بلیاں پالنے سے نفسیاتی مسائل کے امکانات بڑھ سکتے ہیں: تحقیق میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایک وسیع تحقیقی تجزیے نے شدید تنازعہ پیدا کر دیا ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلیاں پالنے سے شیزوفرینیا جیسی ذہنی بیماریوں کے خطرات دگنے ہو سکتے ہیں، یہ نتیجہ 44 سالوں میں 11 مغربی ممالک میں کی گئی تحقیقات کے جامع جائزے پر مبنی ہے۔

آسٹریلیا میں'' کویزلینڈ سینٹر فار مینٹل ہیلتھ ریسرچ'' کے ماہر نفسیات ڈاکٹر جان میگرتھ نے یہ تحقیق کی قیادت کی ہے،انھوں نے واضح کیا کہ ان کی ٹیم نے مختلف سالوں میں شائع ہونے والی 17 مطالعات کا جائزہ لیا اور بلیاں پالنے اور شیزوفرینیا سے متعلق ذہنی بیماریوں کے خطرات میں واضح مثبت تعلق پایا۔ انہوں نے زور دیا کہ حتمی نتائج اخذ کرنے سے قبل مزید دقیق تحقیقات ضروری ہیں، جیسا کہ سائنسی ویب سائٹ سائنس الرٹ" نے رپورٹ کیا۔

توکسوپلازماپر تنازعہ

بلیوں اور شیزوفرینیا کے تعلق پر توجہ ایک اہم مطالعے (1995) سے شروع ہوئی، جب یہ امکان سامنے آیا کہ توکسوپلازما گونڈی (Toxoplasma gondii) نامی کیڑا انسانوں میں بلیوں کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ کیڑا صرف بلیوں میں افزائش پاتا ہے، لیکن انسانی جسم میں یہ آلودہ خوراک بلی کے کاٹنے یا فضلے کے رابطے کے ذریعے جا سکتا ہے۔

اندازہ ہے کہ یہ کیڑا امریکہ میں بغیر کسی واضح علامات کے تقریباً 40 ملین افراد کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم مختلف تحقیقات نے اسے رویے میں تبدیلی اور کچھ نفسیاتی امراض جیسے شیزوفرینیا کے بڑھتے ہوئے امکانات سے جوڑا ہے۔
لیکن محققین نے واضح کیا کہ یہ تعلق بلیوں کی براہِ راست وجہ ہونے یا کیڑے کے منتقل ہونے کو بنیادی عنصر ہونے کے ثبوت کے مترادف نہیں ہے۔

متضاد اور حیران کن نتائج

مطالعے سے ایک غیر یکسان تصویر سامنے آیا ہے۔ کچھ مطالعات نے بچپن میں (خصوصاً 9 سے 12 سال کی عمر کے دوران) بلیاں پالنے کو بعد میں بیماری کے خطرات میں اضافے سے جوڑا جبکہ دیگر مطالعات نے اس تعلق کو ثابت نہیں کیا۔

ایک امریکی تحقیق جس میں 354 نفسیات کے طلبہ شامل تھے، اس نے بلیاں پالنے اور شخصیتِ شیزوفرینیا نما کے اسکورز کے درمیان کوئی تعلق نہیں پایا، لیکن اس میں یہ ظاہر ہوا کہ بلی کے کاٹنے کا تجربہ ان اسکورز میں اضافہ سے جڑا ہوا تھا۔

دوسری تحقیق نے اشارہ کیا کہ کچھ بیکٹیریا جیسے Pasteurella multocida نفسیاتی اثرات کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں، نہ کہ صرف توکسوپلازما کیڑا۔

محققین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 17 میں سے 15 مطالعات حالاتی مطالعے (case studies) کی نوعیت کی تھیں، جو براہِ راست سبب اور معلول کا تعلق ثابت نہیں کرتیں۔ علاوہ ازیں اکثر مطالعات نے تمام متاثر کن عوامل جیسے صحت یا ماحولیاتی پس منظر کو کنٹرول نہیں کیا۔

مزید سخت تحقیقی مطالعے کی ضرورت

تنازعے کے باوجود آسٹریلوی ٹیم نے اشارہ دیا کہ موجودہ نتائج مزید سائنسی توجہ کے مستحق ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ یہ تجزیہ ایک ایسا تعلق ظاہر کرتا ہے جو تحقیق کے قابل ہے، لیکن ابھی تک اس سے کوئی رویے یا صحت کے حوالے سے مخصوص سفارشات نہیں کی جا سکتیں۔

ڈاکٹر میگرتھ کے مطابق وسیع پیمانے پر اور مضبوط طریقہ کار پر مبنی مطالعات کی شدید ضرورت ہے، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ آیا بلیاں ذہنی امراض کے خطرے میں کوئی کردار ادا کرتی ہیں یا نہیں۔

یہ تحقیق Schizophrenia Bulletin کے خصوصی جریدے میں شائع ہوئی، جس کے بعد دوبارہ انسانی نفسیاتی صحت میں گھریلو جانوروں کے ممکنہ کردار پر بحث شروع ہو گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size