بیت الخلاء میں سمارٹ فون کے استعمال کے کیا نقصانات ہیں: نئی تحقیق میں انتباہ
بعض لوگ بیت الخلاء میں بغیر کسی منفی نتائج کی پرواہ کیے پڑھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ ویب سائٹ "سائنس الرٹ" کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سمارٹ فون کا وقت ضائع کرنے والا اثر استعمال کنندہ کو سیرامک کرسی پر غیر صحت مند لمبی مدت تک بیٹھنے پر مجبور کرتا ہے۔ تحقیق میں مزید کہا گیا کہ بیت الخلا میں فون استعمال کرنے والوں کو بواسیر ہونے کا خطرہ 46 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ یہ شدید دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
تحقیق کی سینئر محقق اور بوسٹن کے ایک میڈیکل سینٹر میں معدے کی ماہر تریشا ساتیا باسریشا نے وضاحت کی کہ سمارٹ فونز اور جدید طرز زندگی کئی طریقوں سے انسانی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ممکن ہے کہ سمارٹ فونز کے استعمال کا طریقہ اور بیت الخلا جیسے مقام میں اس کا استعمال غیر ارادی نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
باسریشا اور امریکہ میں محققین کی ایک ٹیم نے 125 شرکا پر ایک سروے کیا جن کا کولونوسکوپی ہو رہا تھا جن میں سے 40 فیصد سے زیادہ بواسیر میں مبتلا تھے اور 93 فیصد نے بتایا کہ وہ ہفتے میں کم از کم ایک بار بیت الخلاء میں اپنے فون استعمال کرتے ہیں۔ کچھ شرکاء نے وضاحت کی کہ وہ ہر دورے پر 6 منٹ سے زیادہ بیت الخلا میں گزارتے ہیں اور بہت سے لوگوں نے یہ یقین ظاہر کیا کہ وہ اپنے سمارٹ فونز کی وجہ سے بیت الخلاء میں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔
نجی زندگی میں دخل اندازی
واضح رہے نیوزی لینڈ کی وکٹوریا یونیورسٹی آف ویلنگٹن کے ایک ڈیجیٹل صحت کے ماہر الیکس بیٹی، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے وضاحت کی کہ یہ مطالعہ ان بڑھتی ہوئی تحقیقات میں شامل ہے جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ سمارٹ فونز کس طرح زندگی اور جسم کے انتہائی نجی پہلوؤں میں بھی داخل ہو گئے ہیں۔ ماہر بیٹی نے وضاحت کی کہ یہ پہلے سے معلوم ہے کہ رات کو سکرین کا استعمال نیند میں خلل ڈال سکتا ہے اور کھانے کی میز پر فون خاندانی رابطے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بیت الخلاء میں موبائل فون کے استعمال کی عادات بھی غیر محفوظ ہیں۔