امریکی ہدایت کارہ کیتھرین بگلو کی فلم ڈائنامائٹ ہاؤس (A House of Dynamite) ریلیز کے چند دن بعد ہی نیٹ فلکس پر امریکہ بھر میں شدید بحث و مباحثے کا باعث بن گئی۔
فلم میں امریکی میزائل دفاعی نظام کی ناکامی کو دکھایا گیا ہے جو شکاگو کی طرف آنے والے ایک جوہری میزائل کو روکنے میں ناکام رہتا ہے اور امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اسے اپنی فوجی صلاحیتوں کی غیر حقیقی تصویر کشی قرار دیا۔
بعدَ أن صوَّرَ هجوماً نووياً على #أميركا وفشَل أنظمتِها الدفاعية.. البنتاغون يهاجم نتفليكس: فيلم “بيت الديناميت” يقدم صورة مضللة عن أنظمتنا الجوية الدفاعية#أخبار_الصباح #قناة_العربية pic.twitter.com/BEf2FhH0yU
— العربية (@AlArabiya) October 28, 2025
پینٹاگون نے میزائل ڈیفنس ایجنسی (MDA) کے ذریعے جاری ایک اندرونی نوٹ میں کہا کہ فلم میں دکھایا گیا منظرنامہ فرضی اور گمراہ کن ہےاور حقیقت میں امریکی نظام گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ٹیسٹوں میں کامیابی کی بلند شرح رکھتا ہے۔
دوسری جانب ہدایتکارہ بگلو نے وضاحت کی کہ انہوں نے فلم کو فوجی اداروں کے اثر سے آزاد رکھ کر بنایا تاکہ ایک جوہری ہتھیاروں کے توازن کی نازکی اور فیصلہ کن لمحات میں ٹیکنالوجی پر انحصار کے خطرات کے بارے میں ڈرامائی اور فکری بحث کو جنم دیا جا سکے۔
فلم کی کہانی
فلم کی کہانی امریکی میزائل دفاعی نظام کی ناکامی کے گرد گھومتی ہے، جو ایک بین البرّی جوہری میزائل کو روکنے میں ناکام رہتا ہے جو شکاگو شہر کی جانب داغا گیا ہوتا ہے۔
امریکی میزائل ڈیفنس ایجنسی (MDA) جو اس نظام کی ذمہ دار ہے — ایک ایسا نظام جس پر 50 ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آئی اور جس میں الاسکا اور کیلیفورنیا میں تعینات انٹرسیپٹر میزائل شامل ہیں ۔ فلم میں اپنی تصویر کشی سے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
ایجنسی کی 16 اکتوبر کی ایک اندرونی یادداشت میں کہا گیا کہ فلم میں پیش کیا گیا منظرنامہ "غیر درست" ہے، اور اس نوٹ کا مقصد یہ ہے کہ ایجنسی کے عہدیداران اس معاملے سے باخبر رہیں تاکہ کسی بھی اجلاس یا عوامی بحث کے دوران حیرت میں نہ پڑیں۔
جوہری دفاع کی ناکامی کا امکان نمایاں کرتا ہے
یادداشت میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ فلم امریکی میزائل دفاعی نظام کو غیر مؤثر کے طور پر پیش کرتی ہے، جو خاص طور پر اس وقت تشویش کا باعث ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک نئے دفاعی نظام کی تیاری کے لیے درجنوں ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایک منصوبہ جسے "سنہری گنبد" (Golden Dome) کا نام دیا گیا ہے اور جس میں زمینی، بحری اور خلائی دفاعی اجزاء شامل ہیں۔
دستاویز کو "صرف میزائل ڈیفنس ایجنسی اور وزارتِ جنگ کے اندرونی استعمال کے لیے مخصوص" قرار دیا گیا ہے اور اسے عوامی طور پر جاری نہیں کیا جا سکتا۔
بلومبرگ کے مطابق اس یادداشت کا مقصد غلط مفروضات کی درستی، درست حقائق کی فراہمی اور موجودہ نظام کی بہتر تفہیم پیدا کرنا تھا۔
یادداشت میں کہا گیا کہ اگرچہ فلم "جوہری دفاع کی ناکامی کے امکان کو اجاگر کرتی ہے، جس سے ایک فعال قومی دفاعی نظام کی ضرورت پر زور ملتا ہے"مگر اسی وقت یہ امریکہ کی صلاحیتوں کو کم تر دکھاتی ہے۔
مزید یہ بھی کہا گیا کہ نظام کی درست لاگت کا تعین ممکن نہیں، تاہم یہ ضرور بہت زیادہ ہے لیکن اس حد تک نہیں جتنی قیمت ایک جوہری میزائل کے ہمارے ملک پر گرنے کی ہوگی۔
53 ارب ڈالر لاگت کا میزائل نظام
بلومبرگ نیوز کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ فلم کی تیاری میں اس سے کوئی مشورہ نہیں لیا گیا اور یہ "نہ تو موجودہ حکومت کے نظریات کی عکاسی کرتی ہے اور نہ ہی اس کی ترجیحات کی"۔
پینٹاگون نے زور دے کر کہا کہ امریکی دفاعی نظام قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے، جو امریکی عوام اور ان کے اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔
دوسری جانب نیٹ فلیکس نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ 73 سالہ ہدایت کارہ کیتھرین بیگلو کی نمائندہ نے بتایا کہ بیگلو نے فلم کی تخلیق میں پینٹاگون سے مکمل آزادی برقرار رکھنا چاہا، جیسا کہ انہوں نے پروگرام CBS News Sunday Morning میں ایک انٹرویو کے دوران ذکر کیا۔
اس
مریکی گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس (GAO) کی 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے زمینی میزائل دفاعی نظام پر تقریباً 53 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں اور مزید 10 ارب ڈالر 2025 تک اس کی ترقی اور دیکھ بھال پر خرچ کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ نظام بوئنگ کمپنی کے زیرِ انتظام ہے اور امریکی نارتھ کمانڈ کے ماتحت کام کرتا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے تاحال “گولڈن ڈوم” (القبة الذهبية) منصوبے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم امریکی اسپیس فورس کے سربراہ جنرل مائیکل گیٹلین نے گزشتہ ستمبر میں اعلان کیا کہ منصوبے کا ابتدائی خاکہ مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ پینٹاگون نے اس کے دائرہ کار یا مجموعی لاگت پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔