جب مصر میں فلمی بحران حل کے لیے جمال عبدالناصر کو مداخلت کرنا پڑی!
ساٹھ کی دہائی میں بننے والی فلم "میرامار" میں سوشلسٹ یونین پر تنقیدی مکالموں کی وجہ سے فلم کی نمائش روکنا پڑی: چیئرپرسن مصری فلم سنسر بورڈ
ساٹھ کی دہائی میں مصری فلم سنسر بورڈ کی جانب سے مشہور فلم "میرامار" کی نمائش روکنے کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں جب اس وقت کے مصری صدر جمال عبدالناصر نے فوری ذاتی مداخلت کر کے فلمی صنعت کو بحرانی صورت تحال سے دوچار ہونے سے بچایا۔
معروف فلمی ادارکاروں شادیہ، یوسف وہبی اور یوسف شعبان نے "میرامار" میں اداکاری کے جوہر دکھائے؛ جسے فلم بینوں نے بہت پسند کیا۔
مصری فلم سنسر بورڈ کی سابق سربراہ اعتدال ممتاز نے "فلم سنسر کی یاد داشتیں" کے عنوان سے اپنی کتاب میں اس واقعے کی تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعے کے مطابق اعتدال ممتاز اپنی کتاب میں لکھتی ہیں "کہ ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں مشہور عالمی ادیب نجیب محفوظ کے ایک ناول پر مبنی فلم "میرامار" بنی۔ فلم کو نمائش سے قبل سنسر بورڈ کی منظوری کے لیے اس دنوں پیش کیا گیا جب وہ اپنی سالانہ چھٹیاں گذارنے کے لیے مصر سے باہر تھیں۔"
سنسر بورڈ کے چند ارکان نے فلمی کرداروں کی زبان سے ادا ہونے والے چند مکالموں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، تاہم سنسر ٹیم کا یہ بھی خیال تھا کہ ان جملوں کو حذف کرنے سے فلم کا فنکارانہ بانکپن متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کی رائے تھی کہ یا تو فلم کو ان مکالموں سے سمیت نمائش کے لیے پیش کرنے کی اجازت دے دی جائے یا پھر اس پھر اس نمائش کے لیے اجازت نامہ جاری نہ کیا جائے۔ اس نوٹ کے ساتھ معاملہ مصر کی وزارت کلچر کے انڈر سیکرٹری کو بھجوا دیا گیا۔
جب اعتدال ممتاز اپنی سالانہ رخصت گذار کر دفتر آئیں تو "میرامار" فلم کی فائل ان کے میز پر موجود تھی۔ فائل پر موجود نوٹنگ سے انہیں محسوس ہوا کہ معاملہ ضرورت سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ خود کوئی فیصلہ کرتیں، وزارتِ ثقافت کے انڈر سیکرٹری نے بتایا کہ معاملہ نمٹ چکا ہے اور فلم سوشلسٹ اتحاد کو دکھانے کے لیے بھیج دی گئی ہے تاکہ وہ فیصلہ کریں۔
سوشلسٹ اتحاد کے ایک سیاسی رہنما نے فلم دیکھنے کے بعد اس رائے کا اظہار کیا کہ ایک اور نمائش رکھی جائے تاکہ اتحاد کے دیگر حکام بھی اسے دیکھ سکیں۔ اس دوران فلم کے مندرجات کی وجہ سے اعتدال ممتاز کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ صدرِ جمہوریہ جمال عبدالناصر کو اس معاملے پر براہِ راست آگاہ کریں، اس لیے کہ کہا جا رہا تھا کہ صدر سوشلسٹ اتحاد اور اس کے مفاد پرست اراکین سے بیزار ہو چکے ہیں۔
انہوں نے صدر کو خط لکھا، جس کے جواب میں ایوانِ صدر سے فون پر انہیں بتایا گیا کہ اس وقت پیپلز اسمبلی کے سربراہ محمد انور السادات فلم کو خود دیکھیں گے اور پھر فیصلہ کریں گے۔
انور السادات دیگر افراد کے ساتھ فلم دیکھنے کے لیے آئے۔ فلم ختم ہونے کے بعد انہوں نے صرف ایک بات پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی جملہ مصری خواتین کی توہین کرے۔ یہ اعتراض فلم کے اس مکالمے پر تھا جو ایک اخبار بیچنے والے نے کہا تھا: "عورتیں جانور ہیں"۔
قومی اسمبلی کے سپیکر نے فلم کی عام نمائش کے لیے پیش کرنے کی اجازت دے دی، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ جملہ حذف کیا جائے جس پر انہوں نے اعتراض کیا تھا۔
اس کے علاوہ وزارتِ ثقافت کے انڈر سیکرٹری نے بھی یہ تجویز دی کہ فلم سے لفظ "شيوعيہ" (کمیونزم) نکال دیا جائے، جسے قبول کر لیا گیا۔ یوں فلم سرکٹ کے بڑے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی اور بیرونِ ملک بھی بھیجی گئی۔