فیشن کے رجحانات اور نفاست کے انداز ... پرندے اپنے پَروں سے محروم

فیشن کی خاطر اربوں پرندے قتل کر دیے جاتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یورپ میں حالیہ فیشن ویک کے دوران ایک سوال نے توجہ حاصل کی ... کیا فیشن ہاؤسز ہمیشہ کے لیے پرندوں کے پَروں کا استعمال ترک کر دیں گے؟

یہ بحث اس بات پر مرکوز رہی کہ اگر اصلی پَروں کا استعمال جاری رہا تو فیشن انڈسٹری پر ماحولیاتی اثرات کیا ہوں گے، اور کیا مصنوعی پَر مالی طور پر قابلِ عمل ہیں۔

کئی فیشن اداروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس نہ اتنے وسائل ہیں اور نہ سرمایہ کہ وہ فوری طور پر اس مواد کو بدل سکیں، جب کہ کچھ ادارے مہنگی لاگت کے باوجود متبادل ذرائع اپنا رہے ہیں۔

پَروں کے استعمال کے خلاف مہموں نے کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ برلن، ایمسٹرڈم اور میلبرن جیسے شہروں کے فیشن ویک میں حقیقی پَر مکمل طور پر ممنوع ہو چکے ہیں۔ البتہ پیرس، میلان، نیویارک اور لندن میں اب بھی ان کی اجازت ہے۔

سب سے بڑی رکاوٹ مالی لاگت ہے، کیونکہ مصنوعی یا نباتاتی متبادل تیار کرنا مہنگا اور سست عمل ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نباتاتی متبادل تیار کیے جائیں تو فیشن اپنی نفاست برقرار رکھتے ہوئے پرندوں کو نقصان پہنچائے بغیر آگے بڑھ سکتا ہے۔

انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بڑے برانڈز پر پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ وہ صرف ری سائیکل شدہ پَروں پر انحصار نہ کریں بلکہ حقیقی تبدیلی لائیں۔

کچھ مہموں کی بدولت بعض پرندے پروں کے استعمال سے مستثنیٰ قرار دیے جا چکے ہیں تاہم شترمرغ، بطخ اور ٹرکی کے پروں کا استعمال اب بھی جاری ہے۔

برطانوی ڈیزائنر اسٹیلا مک کارٹنی ان معروف شخصیات میں شامل ہیں جو پرندوں کے پروں کے استعمال کی سخت مخالف ہیں۔ ان کے مطابق ہر سال تقریباً 3.4 ارب پرندے اپنے پَروں کے لیے مارے جاتے ہیں، جن کے پَر اکثر زندہ حالت میں نوچے جاتے ہیں۔

پَروں کا استعمال صدیوں سے فیشن میں فخرو شان کی علامت رہا ہے۔ ابتدا میں اسے خواتین کی ٹوپیوں اور ملبوسات میں زینت کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، بعد میں یہ لباس کا باقاعدہ حصہ بن گیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ جنگلی پرندوں کے شکار میں اضافہ ہوا، جس سے کئی اقسام نایاب ہو گئیں۔ بعد ازاں تکنیکی فارموں میں پرندوں کی افزائش کا سلسلہ شروع ہوا تاکہ فیشن انڈسٹری کی ضرورت پوری کی جا سکے۔

آج کئی ڈیزائنرز ماحول دوست رویہ اپناتے ہوئے ری سائیکل شدہ یا محفوظ طریقے سے حاصل کردہ پَروں کا استعمال کر رہے ہیں۔

اگرچہ سادگی کا رجحان بڑھا ہے مگر انفرادیت اور دل کشی کی تلاش نے ایک بار پھر پَروں کو فیشن میں واپس لا کھڑا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size