ٹائپ 2 ذیابیطس کے بنیادی علاج کی راہ ہموار کرنے والی سائنسی دریافت
دنیا کی سب سے عام بیماریوں میں سے ایک کو سمجھنے اور علاج کرنے میں ایک بڑی سائنسی پیش رفت ہوئی ہے
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک نئے ممکنہ علاج کی دریافت ہوئی ہے جو ٹائپ 2 ذیابیطس کے انتظام میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ برطانوی اخبار ’’ ڈیلی میل ‘‘ کے مطابق محققین کی ایک ٹیم نے پایا ہے کہ ایک مخصوص جین دنیا بھر میں سب سے زیادہ عام دائمی بیماریوں میں سے ایک، ٹائپ 2 ذیابیطس کو سمجھنے اور علاج کرنے میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ یہ تحقیق جریدے "نیچر کمیونیکیشنز" میں شائع ہوئی ہے۔
یہ دریافت SMOC1 جین پر مرکوز ہے جو لبلبہ کے ان خلیوں کے افعال کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے جو خون میں شکر کی سطح کو منظم کرنے والے ہارمونز پیدا کرتے ہیں۔ صحت مند افراد میں ’’ SMOC1 ‘‘ جین صرف "الفا" خلیوں میں فعال ہوتا ہے جو "گلوکاگون" ہارمون خارج کرتے ہیں ۔ گلوکا گون خون میں شکر کی سطح کو بڑھانے کا ذمہ دار ہے۔ تاہم محققین نے مشاہدہ کیا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا افراد میں یہ جین "بیٹا" خلیوں میں بھی فعال ہو جاتا ہے۔ بیٹا خلیے انسولین خارج کرنے کے ذمہ دار ہیں اور یہ انسولین خون میں شکر کی سطح کو کم کرتی ہے۔
یہ خرابی "بیٹا" خلیوں کی از سر نو پروگرامنگ کا باعث بنتی ہے تاکہ وہ "الفا" خلیوں سے مشابہت رکھنے والے خلیوں میں تبدیل ہو جائیں۔ اس سے انسولین پیدا کرنے اور خارج کرنے کی ان کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے اور انسولین کی کمی ذیابیطس کی ایک خاص علامت ہے۔
امریکی ادارے "سٹی آف ہوپ" کے محقق ڈاکٹر جی منگ لور کے مطابق ’’ SMOC1 ‘‘ جین صحت مند افراد میں 'الفا' خلیوں میں فعال ہوتا ہے لیکن ہم نے دیکھا کہ یہ ذیابیطس کے مریضوں میں 'بیٹا' خلیوں میں بھی ظاہر ہوتا ہے جو بالکل غیر معمولی ہے۔ تحقیقی ٹیم نے 26 عطیہ دہندگان سے لیے گئے لبلبہ کے بافتوں کے نمونوں کا تجزیہ کرنے کے لیے سنگل سیل آر این اے سیکوینسنگ کی تکنیک کا استعمال کیا جن میں سے نصف ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا تھے۔ اس جدید طریقہ کار نے محققین کو خلیوں کی اقسام کی اعلیٰ درستگی کے ساتھ شناخت کرنے اور ان غیر معمولی راستوں کا نقشہ بنانے کی اجازت دی جو "بیٹا" خلیوں کی اپنی شناخت اور کام کھونے کا باعث بنتے ہیں۔
اخبار نے مزید کہا کہ اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے کے بعد محققین نے "الفا" خلیوں کی پانچ ذیلی اقسام کی نشاندہی کی جن میں نادان AB خلیے بھی شامل ہیں جو "الفا" یا "بیٹا" خلیوں میں تیار ہو سکتے ہیں۔ جب لیبارٹری میں "بیٹا" خلیوں میں SMOC1 پروٹین کی سطح میں اضافہ ہوا تو محققین نے انسولین کی پیداوار میں واضح کمی اور خلیوں کو دیگر غیر معمولی اقسام میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا۔
حتمی ٹیسٹوں سے ظاہر ہوا کہ ذیابیطس کے مریضوں میں SMOC1 کی سطح نمایاں طور پر زیادہ تھی اور یہ خود "بیٹا" خلیوں کے اندر پایا گیا جو بیماری کے بڑھنے میں اس کے براہ راست کردار کی تصدیق کرتا ہے۔ مطالعہ میں شریک محقق ڈاکٹر رینڈی کانگ نے نشاندہی کی کہ ’’ SMOC1 ‘‘جین کا پہلے ذیابیطس کے تناظر میں مطالعہ نہیں کیا گیا تھا لیکن اس کے نتائج 'بیٹا' خلیوں کی تفریق اور ان کے کام پر ایک مضبوط اثر دکھاتے ہیں۔
محققین کا خیال ہے کہ اس جین کو ادویات کے ذریعے ہدف بنانا ایک نیا علاج فراہم کر سکتا ہے جو بیماری کی بنیادی وجہ کا علاج کرتا ہے نہ کہ صرف خون میں شکر کی سطح کو منظم کرتا ہے جیسا کہ موجودہ ادویات جیسے اوزیمپک اور GLP-1 ریسیپٹر ایگونسٹ کرتی ہیں۔ اگرچہ SMOC1 کو ہدف بنانے والے جین تھراپیز ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، یہ دریافت ایسی ادویات کی تیاری کی راہ ہموار کرتی ہے جو "بیٹا" خلیوں کی حفاظت کر سکتی ہیں اور انسولین پیدا کرنے کی ان کی صلاحیت کو برقرار رکھ سکتی ہیں جو مستقبل میں بیماری کے بڑھنے کو روک یا الٹ سکتی ہیں۔