دس برسوں بعد امریکی ریاستوں میں موٹاپے کی شرح میں کمی کا رحجان
دس سال سے زیادہ عرصے میں پہلی مرتبہ امریکہ کی ان ریاستوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے جہاں موٹاپے کی شرح 35 فیصد یا اس سے زیادہ ہے۔
حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے کہ ملک میں بڑھتے وزن کی وبا میں بہتری کا امکان پیدا ہوا ہے۔ تاہم وفاقی ملازمین کی کمی اور دائمی امراض کے خلاف چلنے والے پروگراموں میں کٹوتی اس پیش رفت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
امریکی مراکز برائے امراض کی روک تھام (CDC) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں 19 ریاستوں میں موٹاپے کی شرح 35 فیصد یا اس سے زیادہ رہی، جو پچھلے سال کی 23 ریاستوں کے مقابلے میں کمی ہے۔ یہ اعداد و شمار غیر منافع بخش تنظیم "ٹرسٹ فار امریکہ ہیلتھ" نے تجزیہ کیے۔
اس تنظیم کا تجزیہ پچھلے سال CDC کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ میں موٹاپے کی مجموعی شرح بلند ہے لیکن مستحکم ہے ،جو تقریباً 40 فیصد آبادی کو متاثر کرتی ہے۔
اگرچہ یہ کمی ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن ڈاکٹر نادین گراسیا جو "ٹرسٹ فار امریکہ ہیلتھ" کی صدر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ ایک پائیدار رجحان ہے۔
ڈاکٹر گراسیا نے مزید کہا کہ وفاقی فنڈنگ میں حالیہ کمی، ملازمین کی برخاستگی اور پروگراموں کی منسوخی کے باعث یہ ممکنہ پیش رفت بھی خطرے میں ہے۔
امریکی وزارت صحت و انسانی خدمات کے ترجمان نے ایک ای میل بیان میں کہا کہ حکومت نئے اعداد و شمار سے پرامید ہے، جو موٹاپے کے خلاف جدوجہد میں پیش رفت ظاہر کرتے ہیں۔