ایک حیران کن وجہ کی بنا پر … امریکہ نے میکسیکو کے اہم ترین شہروں پر قبضہ کر لیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

تاریخی اعتبار سے امریکہ اور میکسیکو کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا ہے، جو جنگوں تعلقات کے منقطع ہونے اور اقتصادی و سکیورٹی اتحاد کے درمیان بدلتے رہے۔ 1846 سے 1848 کے درمیان امریکہ، میکسیکو جنگ کے بعد واشنگٹن نے ایک معاہدے کا نفاذ کیا، جس کے تحت اسے میکسیکو کی وسیع زمینیں حاصل ہو گئیں۔

اس جنگ کے کئی دہائیوں بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی، خاص طور پر 1914 میں جب میکسیکو کی فوج نے چند امریکی فوجیوں کو گرفتار کیا۔ اس واقعے نے واشنگٹن کو فوجی مداخلت کرنے پر مجبور کیا اور اس نے ساحلی شہر وراکروز پر قبضہ کر لیا۔

سفارتی کشیدگی

1910 میں میکسیکو میں آمریت کے نظام کے خلاف انقلاب برپا ہوا، جس کی قیادت پورفیریو دیاز (Porfirio Díaz) کے خلاف کی گئی۔

تین سال بعد ملک میں فوجی انقلاب کے بعد انتشار پھیلا، جس کی قیادت جنرل وکٹوریانو ہوئیرتا (Victoriano Huerta) نے کی۔

 امریکی صدر وڈرو ولسن
امریکی صدر وڈرو ولسن

اس نے صدر فرانسسکو مادیرو (Francisco Madero) کو گرفتار کیا اور جیل منتقل کرتے ہوئے اسے قتل کر دیا، اس پر یہ الزام عائدکیا کہ وہ سیکیورٹی فورسز سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

امریکی صدر وڈرو ولسن کی انتظامیہ نے ہوئیرتا کو میکسیکو کا صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور خفیہ طور پر اس کے مخالفین کی حمایت کی، خاص طور پر دستور ساز تحریک کے رہنما وینوستیانو کرانزا (Venustiano Carranza) کی۔

اس موقف نے واشنگٹن اور میکسیکو کے تعلقات میں کشیدگی کو بڑھا دیا، کیونکہ امریکہ نے بار بار اپنے اقتصادی مفادات، خاص طور پر تیل اور ریل کے شعبوں میں خطرات کے بارے میں تشویش ظاہر کی اور ہوئیرتا کے نظام کے خلاف ممکنہ فوجی مداخلت کی دھمکی دی۔

امریکی فوجی مداخلت

19 اپریل 1914 کو چند امریکی ملاح تامپیکو (Tampico) میکسیکو کے علاقے میں کچھ سامان خریدنے گئے، لیکن ہوئیرتا کے حامی فوجیوں نے انہیں گرفتار کیا اور تحقیقات کے لیے لے گئے، بعد میں انہیں جلد ہی آزاد کر دیا گیا۔

یہ واقعہ امریکی صدر وڈرو ولسن کو شدید غصے میں مبتلا کر گیا، جنہوں نے اپنے میکسیکو کے ہم منصب سے رسمی معافی اور امریکی پرچم کے احترام کا مطالبہ کیا۔ اس کے جواب میں وکٹوریانو ہوئیرتا نے اس مطالبے کو میکسیکو کی توہین قرار دیا اور انکار کر دیا۔

اس کے بعد ولسن نے21 اپریل 1914کو وراکروز کے بندرگاہ پر ایک جنگی بیڑا بھیج دیا۔ چند ہی گھنٹوں میں شدید لڑائیاں شروع ہو گئیں، جو امریکی فوج کی فتح پر ختم ہوئیں، اس دوران 400سے زیادہ میکسیکو کے فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے اور تقریباً 500شہری مارے یا زخمی ہوئے۔

اس فوجی مداخلت کے سیاسی نتائج بھی نمایاں ہوئے، سب سے اہم یہ کہ صدر ہوئیرتا کو داخلی اور بین الاقوامی دباؤ کے باعث استعفی دینا پڑا۔ تمام میکسیکو کی مسلح تحریکیں، چاہے ان کے نظریات مختلف تھے، امریکی مداخلت کی مخالفت میں متحد ہو گئیں، جو انقلاب کے آغاز کے بعد ایک نادر منظر تھا۔

ویراکروز پر امریکی فوجی امریکی پرچم لہرا رہے ہیں
ویراکروز پر امریکی فوجی امریکی پرچم لہرا رہے ہیں

میکسیکو کے لوگ اس قبضے کو اپنی سرزمین کی وحدت کے لیے ایک نیا خطرہ سمجھتے تھے، جو انہیں1948میں واشنگٹن کے سامنے تاریخی نقصان کی یاد دلاتا تھا۔

تقریباً چھ ماہ کے قبضے کے بعد، نومبر1914 میں امریکہ نے وراکروز سے انخلا کرنے کا فیصلہ کیا۔ واشنگٹن میں اس کارروائی کو غیر عقلمندانہ مداخلت قرار دیا گیا، کیونکہ بہت سے امریکی سیاستدانوں کے مطابق اس کے نتائج منفی ثابت ہوئے، ہوئیرتا کو کمزور کرنے کے بجائے، اس نے اس کے مخالفین کو متحد کیا اور میکسیکو میں امریکہ کے خلاف جذبات کو بھڑکا دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں