حیران کن تحقیق: وزن گھٹانے والے انجیکشن کا استعمال بند کرنا ناممکن قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ سے نئی صحت کی رپورٹ کے مطابق جدید وزن کم کرنے والی انجیکشن استعمال کرنے والے آدھے سے زائد افرادعلاج روکنے کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں اپنا کھویا ہوا وزن دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ نتیجہ دوبارہ اس بحث کو جنم دیتا ہے کہ طویل عرصے تک GLP-1 انجیکشنز جیسے اوزیمبیک(Ozembeq) ویگوفی (Wegovy)اور مونجارو (Mounjaro)پر انحصار کتنا محفوظ یا مؤثر ہے۔

امریکی ڈیٹا بیس کے تجزیے کے مطابق جس میں 2010 سے 2024 کے درمیان 1اعشاریہ23 ملین افراد شامل تھے، 58مریضوں نے دوا بند کرنے کے بعد وزن دوبارہ حاصل کر لیا اور کچھ افراد نے صرف ایک سال میں اپنا مکمل کھویا ہوا وزن واپس پا لیا۔

ڈاکٹر مائیکل وینٹروپ نیویارک یونیورسٹی کے ماہر غدد اور اس مطالعے کے مرکزی مصنف ہیں ، انھوںنے کہا کہ نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پہلے کلینیکل ٹرائلز میں یہ سامنے آیا تھا اور یہ نشاندہی کی گئی تھی کہ علاج روکنے کا مطلب عملی طور پر وزن کا دوبارہ واپس آ جاناہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان دوائیوں کے لیے طویل مدتی منصوبے درکار ہیں۔ علاج کا جاری رہنا ہی وزن کو برقرار رکھنے کی ضمانت دیتا ہے، جیسا کہ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے رپورٹ کیا۔

وزن میں تیزی سے کمی کے بعد اس میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے

اس کے علاوہ وہ مطالعہ جو Obesity Week 2025 کے اجلاس میں اٹلانٹا میں پیش کیا گیا، اس نے دکھایا کہ وہ افراد جنہوں نے علاج کے دوران زیادہ وزن کم کیا تھا، وہ علاج روکنے کے بعد سب سے زیادہ تیزی سے وزن دوبارہ حاصل کرنے کے امکانات رکھتے ہیں۔

وزن میں اضافہ کی شرح

اگرچہ مریضوں کی انجیکشن استعمال کرنے کی اوسط مدت تقریباً 8 ماہ تھی، علاج روکنے کے بعد وزن میں اضافہ کی شرح 3 ماہ میں 4اعشاریہ5، 6 ماہ میں 6، اور 12 ماہ میں 7اعشاریہ5رہی۔

دوائیاں جو روکنا ممکن نہیں

پروفیسر جان ابولزان بیننگٹن مرکز برائے غذائی تحقیق ہیں ،انھوںنے کہا کہ نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ دوائیاں بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے علاج کی طرح ہیں۔

ایک بار جب لوگ علاج شروع کر دیتے ہیں تو بغیر نتائج کے رکنا مشکل ہو جاتا ہے۔اگرچہ 40مریضوں نے انجیکشن بند کرنے کے بعد اپنا وزن برقرار رکھا، لیکن محققین اس بات سے مطمئن نہیں کہ یہ وزن برقرار رہنا زندگی کے طرز میں تبدیلی یا دیگر غیر درج شدہ دوائیوں کے استعمال کی وجہ سے ہے یا نہیں۔

صحت کے نظام کے لیے چیلنجز

برطانیہ میں صحت کے اداروں جیسے کہ نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) میں تشویش پیدا کر رہا ہے، خاص طور پر کیونکہ ان کی رہنما ہدایات ان انجیکشنز کو دو سال سے زیادہ استعمال کرنے سے منع کرتی ہیں، جبکہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ علاج روکنے پر وزن دوبارہ بڑھ جاتا ہے۔

تخمینہ لگایا گیا ہے کہ برطانیہ میں ہر 20 میں سے ایک بالغ اس قسم کی وزن کم کرنے والی دوائی استعمال کرتا ہے، جس سے دل کی بیماری، ذیابیطس اور کینسر کے خطرات کم کرنے کی صلاحیت بھی ثابت ہوئی ہے۔

یہ ڈیٹا اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ نے موٹاپے کو کم کرنے کے لیے نئے قوانین نافذ کرنا شروع کیے، جن میں غیر صحت مند کھانوں پر'' ایک خریدیں، ایک مفت پائیں'''کی پیشکش پر پابندی، فری سافٹ ڈرنکس کی دوبارہ بھرائی پر پابندی اور غیر صحت مند کھانوں کے اشتہارات کو رات 9 بجے سے پہلے روکنا شامل ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موٹاپا ایک "قومی بحران" بن چکا ہے، جبکہ 40 سال سے کم عمر کے افراد میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں 39اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں