خلائی سائنسدان کی ایلون مسک کے سیٹلائٹس سے متعلق اہم وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک ممتاز ماہرِ فلکیات نے خبردار کیا ہے کہ امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کے سیٹلائٹس زمین کے فضائی غلاف میں ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں، کیونکہ یہ سیٹلائٹس روزانہ ایک یا دو کی رفتار سے زمین کی طرف گر رہے ہیں۔

ماہرِ فلکیات جوناتھن میکڈوئل، جو ہارورڈ-اسمتھسونیان سینٹر فار ایسٹرو فزکس میں 37 سال سے زیادہ عرصہ کام کر چکے ہیں، نے کہا کہ یہ سیٹلائٹس زمین کی اسٹریٹوسفیر خصوصاً اوزون کی تہہ کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جلد کے سرطان اور آنکھوں کے امراض میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے زمین تک پہنچنے والی بالائے بنفشی (الٹرا وائلٹ) شعاعوں کی مقدار بڑھ جائے گی۔

میکڈوئل نے مزید بتایا کہ اس وقت 25 ہزار سے زائد خلائی ملبے کے ٹکڑے زمین کے گرد چکر لگا رہے ہیں، جن میں غیر فعال سیٹلائٹس استعمال شدہ راکٹ اور ٹکراؤ سے پیدا ہونے والے ٹکڑے شامل ہیں۔

سٹار لنک
سٹار لنک

ان کے مطابق اسپیس ایکس کمپنی کے فعال سیٹلائٹس کی تعداد تقریباً 8 ہزار ہے، جبکہ آئندہ برسوں میں مزید سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کے منصوبے بھی جاری ہیں۔یہ بات برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔

دو ہزار سے زیادہ مصنوعی سیارے

اسپیس فلائٹ ناؤ ویب سائٹ کے مطابق کمپنی نے صرف اس سال میں ہی دو ہزار سے زیادہ نئے سیٹلائٹس خلا میں بھیجے ہیں، جبکہ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے خبردار کیا ہے کہ یہ سیٹلائٹس 2035 تک انسانی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

اس کے باوجود ایلون مسک نے انتظامیہ کی ان وارننگز کو “بے بنیاد اور غلط” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، اور تاکید کی کہ اسپیس ایکس کے سیٹلائٹس اس طرح تیار کیے گئے ہیں کہ وہ فضائی غلاف میں داخل ہوتے ہی مکمل طور پر تحلیل ہو جائیں گے۔

تاہم کمپنی نے گذشتہ فروری میں یہ اعتراف کیا تھا کہ اس کے کچھ سیٹلائٹس زمین کی فضا میں واپس آتے وقت مکمل طور پر نہیں جلتے۔

سیٹلائٹس کی تعداد اگر اسی تناسب سے بڑھتی رہی تو میکڈوئل کے مطابق یہ آئندہ برسوں میں فضائی غلاف میں واپسی کے واقعات کی تعداد روزانہ پانچ تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے اس خطرے سے بھی خبردار کیا جسے “کیسلر سنڈروم” کہا جاتا ہے یعنی مدارِ زمین کے نچلے حصے میں مسلسل ٹکراؤ کے ایسے سلسلے جو خلائی ملبے کے گھنے بادل پیدا کر سکتے ہیں، اور یوں مستقبل کی تمام خلائی سرگرمیوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size