اٹھلیٹک شوز خواتین کے لیے مفید کیوں نہیں؟ حیران کن سائنسی انکشاف
ایک نئی سائنسی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ دوڑ کے دوران خواتین کو پیروں میں ہونے والے درد کی وجہ دراصل صنف نازک کے لیے بنائے گئے اٹھلیٹ شوز ہی ہوتے ہیں۔
یہ جوتے خواتین کے پیروں کی مخصوص ساخت کو سامنے رکھ کر تیار کرنے کے بجائے مردوں کے جوتوں میں ہلکی پھلکی تبدیلی کے بعد ان پر خواتین کے دل کو لبھانے والے رنگ چڑھا کر مارکیٹ میں فروخت کے لِئے بھیج دیا جاتا ہے۔
سائنسی جریدے BMJ Open Sports and Exercise Medicine میں شائع ہونے والی تحقیق کو امریکی میگزین نیوز ویک (Newsweek) نے اپنے حالیہ شمارے میں نقل کیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جوتے بنانے والی کمپنیاں اب بھی “چھوٹا کرو اور گلابی رنگ دو” (Shrink it and pink it) کے اصول پر عمل کر رہی ہیں یعنی مردوں کے جوتوں کے سائز کو تھوڑا چھوٹا کر کے اور گلابی رنگ چڑھا کر خواتین کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
دہائیوں پرانی خلیج
یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا سے وابستہ کینیڈین محققہ کارلا نیبیئر نے بتایا ہے کہ گذشتہ پچاس برسوں میں اتھلیٹ شوز بنانے والی صنعت نے آرام اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے، لیکن ان میں سے زیادہ تر تحقیق صرف مرد کھلاڑیوں پر مرکوز رہی، خواتین کو تقریباً نظر انداز کر دیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا: خواتین کے جوتوں کا ڈیزائن دراصل ایک مرد کے پاؤں کے تھری ڈی ماڈل جسے ’لاسٹ‘ (Last) کہا جاتا ہے، سے نقل کیا جاتا ہے اور اس میں صرف لمبائی اور رنگ کے معمولی فرق کے ساتھ تبدیلی کی جاتی ہے۔
خواتین کو واقعتا مختلف جوتوں کی ضرورت
اس طرزِ عمل کے حقیقی اثرات کو سمجھنے کے لیے تحقیقی ٹیم نے کینیڈا کے شہر وینکوور میں مختلف عمر اور تربیت کے درجے رکھنے والی 21 خواتین رنرز سے انٹرویوز کیے۔ ان میں سے نصف تعداد پیشہ ور ایتھلیٹس تھیں جو ہفتے میں تقریباً 45 کلومیٹر دوڑتی ہیں، جبکہ باقی شوقیہ دوڑنے والی خواتین تھیں۔
سروے میں شریک تمام خواتین اس بات پر متفق تھیں کہ جوتا خریدتے وقت سب سے اہم چیز آرام ہے، اس کے بعد چوٹ سے بچاؤ اور پھر کارکردگی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
زیادہ تر خواتین نے مطالبہ کیا کہ جوتوں کے ڈیزائن میں انگلیوں کے حصے (toe box) کو زیادہ کشادہ، ایڑی کو قدرے تنگ، اور جھٹکے جذب کرنے والی اضافی تہیں شامل کی جائیں جبکہ پیشہ ور رنر خواتین نے اس بات پر زور دیا کہ کارکردگی بڑھانے والے عناصر جیسے کاربن پلیٹس ضرور ہوں، مگر آرام اور توازن کو قربان کیے بغیر۔
سروے میں شامل ماں بننے کے تجربے سے گذرنے والی رنر خواتین نے بتایا کہ انہیں حمل کے دوران اور اس کے بعد ایسے جوتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو زیادہ کشادہ سائز اور اضافی سہارا (support) فراہم کریں، وہیں عمر رسیدہ رنر خواتین کا کہنا تھا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ پاؤں کو زیادہ مضبوط ساختی سہارا درکار ہوتا ہے۔
خواتین کے لیے جامع ڈیزائن
اگرچہ یہ تحقیق جغرافیائی اور عددی لحاظ سے محدود ہے، مگر اس نے اٹھلیٹک شوز کے ڈیزائن پر از سرِ نو غور کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ جوتا سازی کی صنعت کو اب مردوں کے جوتوں کے چھوٹے نسخے بنانے کے بجائے، خواتین کے مخصوص جسمانی، ہارمونی اور عمر کے مراحل سے متعلق ڈیٹا پر مبنی ڈیزائن تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
تحقیق میں شریک محققہ گُربریت ڈیلن نے کہا: اگر جوتے کسی حقیقی عورت کے پاؤں کے مطابق تیار کیے جائیں، تو شاید ہمیں ایسی خواتین رنرز نظر آئیں جو کم زخمی ہوں اور کھیل سے زیادہ لطف اٹھائیں۔