہے کیونکہ کوئی ایک نسخہ ہر ایک کے لیے مناسب نہیں ہے۔ لیکن کچھ عمومی اصول ہیں جن سے ہر کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
80/20 کا اصول
ان اہم اصولوں میں سے ایک اصول وہ ہے جسے جیریمی لندن "80/20 کا اصول" کہتے ہیں۔ اس میں سادہ سا خیال یہ ہے کہ آپ کی خوراک کا 80 فیصد قدرتی اور مکمل ذرائع سے ہونا چاہیے۔ یعنی سبزیاں، پھل، سالم اناج اور ہلکی پروٹین ہو۔ جبکہ 20 فیصد کم مثالی انتخاب کے لیے چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی میٹھی چیز یا کوئی پسندیدہ فاسٹ فوڈ شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ لچک غذائی نظام کو قابلِ عمل بناتی ہے۔ ہر کوئی ایک حقیقت پسندانہ توازن پر عمل کر سکتا ہے۔
کیا کھائیں اور کس سے پرہیز کریں؟
جیریمی لندن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پروسیسڈ اور تیار شدہ غذائیں دل کی سب سے بڑی دشمن ہیں۔ کھانا جتنا اپنی قدرتی حالت کے قریب ہوگا دل کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ اس کے برعکس انہوں نے رنگین سبزیوں، تازہ پھلوں، سالم اناج جیسے جو اور کوئنو اور بغیر چربی والی پروٹین جیسے مچھلی، چکن اور دالیں زیادہ کھانے کی سفارش بھی کی ہے۔ جہاں تک سادہ شکر اور سفید آٹے سے بنی ہوئی بیکری کی اشیاء کا تعلق ہےتو وہ خون میں شکر کی سطح کو تیزی سے بڑھاتی ہیں اور ٹرائیگلیسرائیڈز میں اضافہ کرتی ہیں۔ ٹرائیگلیسرائیڈز میں اضافہ دل کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
انڈہ زیادہ کولیسٹرول نہیں بڑھاتا
انڈوں کو ان کے کولیسٹرول کی وجہ سے ہمیشہ سے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ لیکن جیریمی لندن نے وضاحت کی ہے کہ اب صورتحال بدل گئی ہے۔ انڈے پروٹین اور وٹامنز کا ایک شاندار ذریعہ ہیں جو ہمیں آسانی سے دوسری غذاؤں میں نہیں ملتے۔ ہاں کچھ لوگ غذائی کولیسٹرول کے حوالے سے حساس ہوتے ہیں اور انہیں احتیاط کرنی چاہیے لیکن زیادہ تر لوگوں کے لیے اعتدال میں انڈے کھانا محفوظ اور فائدہ مند ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ توازن ہی اصل راز ہے۔
زیادہ پانی اور ورزش
ایک اور پہلو جو کم اہم نہیں ہے وہ ہے پانی کی مناسب مقدار ہے۔ جیریمی لندن نے دن بھر میں زیادہ سے زیادہ پانی پینے کا مشورہ دیا۔ جہاں تک الکحل کا تعلق ہے وہ اسے ایک ذاتی انتخاب سمجھتے ہیں لیکن اس بات پر زور دیتے ہیں کہ لوگوں کو حقیقت جاننی چاہیے الکحل جسم کے ہر خلیے کے لیے زہریلا ہے۔ اس لیے اس میں کمی یا اس سے پرہیز کرنا دل اور دیگر اعضاء کی صحت کے لیے بہترین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف غذا ہی کافی نہیں بلکہ ورزش اس مساوات کا ایک لازمی حصہ ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی وزن کو کنٹرول کرنے، جوڑوں پر دباؤ کم کرنے اور خون کی گردش کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ دل کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اچھی غذا اور باقاعدہ حرکت کا امتزاج ایک سنہری نسخہ ہے۔
80/20 کا اصول کیوں مؤثر ہے؟
ماہرین کے مطابق 80/20 اصول کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ ذہنی آزادی فراہم کرتا ہے۔ بہت سے غذائی نظام اس لیے ناکام ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ مکمل محرومی پر مبنی ہوتے ہیں لیکن 20 فیصد لچک کی اجازت دینا پابندی کو آسان بنا دیتا ہے۔ کچھ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ اصول وزن کو بتدریج کم کرنے اور حیاتیاتی اشاروں جیسے بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔ امریکی سرجن کی نصیحت کا ایک ہی جملے میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے کہ اس بات سے آگاہ رہیں کہ آپ اپنے منہ میں کیا چیز پیٹ میں لے جا رہے ہیں۔
لہٰذا معاملہ ہر کیلوری کا حساب لگانے کا نہیں ہے بلکہ روزانہ بہتر انتخاب کرنے کا ہے۔ اگر آپ کی پلیٹ 80 فیصد وقت سبزیوں، پھلوں اور مکمل اناج سے بھری ہو تو آپ کا جسم اور خاص طور پر آپ کا دل طویل عرصے میں آپ کا شکریہ ادا کرے گا۔ ماہرین کے مطابق دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے پیچیدہ مساوات کی ضرورت نہیں بلکہ ایک سادہ آگاہی اور عادات میں بتدریج تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اور 80/20 کا اصول صرف ایک غذائی مشورہ نہیں بلکہ ایک ایسا طرزِ زندگی ہے جو آپ کو توازن، صحت اور ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔